غزل: آئینہ مجھ کو پس و پیش میں تکتا کیوں ہے

عرفان علوی — فروری 11، 2023 8:09 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
صابرہ امین بہن کی ایک حالیہ غزل نے مجھے اپنی ایک غزل کی یاد دلا دی جو میں نے سال ۲۰۰۴ء میں کہی تھی . ان کی فرمائش پر وہ غزل پیش ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
آئینہ مجھ کو پس و پیش میں تکتا کیوں ہے
مجھ میں خامی ہے تو کہنے میں جھجکتا کیوں ہے
جستجو جس کی ہو ایسا تو نہیں کچھ مجھ میں
ایک سایہ مرے اطراف بھٹکتا کیوں ہے
تجھ سے کچھ ربط نہیں ہے تو بھلا تیرا خیال
پھول بن کر مری سانسوں میں مہکتا کیوں ہے
تو نے خود راہِ محبت کو چُنا تھا ، اے دِل
اب یہ تنہائی میں راتوں کی سسکتا کیوں ہے
کون آئیگا مرے پاس ، کسے فرصت ہے
دِلِ دیوانہ ہر آہٹ پہ دھڑکتا کیوں ہے
واقفِ عشق نہیں جو وہ بھلا کیا جانے
موت كے منہ میں بھی پروانہ تھرکتا کیوں ہے
بے ضرر ذرّۂ خاشاک سا میرا یہ وجود
جانے احباب کی آنكھوں میں کھٹکتا کیوں ہے
جیتے جی لاش کی مانند کوئی ہو جائے
اِس قدر جسم رہِ دہر میں تھکتا کیوں ہے
کیسے مانوں کہ بہت خوش ہو یہاں تم عابدؔ
غم نہیں ہے تو پِھر آنكھوں سے ٹپکتا کیوں ہے
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
الف عین — فروری 12، 2023 4:53 صبح
واہ، کیا اچھی غزل ہے
مطلع پر شہریار یاد آ گئے
کیا کوئی نئی بات نظر آئی ہے مجھ میں
آئینہ مجھے دیکھ کے حیران سا کیوں ہے
ظہیراحمدظہیر — فروری 12، 2023 5:58 صبح
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں ، عرفان بھائی! داد قبول کیجیے۔
مطلع پڑھ کر ایک سوال ذہن میں آتا ہے: "کہنے میں جھجکتا کیوں ہے" کے بجائے "کہنے سے جھجکتا کیوں ہے" بہتر نہیں ہوگا ؟! مقبولِ عام محاورہ تو" کسی چیز سے جھجکنا"ہے ۔
عرفان علوی — فروری 12، 2023 4:58 شام
واہ، کیا اچھی غزل ہے
مطلع پر شہریار یاد آ گئے
کیا کوئی نئی بات نظر آئی ہے مجھ میں
آئینہ مجھے دیکھ کے حیران سا کیوں ہے
محترم اعجاز صاحب ، حوصلہ افزائی كے لیے ممنون ہوں . بہت بہت شکریہ !
صابرہ امین — فروری 12، 2023 5:03 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
صابرہ امین بہن کی ایک حالیہ غزل نے مجھے اپنی ایک غزل کی یاد دلا دی جو میں نے سال ۲۰۰۴ء میں کہی تھی . ان کی فرمائش پر وہ غزل پیش ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
آئینہ مجھ کو پس و پیش میں تکتا کیوں ہے
مجھ میں خامی ہے تو کہنے میں جھجکتا کیوں ہے
جستجو جس کی ہو ایسا تو نہیں کچھ مجھ میں
ایک سایہ مرے اطراف بھٹکتا کیوں ہے
تجھ سے کچھ ربط نہیں ہے تو بھلا تیرا خیال
پھول بن کر مری سانسوں میں مہکتا کیوں ہے
تو نے خود راہِ محبت کو چُنا تھا ، اے دِل
اب یہ تنہائی میں راتوں کی سسکتا کیوں ہے
کون آئیگا مرے پاس ، کسے فرصت ہے
دِلِ دیوانہ ہر آہٹ پہ دھڑکتا کیوں ہے
واقفِ عشق نہیں جو وہ بھلا کیا جانے
موت كے منہ میں بھی پروانہ تھرکتا کیوں ہے
بے ضرر ذرّۂ خاشاک سا میرا یہ وجود
جانے احباب کی آنكھوں میں کھٹکتا کیوں ہے
جیتے جی لاش کی مانند کوئی ہو جائے
اِس قدر جسم رہِ دہر میں تھکتا کیوں ہے
کیسے مانوں کہ بہت خوش ہو یہاں تم عابدؔ
غم نہیں ہے تو پِھر آنكھوں سے ٹپکتا کیوں ہے
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
عمدہ اشعار سے مزین غزل۔
آپ نے قوافی کا استعمال نہایت اچھے انداز سے کیا ہے۔
بیس سال پہلے بھی آپ کی شاعری اتنی ہی متاثر کن تھی جتنی کہ اب ہے۔ ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
عرفان علوی — فروری 12، 2023 5:10 شام
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں ، عرفان بھائی! داد قبول کیجیے۔
مطلع پڑھ کر ایک سوال ذہن میں آتا ہے: "کہنے میں جھجکتا کیوں ہے" کے بجائے "کہنے سے جھجکتا کیوں ہے" بہتر نہیں ہوگا ؟! مقبولِ عام محاورہ تو" کسی چیز سے جھجکنا"ہے ۔
ظہیر بھائی ، آپ کی گراں قدر داد کا دلی شکریہ ! میری نگاہ سے ’میں جھجکنا‘ اور ’سے جھجکنا‘ دونوں گزرے ہیں . ’میں جھجکنا‘ کی ایک مثال دیکھیے :
اسے معلوم تھا اک موج مرے سَر میں ہے
وہ جھجکتا تھا مجھے حکمِ سفر دینے میں ( راجندر منچندا بانیؔ )
لیکن غور کرنے پر احساس ہوا کہ ’سے جھجکنا‘ زیادہ روا ہے . لہٰذا آپ کی بات سے متفق ہوں .
سید عاطف علی — فروری 12، 2023 5:22 شام
جستجو جس کی ہو ایسا تو نہیں کچھ مجھ میں
ایک سایہ مرے اطراف بھٹکتا کیوں ہے
واہ ۔ بہت عمدہ بیان ۔علوی صاحب ۔ خوب اشعار ہیں ۔
عرفان علوی — فروری 12، 2023 5:24 شام
عمدہ اشعار سے مزین غزل۔
آپ نے قوافی کا استعمال نہایت اچھے انداز سے کیا ہے۔
بیس سال پہلے بھی آپ کی شاعری اتنی ہی متاثر کن تھی جتنی کہ اب ہے۔ ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
صابرہ بہن ، ذرہ نوازی کا بہت بہت شکریہ ! یہ تو آپ جیسے فراخ دِل قارئین ہیں جنہیں میری تکبندیاں پسند آ جاتی ہیں ، ورنہ میں تو احباب کی اعلیٰ شاعری پڑھ کر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاعری چھوڑ کر کوئی اور کام کروں . :)
ایس ایس ساگر — فروری 12، 2023 5:26 شام
واہ۔ بہت خوب۔ عمدہ غزل ہے عرفان علوی بھائی۔
سلامت رہیئے۔ آمین۔
عرفان علوی — فروری 12، 2023 5:27 شام
واہ ۔ بہت عمدہ بیان ۔علوی صاحب ۔ خوب اشعار ہیں ۔
عاطف بھائی ، بہت نوازش ! جزاک اللہ .
عرفان علوی — فروری 12، 2023 5:30 شام
واہ۔ بہت خوب۔ عمدہ غزل ہے عرفان علوی بھائی۔
سلامت رہیئے۔ آمین۔
ساگر صاحب ، آپ کی داد ہمیشہ کی طرح باعث صد مسرت ہے . بہت بہت شکریہ !
صابرہ امین — فروری 13، 2023 8:55 شام
صابرہ بہن ، ذرہ نوازی کا بہت بہت شکریہ ! یہ تو آپ جیسے فراخ دِل قارئین ہیں جنہیں میری تکبندیاں پسند آ جاتی ہیں ، ورنہ میں تو احباب کی اعلیٰ شاعری پڑھ کر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاعری چھوڑ کر کوئی اور کام کروں . :)
آپ بہت عمدہ شاعری کرتے ہیں جو دل پر اثر کرتی ہے۔ چھوڑنے کا ارادہ ہے تو فورا ترک کر دیجیئے۔ اچھا شاعر ہونا تو خوش نصیبی ہے آپکی۔
عرفان علوی — فروری 18، 2023 4:49 شام
آپ بہت عمدہ شاعری کرتے ہیں جو دل پر اثر کرتی ہے۔ چھوڑنے کا ارادہ ہے تو فورا ترک کر دیجیئے۔ اچھا شاعر ہونا تو خوش نصیبی ہے آپکی۔
صابرہ بہن ، آپ كے پر محبت کلمات میرے لیے بے حد ہمت افزا اور قیمتی ہیں . جزاک اللہ .
محمداحمد — فروری 20، 2023 12:50 شام
سبحان اللہ بہت ہی خوب غزل ہے عرفان بھائی
بہت اچھے اشعار ہیں۔ بلکہ سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
بہت داد قبول کیجے۔ :redheart:
محمداحمد — فروری 20، 2023 12:52 شام
اسے معلوم تھا اک موج مرے سَر میں ہے
وہ جھجکتا تھا مجھے حکمِ سفر دینے میں ( راجندر منچندا بانیؔ )

