غزل ،،،،،، نجم الحسن کا ظمی

نجم الحسن کاظمی — جون 9، 2012 2:59 شام
لگتا تھا کہ خُورشیدِقیامت نکل آیا
یہ داغِ جگر تابِ محبت نکل آیا
وہ شوخ کہ جو خود کو بچاتا پھرا مجھ سے
تقدیر ، کہ میں اُسکی ضرورت نکل آیا
اُس چہرے کے اوراق پہ ڈالیں جونگاہیں
آواز سے اندازِ تلاوت نکل آیا
شمشاد — جون 9، 2012 3:08 شام
کاظمی صاحب میں نے عنوان میں سے آپ کا فون نمبر حذف کر دیا ہے کہ اردو محفل میں ذاتی فون نمبر، ای میل وغیرہ دینا مناسب نہیں۔ اگر کسی رکن کو ذاتی طور پر ایسی معلومات درکار ہوں تو ذاتی گفتگو کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔
الف عین — جون 9، 2012 5:01 شام
ماشاء اللہ اچھے اشعار ہیں۔
محمد وارث — جون 10، 2012 4:05 شام
خوب اشعار ہیں جناب کاظمی صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%8C%D8%8C%D8%8C%D8%8C%D8%8C%D8%8C-%D9%86%D8%AC%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%B8%D9%85%DB%8C.51945/