منیب احمد فاتح — فروری 3، 2017 12:40 شام
چھوٹی سی تازہ غزل۔ رائے دیجیے۔
مراد وجہِ الم ہے کراہتے کیوں ہو؟
جو چاہیے ہی نہیں اُس کو چاہتے کیوں ہو؟
ملاپ قلب کا ہوتا ہے قالبوں کا نہیں
فقط بدن کو بدن سے بیاہتے کیوں ہو؟
منیبؔ ہونٹ بہت خشک ہیں لبِ راوی
اب ایسے صحرا نما سے نباہتے کیوں ہو؟
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 3، 2017 1:02 شام
ملاپ قلب کا ہوتا ہے قالبوں کا نہیں
فقط بدن کو بدن سے بیاہتے کیوں ہو؟
واہ بھائی بہت اعلی
منیب احمد فاتح — فروری 3، 2017 1:14 شام
بہت شکریہ، محترم عدنان بھائی۔ اپنا یہ شعر مجھے بھی بہت پسند ہے۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 3، 2017 1:20 شام
ماشاءاللہ بھائی اللہ کریم آپ کے قلم میں اور میٹھاس عطا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
نایاب — فروری 3، 2017 1:52 شام
واہہہہہ
بہت خوب
یاسیت شاید سرد موسم کا ثمر ہے ۔۔۔۔
بہت دعائیں
منیب احمد فاتح — فروری 3، 2017 2:25 شام
واہہہہہ
بہت خوب
یاسیت شاید سرد موسم کا ثمر ہے ۔۔۔۔
بہت دعائیں
پھر جاڑے کی رت آئی
چھوٹے دن اور لمبی رات
نور وجدان — فروری 3، 2017 2:27 شام
بہت خوب !
منیب احمد فاتح — فروری 3، 2017 3:28 شام
خوب کہنے سے نور آگیں کے
ہو گئی میری یہ غزل پرنور
بہت شکریہ۔
نور وجدان — فروری 3، 2017 3:39 شام
خوب کہنے سے نور آگیں کے
ہو گئی میری یہ غزل پرنور
بہت شکریہ۔
اللہ تعالیٰ آپ کے حُسنِ ظن کو سلامت رکھے ! عنایت ہے اپ کی ، شکر گزار ہوں میں۔
عاطف ملک — فروری 3، 2017 6:57 شام
ملاپ قلب کا ہوتا ہے قالبوں کا نہیں
فقط بدن کو بدن سے بیاہتے کیوں ہو؟
واہ!
بہت خوب
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2017 1:48 صبح
اچھے اشعار ہیں !! بھائی تیسرے شعر میں لبِ دریا کے بجائے لبِ راوی لکھنے کی کوئی خاص وجہ؟! اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ راوی ایک دریا کا نام ہے تو وہ تو شعر کا مطلب نہیں سمجھ پائے گا۔ مشکل میں پڑ جائے گا ۔
منیب احمد فاتح — مارچ 10، 2017 6:15 صبح
اچھے اشعار ہیں !! بھائی تیسرے شعر میں لبِ دریا کے بجائے لبِ راوی لکھنے کی کوئی خاص وجہ؟! اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ راوی ایک دریا کا نام ہے تو وہ تو شعر کا مطلب نہیں سمجھ پائے گا۔ مشکل میں پڑ جائے گا ۔
بالکل صحیح! راوی اس لیے لکھا کیونکہ میرے گھر کے پاس ہی بہتا ہے بلکہ بہنے کی کوشش کرتا ہے۔ آئندہ اس کا خیال رکھوں گا کہ قاری کی معلومات بھی شعر لکھتے وقت ملحوظ رکھوں۔ بہت شکریہ!
منیب احمد فاتح — مارچ 10، 2017 9:21 صبح
بہت شکریہ، عاطف صاحب