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مذکورہ شاعر نے ردیف کی مجبوری کی وجہ سے "سے"کے بجائے "میں" استعمال کیا ہو۔
عرفان علوی — فروری 22، 2023 3:45 صبح
سبحان اللہ بہت ہی خوب غزل ہے عرفان بھائی
بہت اچھے اشعار ہیں۔ بلکہ سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
بہت داد قبول کیجے۔ :redheart:
احمد بھائی ، کرم فرمائی اور حوصلہ افزائی كے لیے بے حد ممنون ہوں . جزاک اللہ .
عرفان علوی — فروری 22، 2023 3:46 صبح
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مذکورہ شاعر نے ردیف کی مجبوری کی وجہ سے "سے"کے بجائے "میں" استعمال کیا ہو۔
بجا فرمایا .
محمد عبدالرؤوف — فروری 22، 2023 7:10 صبح
بہت خوب عرفان بھائی، خوبصورت غزل ہے
عرفان علوی — فروری 25، 2023 6:31 شام
بہت خوب عرفان بھائی، خوبصورت غزل ہے
روفی بھائی ، پذیرائی كے لیے بے حد احسان مند ہوں . جزاک اللہ !
جاسمن — مئی 8، 2023 4:17 صبح
صابرہ بہن ، ذرہ نوازی کا بہت بہت شکریہ ! یہ تو آپ جیسے فراخ دِل قارئین ہیں جنہیں میری تکبندیاں پسند آ جاتی ہیں ، ورنہ میں تو احباب کی اعلیٰ شاعری پڑھ کر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاعری چھوڑ کر کوئی اور کام کروں . :)

:unsure:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%D9%BE%D8%B3-%D9%88-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%A9%D8%AA%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DB%81%DB%92.119275/