غزل _ زلفِ لیلیٰ کا خَم نکلتا ہے

عظیم — اکتوبر 23، 2016 4:23 شام

زلفِ لیلیٰ کا خَم نکلتا ہے
اور مجنوں کا دَم نکلتا ہے
دِل کو جتنا بھی چِیر کر دیکھو
آپ کا ہی تو غم نکلتا ہے
اُن کی یہ چھیڑ چھاڑ ہے ہم سے
ہم غریبوں کا دَم نکلتا ہے
ہم جو خُوشیوں کا نام لیتے ہیں
مُنہ سے اِک لفظ غم نکلتا ہے
زندگی دَم ہی بھر کی دی ہوتی
دَم بھی تو ایک دَم نکلتا ہے
مرنے والا کہاں ہے یہ صاحبؔ
آج کل گھر سے کم نکلتا ہے
اگست 10، 2014
*****

نایاب — اکتوبر 23، 2016 4:42 شام
واہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت دعائیں
عظیم — اکتوبر 23، 2016 6:10 شام
واہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت دعائیں

بہت شکریہ میرے بھائی، آپ کے لئے بھی بہت سی دعائیں..
الف عین — اکتوبر 23، 2016 7:48 شام
ماشاء اللہ، تمہاری اچھی غزلوں میں سے ایک۔
عظیم — اکتوبر 24، 2016 2:14 صبح
ماشاء اللہ، تمہاری اچھی غزلوں میں سے ایک۔
جی بابا..
علی امان — اکتوبر 24، 2016 11:05 صبح
ہم جو خُوشیوں کا نام لیتے ہیں
مُنہ سے اِک لفظ غم نکلتا ہے
واہ واہ، کہا کہنے۔ اچھا شعر ہے۔
میں اسے یوں پڑھنا چاہوں گا:
ہم خوشی کا جو نام لیتے ہیں
منہ سے اک لفظِ غم نکلتا ہے
الف عین — اکتوبر 24، 2016 9:07 شام
واہ واہ، کہا کہنے۔ اچھا شعر ہے۔
میں اسے یوں پڑھنا چاہوں گا:
ہم خوشی کا جو نام لیتے ہیں
منہ سے اک لفظِ غم نکلتا ہے
یقیناً اب بہتر ہو گیا۔
عظیم — اکتوبر 25، 2016 2:33 صبح
واہ واہ، کہا کہنے۔ اچھا شعر ہے۔
میں اسے یوں پڑھنا چاہوں گا:
ہم خوشی کا جو نام لیتے ہیں
منہ سے اک لفظِ غم نکلتا ہے

بہت شکریہ علی امان..

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-_-%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%90-%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0-%DA%A9%D8%A7-%D8%AE%D9%8E%D9%85-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.92672/