غزل - منیب احمد فاتح

منیب احمد فاتح — مئی 11، 2013 1:45 شام
میں کافی عرصے سے خاموش تھا۔ لیکن چند دوست تقاضا کر رہے تھے کہ کچھ شئیر کروں۔ سو آج ووٹ ڈالنے کی قومی ذمہ داری یعنی قطاری مشقت سے فراغت پائی تو جی کیا کہ ان تقاضوں سے بھی فارغ ہو لوں۔ لہذا ایک غزل پیش خدمت ہے۔ کچھ ثقیل ہے اس کے لئے معذرت:
گر شرحِ نقطہ ہائے حکیمانہ چاہیئے​
طبعِ سلیم! عقلِ سلیمانہ چاہیئے​
ہے پردگی ظہور کا سامانِ واقعی​
معبود بہرِ عبد حجابانہ چاہیئے​
مشمولِ اہلِ باغ ہوں ہر چند مثلِ گل​
اک رنگِ خودنمائی جداگانہ چاہیئے​
ہو جائے کشت و خون مبادا رواج کار​
ہر شہر ساتھ جادہِ ویرانہ چاہیئے​
شمعِ کلامِ فاتحِ مجذوب کے لئے​
وارفتگاں میں خوبئ پروانہ چاہیئے​
حسان خان — مئی 11، 2013 2:21 شام
بہت خوب جناب :)
البتہ واقعی مشکل غزل ہے۔ مجھے دوسرا شعر ٹھیک سے سمجھ نہیں آیا۔ مدد درکار ہے۔ :)
منیب احمد فاتح — مئی 11، 2013 4:12 شام
بہت خوب جناب :)
البتہ واقعی مشکل غزل ہے۔ مجھے دوسرا شعر ٹھیک سے سمجھ نہیں آیا۔ مدد درکار ہے۔ :)
شکریہ حسان صاحب!
جہاں تک دوسرے شعر کا معاملہ ہے تو سمجھئے گا کہ اس عالمِ ہستی میں ہر شے اپنا زوج رکھتی ہے جسے تکمیلی جزو کہہ لیجئے۔ (ومن کل شئ خلقنا زوجین 51:48 ) اور جب اس کا اطلاق عالمِ ہستی پر بحیثیت کل کیا جائے تو یہ تکمیلی جزو کاؤنٹر پارٹ کہلاتا ہے۔ گویا ہستی کو ضرور ہے کہ نیستی پر دلالت کرے۔ یہ ہے پہلا مصرعہ:
ہے پردگی ظہور کا سامانِ واقعی
لہذا معبود یعنی خالق کائنات بھی اپنے حجاب سے اپنے آشکار ہونے پر دال ہے۔​
اس کا حجاب کیا ہے؟ اس کا عبد کے حواس کی perception سے بالا ہونا۔​
اس کا آشکار ہونا کیا ہے؟ ان مظاہر کائنات کی جلوہ نمائی سے جلوہ نما ہونا۔​
یہی مدعا اس شعر کا ہے کہ غوطہ فی اللہ میں نہیں؛ فی خلق اللہ میں لگانا چاہیئے۔ اب شعر پڑھیے:​
ہے پردگی ظہور کا سامانِ واقعی
معبود بہرِ عبد حجابانہ چاہیئے
شاید سرور بھی آنے لگے۔ مجھے تو آتا ہے!
حسان خان — مئی 11، 2013 4:19 شام
شکریہ حسان صاحب!
جہاں تک دوسرے شعر کا معاملہ ہے تو سمجھئے گا کہ اس عالمِ ہستی میں ہر شے اپنا زوج رکھتی ہے جسے تکمیلی جزو کہہ لیجئے۔ (ومن کل شئ خلقنا زوجین 51:48 ) اور جب اس کا اطلاق عالمِ ہستی پر بحیثیت کل کیا جائے تو یہ تکمیلی جزو کاؤنٹر پارٹ کہلاتا ہے۔ گویا ہستی کو ضرور ہے کہ نیستی پر دلالت کرے۔ یہ ہے پہلا مصرعہ:
ہے پردگی ظہور کا سامانِ واقعی
لہذا معبود یعنی خالق کائنات بھی اپنے حجاب سے اپنے آشکار ہونے پر دال ہے۔​
اس کا حجاب کیا ہے؟ اس کا عبد کے حواس کی perception سے بالا ہونا۔​
اس کا آشکار ہونا کیا ہے؟ ان مظاہر کائنات کی جلوہ نمائی سے جلوہ نما ہونا۔​
یہی مدعا اس شعر کا ہے کہ غوطہ فی اللہ میں نہیں؛ فی خلق اللہ میں لگانا چاہیئے۔ اب شعر پڑھیے:​
ہے پردگی ظہور کا سامانِ واقعی
معبود بہرِ عبد حجابانہ چاہیئے
شاید سرور بھی آنے لگے۔ مجھے تو آتا ہے!

