ایس فصیح ربانی — جولائی 9، 2010 6:53 شام
غزل -
ظلم کی رات ختم ہوجائے
یا مری ذات ختم ھو جائے
جیت کا کھیل کھیلنے والا
بر سرِ مات ختم ہوجائے
ابتری ابتری سی رہتی ھے
جب مساوات ختم ہوجائے
ایسے دل کا علاج کیا جس سے
رنگِ جذبات ختم ہوجائے
موسمِ گل کا ہو چمن میں نزول
غم کی برسات ختم ہوجائے
کیا عجب تلخئ زمانہ بھی
وقت کے ساتھ ختم ہوجائے
پوچھنا پھر کوئی سوال فصیح
جب مری بات ختم ہوجائے
شاہین فصیح ربانی
فاتح — جولائی 9، 2010 9:27 شام
شاہین فصیح ربانی صاحب! بہت خوبصورت غزل ہے۔ مبارک باد اور داد قبول کیجیے۔
محمد وارث — جولائی 10، 2010 11:04 صبح
خوبصورت غزل ہے فصیح صاحب، داد قبول کیجیئے جناب۔
ایسے دل کا علاج کیا جس سے
رنگِ جذبات ختم ہوجائے
واہ واہ واہ، لاجواب!
محمداحمد — جولائی 10، 2010 11:49 صبح
ایسے دل کا علاج کیا جس سے
رنگِ جذبات ختم ہوجائے
واہ ! بہت خوبصورت غزل ہے۔ نذرانہء تحسین حاضرِ خدمت ہے۔
مغزل — جولائی 10، 2010 1:15 شام
عہدِآلات ختم ہوجائے
یہ خرافات ختم ہوجائے
ظلم کی رات ختم ہوجائے
یا مری ذات ختم ھو جائے
جیت کا کھیل کھیلنے والا
بر سرِ مات ختم ہوجائے
ابتری ابتری سی رہتی ھے
جب مساوات ختم ہوجائے
ایسے دل کا علاج کیا جس سے
رنگِ جذبات ختم ہوجائے
موسمِ گل کا ہو چمن میں نزول
غم کی برسات ختم ہوجائے
کیا عجب تلخئ زمانہ بھی
وقت کے ساتھ ختم ہوجائے
پوچھنا پھر کوئی سوال فصیح
جب مری بات ختم ہوجائے
ایس فصیح ربانی صاحب ، سب سے پہلے تو اردو محفل میں صمیمِ قلب سے خوش آمدید، امید ہے آپ سے مراسلت کا شرف حاصل رہے گا، آپ کا کلام نظر نواز ہوا ، ماشا اللہ ، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ بندہ ناچیز کی جناب سے ہدیہ تحسین قبول کیجے ۔ والسلام
حاشیہ: مطلع میں سرخ کردہ لفظ کی بابت توجہ چاہتا ہوں ۔ خرافات ، جمع ہے جبکہ ردیف مفرد ہے ۔اس رو سے مصرع یوں ہونا چاہیے ’’یہ خرافات ختم ہوجائیں ‘‘ ۔۔۔ امید ہے خرافات کے متبادل کوئی لفظ لگا کر آپ شکستِ دریف سے چھٹکارا پالیں گے۔
الف عین — جولائی 10، 2010 5:52 شام
اچھی غزل ہے، بس وہی بات جو محمود نے کہی ہے، مجھے بھی کھٹکی ہے۔
ایس فصیح ربانی — جولائی 12، 2010 6:26 شام
محترم فاتح الدین بشیرصاحب!
اس عنایت کیلیے آپ کا تہہ-دل سے ممنون ہوں۔
ایس فصیح ربانی — جولائی 12، 2010 6:28 شام
محترم محمد وارث صاحب!
آپ کا بہت شکریہ کہ میری حوصلہ افزائی فرمائی۔
ایس فصیح ربانی — جولائی 12، 2010 6:30 شام
جناب محمد احمد صاحب!
آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں' شاد آباد رہیے
ایس فصیح ربانی — جولائی 12، 2010 6:39 شام
محترم جناب م م مغل صاحب!
آپ کا ممغنون ہوں کہ کہ محفل میں خوش آمدید کہا۔
غزل کی پسندیدگی پر بھی آپ کا شکرگزار ہوں۔
آپ کی نشاندہی درست ہے۔ میں یہ شعر ہی غزل سے نکال رہا ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ۔
سرور جاوید صاحب کی محافل میں آپ سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی رہی ہے، لیکن شاید آپ مجھے نہیں پہچان پائیں گے۔ اندو محفل میں آپ کو دیکھ کن بہت چوشی ہوئی۔
ایس فصیح ربانی — جولائی 12، 2010 6:41 شام
محترم جناب الف عین صاحب!
اس عنایت کیلیے آپ کا تہہ-دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
مغزل — جولائی 13، 2010 7:38 صبح
محترم جناب م م مغل صاحب!
آپ کا ممغنون ہوں کہ کہ محفل میں خوش آمدید کہا۔
غزل کی پسندیدگی پر بھی آپ کا شکرگزار ہوں۔
آپ کی نشاندہی درست ہے۔ میں یہ شعر ہی غزل سے نکال رہا ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ۔
سرور جاوید صاحب کی محافل میں آپ سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی رہی ہے، لیکن شاید آپ مجھے نہیں پہچان پائیں گے۔ اندو محفل میں آپ کو دیکھ کن بہت چوشی ہوئی۔
ارے ارے ارے ۔۔ لو بتا ؤ بھلا ، ارے قبلہ پہلے کیوں نہیں بتا یا ۔ ؟؟
محفل میں ’’ تعارف ‘‘ کی لڑی میں اپنا مکمل تعارف پیش کیجے تاکہ دیگر احباب بھی جان سکیں ۔
انشا اللہ آپ سے مراسلت کا شرف حاصل رہے گا۔ سلامت رہیں