غزل - ہو گئی ہیں لہو لہو آنکھیں

ایس فصیح ربانی — نومبر 13، 2010 4:48 شام
شاہین فصیح ربانی
غزل
پھیر لیتا ہے مجھ سے تو آنکھیں
چھوڑ دیتی ہیں آرزو آنکھیں
کوئی دیوانہ اس کو سمجھے گا
کر رہی ہیں جو گفتگو آنکھیں
پا لیا پھر بھی مدعا میں نے
چپ رہیں میرے روبرو آنکھیں
آئنہ جھوٹ کس طرح بولے
آئی ہیں اس کے روبرو آنکھیں
میں کہاں ان سے بچ کے جاؤں گا
رقص کرتی ہیں چار سو آنکھیں
جو مجھے مست الست کر دے گا
کب پلائیں گی وہ سبو آنکھیں
کون تصویر ہونے والا ہے
ہیں ابھی محوِ جستجو آنکھیں
کرچیاں ہو گئے ہیں خواب فصیح
ہو گئی ہیں لہو لہو آنکھیں
الف عین — نومبر 14، 2010 5:01 صبح
اچگی غزل ہے فصیح۔ پسند آئی۔ ’سمت‘ کے لئے بھی کلام بھیجیں۔ محمود مغل متوجہ ہوں۔ اب میرے لئے تو برقی کتاب کے لئے کلام بھیجنا کافی ہے۔
محمد وارث — نومبر 14، 2010 1:42 شام
خوب غزل ہے فصیح صاحب!
ایس فصیح ربانی — نومبر 14، 2010 5:39 شام
محترم الف عین صاحب!
غزل کی پسندیدگی پر آپ کا ممنون ہوں۔
سمت کے لیے بھی غزل ضرور بھیجوں گا اِن شاء اللہ
ایس فصیح ربانی — نومبر 14، 2010 5:41 شام
محمد وارث صاحب!
آپ کا بہت شکریہ۔ بہت خوش رہیے۔
مغزل — نومبر 15، 2010 11:30 صبح
رسید حاضر ہے میں نے محفوظ کرلی ہے بابا جانی ۔ شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%84%DB%81%D9%88-%D9%84%DB%81%D9%88-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA.32164/