غزل: آدم کے ساتھ اتری تھی حوّا بھی کل یہاں

جاسمن — جولائی 13، 2025 10:23 صبح
آواز دوں تو بند ہیں رستے سبھی یہاں
چلنے لگوں تو ملتے نہیں پاؤں کے نشاں
منزل تلک تو آنکھ کی بینائی ساتھ تھی
منزل ملی تو ہوتی ہیں محسوس کرچیاں
لوگوں نے تجھ سے پہلے مجھے دیں عقیدتیں
رُسوا ہوئے تو کھول دیں سب ہی نے کھڑکیاں
آؤ کبھی تو چاہنے والوں کے شہر میں
دِل کی ہراک گلی میں ملے تم کو کہکشاں
ہے مرد ہی کا راج یہ انصاف تو نہیں
آدم کے ساتھ اُتری تھی حوّا بھی کل یہاں
سمجھی تھی راہِ حق میں ہوں تنہا میں دوستو
رستے پہ جب چلی تو ملے خون کے نشاں
وہ آ چکا ہے لیکن ابھی تک اے جاسمن
باقی ہیں مری ذات کی قاتل اداسیاں
جاسمن
نوٹ: یہاں تصحیح ہوئی۔
بی اے/کالج کے دور کی غزل. اس وقت ایک ڈائجسٹ میں بھی اصلاح کے بغیر چھپی تھی۔
مریم افتخار — جولائی 13، 2025 10:33 صبح
بہت خوب صورت اشعار ہیں جاسمن بجو، بہت سی داد قبول فرمائیں!
سیما علی — جولائی 13، 2025 10:44 صبح
ہے مرد ہی کا راج یہ انصاف تو نہیں
آدم کے ساتھ اُتری تھی حوّا بھی کل یہاں
واہ واہ واہ
ڈھیروں داد و تحسین
سیما علی — جولائی 13، 2025 10:46 صبح
منزل تلک تو آنکھ کی بینائی ساتھ تھی
منزل ملی تو ہوتی ہیں محسوس کرچیاں
بہت اعلیٰ
جاسمن بٹیا جیتی رہیے۔۔
الف عین — جولائی 13، 2025 7:29 شام
یہ غزل مجھے واقعی یاد نہیں رہی تھی!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A2%D8%AF%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D8%A7%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%AD%D9%88%D9%91%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D9%84-%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA.121739/