غزل - کچھ غم کی نہیں بات، یہ صدمات کا ہونا

فہد بن خالد — جنوری 1، 2015 5:23 شام
غزل
کچھ غم کی نہیں بات، یہ صدمات کا ہونا
ہے دن کی پیامی بھی یہی رات کا ہونا
دو چار قدم رکھ تو سہی جانبِ منزل
اُس ذات کے پھر دیکھ کمالات کا ہونا
پھر چشم فلک دیکھ کے حیران ہوئی ہے
سر خاک پہ رکھتے ہی کرامات کا ہونا
سو بار نظر ڈال تُو ہر ایک عمل پر
اک روز یقینی ہے مکافات کا ہونا
اس اشک فشانی سے فہدؔ کچھ نہیں حاصل
دنیا کے لئے کافی ہے برسات کا ہونا​
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 2، 2015 2:49 صبح
بہت خوبصورت غزل۔ بہت داد قبول فرمائیے
اردو محفل میں خوش آمدید ۔ تعارف کے زمرے میں اپنا تعارف بھی پیش کیجیے۔
فہد بن خالد — جنوری 4، 2015 3:01 شام
بہت شکریہ جناب۔ داد کا بھی اور ویلکم کا بھی۔ :)
تعارف پیش کر دیا۔ جتنا ہو سکا۔ ملاحظہ کیجیے۔
الف نظامی — جنوری 6، 2015 5:12 صبح
دو چار قدم رکھ تو سہی جانبِ منزل
اُس ذات کے پھر دیکھ کمالات کا ہونا
بہت خوب!
سلمان دانش جی — اپریل 8، 2016 6:00 شام
وا صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%BA%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%D8%8C-%DB%8C%DB%81-%D8%B5%D8%AF%D9%85%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7.79546/