کیا بات ہے جناب! بہت خوب!
اس شعر میں سامانِ واقعی ایسی ترکیب تھی کہ جس سے پہلے مصرعے کا مطلب مجھ پر اتنا واضح نہیں ہو پا رہا تھا۔
فارقلیط رحمانی — مئی 11، 2013 4:21 شام
انتہائی مشکل کلام!
ناقابل فہم تو نہیں، لیکن خواندگی اول میں فہم سے بالاتر۔
خواندگی ثانی،ثالث کے بعد قدرے سمجھ میں آیا۔
اسے اردو کہیں یا فارسی یا پھر کچھ اور
مشمولِ اہلِ باغ ، مثلِ گل،رنگِ خودنمائی اورشمعِ کلامِ فاتحِ مجذوب
اضافت در اضافت نے کلام کو اور مشکل بنا دیا۔
غالباً موضوع کا تقاضا یہی تھا۔
حسان خان — مئی 11، 2013 4:23 شام
غالباً موضوع کا تقاضا یہی تھا۔

جی جنابِ فارقلیط، اس غزل میں جس طرح کے مضامین باندھے گئے ہیں وہ غالب کی طرز کے ہی متقاضی ہیں۔
لیکن یہ غالب کی قدیم غزلوں سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ مجھے صرف دوسرا شعر سمجھ نہیں آ پا رہا تھا۔ بقیہ اشعار قدرے آسان ہیں، جنہیں تین چار بار غور سے پڑھ کر سمجھ لینا ممکن ہے۔
فارقلیط رحمانی — مئی 11، 2013 4:24 شام
جی جنابِ فارقلیط، اس غزل میں جس طرح کے مضامین باندھے گئے ہیں وہ غالب کی طرز کے ہی متقاضی ہیں۔
جی جناب! بجا فرمایا جناب نے۔
منیب احمد فاتح — مئی 11، 2013 4:32 شام
انتہائی مشکل کلام!
ناقابل فہم تو نہیں، لیکن خواندگی اول میں فہم سے بالاتر۔
خواندگی ثانی،ثالث کے بعد قدرے سمجھ میں آیا۔
اسے اردو کہیں یا فارسی یا پھر کچھ اور
مشمولِ اہلِ باغ ، مثلِ گل،رنگِ خودنمائی اورشمعِ کلامِ فاتحِ مجذوب
اضافت در اضافت نے کلام کو اور مشکل بنا دیا۔
غالباً موضوع کا تقاضا یہی تھا۔

جی فارقلیط رحمانی صاحب، اسے میری نو آموزی سے تعبیر کیجئے۔ ابھی اس قدر زور نہیں کہ جو ذہن میں ہو بعینہ آسان الفاظ میں پیش کر سکوں۔ شاید بلاغت میں کبھی یہ مقام بھی آ جائے۔ فی الحال تو معذور و مجبور ہوں۔
بہرحال حسان خان اور چند دیگر وارفتگاں میں ابھی بھی خوبئ پروانہ ہے :) سو مایوس نہیں۔
الف عین — مئی 12، 2013 7:20 صبح
زبردست منیب احمد فاتح۔ فرصت میں پھر پڑھوں گا
مدیحہ گیلانی — مئی 22، 2013 7:40 شام
مشمولِ اہلِ باغ ہوں ہر چند مثلِ گل​
اک رنگِ خودنمائی جداگانہ چاہیئے
واہ بہت ہی خوب کہا ۔۔۔انداز بہرحال جدا ہے آپکا ۔
جیتے رہیں اور اسی طرح لکھتے رہیں ۔
منیب احمد فاتح — مئی 24، 2013 3:34 صبح
مشمولِ اہلِ باغ ہوں ہر چند مثلِ گل​
اک رنگِ خودنمائی جداگانہ چاہیئے​
واہ بہت ہی خوب کہا ۔۔۔ انداز بہرحال جدا ہے آپکا ۔​
جیتے رہیں اور اسی طرح لکھتے رہیں ۔​

جی ضرور، حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔
محتشم سلمان — مئی 31، 2013 6:20 شام
واہ منیب احمد فاتح صاحب، آپ تو میرے ہم شہر ہیں۔ اور کیا ہی غزل لکھی ہے۔ داد تو یہ ہے کہ ہر لفظ کی وہ نشست جمائی ہے کہ اللہ اکبر!
منیب احمد فاتح — جون 1، 2013 4:41 صبح
واہ منیب احمد فاتح صاحب، آپ تو میرے ہم شہر ہیں۔ اور کیا ہی غزل لکھی ہے۔ داد تو یہ ہے کہ ہر لفظ کی وہ نشست جمائی ہے کہ اللہ اکبر!

بہت شکریہ محتشم صاحب۔ ویسے حیرانی ہے کہ اس غزل کو اب بھی داد دینے والے موجود ہیں! اور خوش آمدید کہ غالبا آپ کل ہی یہاں تشریف لائے ہیں۔
محتشم سلمان — جون 1، 2013 4:44 صبح
بہت شکریہ محتشم صاحب۔ ویسے حیرانی ہے کہ اس غزل کو اب بھی داد دینے والے موجود ہیں! اور خوش آمدید کہ غالبا آپ کل ہی یہاں تشریف لائے ہیں۔

جی بہت شکریہ اور میری داد برحق ہے مبالغہ نہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD.63727/