غزل: آدھی رات کی تنہائی کا ۔۔۔

محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 7، 2022 9:16 صبح
عزیزان من، آداب!
ایک اور پرانی اور عامیانہ سی غزل پیشِ خدمت ہے۔ جب تک کچھ نیا لکھنے کی تحریک نہیں ہوتی ۔۔۔ پرانے سے ہی کام چلا لیجیے ۔۔۔کہ کسی طرح تو گلشن کا کاروبار چلے!
کچھ اور عرصہ یہاں جمود طاری رہا تو دمے کے مریض تو گردی کی دبیز تہوں کے ڈر سے یہاں کا رخ ہی نہ کرسکیں گے ۔۔۔اور زیک کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا :)
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھی رات کی تنہائی کا ساتھی بس تھا اس کا غم
کیسے اس کو چھوڑتے جو انمول تھا یارا اس کا غم
دیکھ، مجھے تو چھوڑ دے میرے حال پر اب، اور غم مت کر
ہاں میں خوش ہوں!اب ہے میری پوری دنیا اس کا غم!
کس نے تم سے یہ کہہ ڈالا، بھول گیا سب، بدلا میں
دیکھو اب بھی نم آنکھوں سے جھانک رہا تھا اس کا غم!
اس کو آگے بڑھتا دیکھ کے خوش ہیں، وہ آباد رہے
اپنا کیا ہے! وہیں پڑے ہیں اور پرانا اس کا غم
میں پھر بھی پہچان گیا اس کو، گرچہ تھے دھندلے نقش
یادوں کے صندوق سے تھا جب آج نکالا اس کا غم
دیکھنا اس کے چہرے پر شاید رونق واپس آجائے
وقت کی اڑتی دھول تلے جب چھپ جائے گا اس کا غم
اتنے برسوں بعد بھی راحلؔ، ہے اپنا معمول وہی
شام کی چائے، جلتا سگرٹ، اور سلگتا اس کا غم!
۔۔۔
محمداحمد — مارچ 7، 2022 9:56 صبح
بہت خوب احسن بھائی!
اس کو آگے بڑھتا دیکھ کے خوش ہیں، وہ آباد رہے
اپنا کیا ہے! وہیں پڑے ہیں اور پرانا اس کا غم
خوب!
اتنے برسوں بعد بھی راحلؔ، ہے اپنا معمول وہی
شام کی چائے، جلتا سگرٹ، اور سلگتا اس کا غم!
عمدہ!
یہاں پر ڈسکلیمر ہونا چاہیے کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے۔ :)
صابرہ امین — مارچ 7، 2022 10:30 صبح
خوبصورت غزل۔ واہ
کس نے تم سے یہ کہہ ڈالا، بھول گیا سب، بدلا میں
دیکھو اب بھی نم آنکھوں سے جھانک رہا تھا اس کا غم!
اس کو آگے بڑھتا دیکھ کے خوش ہیں، وہ آباد رہے
اپنا کیا ہے! وہیں پڑے ہیں اور پرانا اس کا غم
بہت عمدہ۔ داد قبول کیجیے ۔
محمد عبدالرؤوف — مارچ 7، 2022 11:40 صبح
بہت خوب احسن بھائی!
اچھے اشعار ہیں ماشاءاللہ، جی۔۔۔ بزم سخن کو آباد رکھیے اور "کسی" کو خوش ہونے کا موقع نہ دیجیے گا۔ 😊
محمد شکیل خورشید — مارچ 7، 2022 11:54 صبح
اتنے برسوں بعد بھی راحلؔ، ہے اپنا معمول وہی
شام کی چائے، جلتا سگرٹ، اور سلگتا اس کا غم!
بہت ہی اعلیٰ راحل بھائی،
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 8، 2022 11:40 صبح
بہت خوب احسن بھائی!
خوب!
عمدہ!
یہاں پر ڈسکلیمر ہونا چاہیے کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے۔ :)
ہمارے اساتذہ نے تو شراب تک پر وارننگ نہیں دی ۔۔۔ پھر ہم سے سگرٹ پر ڈسکلیمر کی توقع کیوں؟ :)
داد و پذیرائی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 8، 2022 11:41 صبح
خوبصورت غزل۔ واہ
بہت عمدہ۔ داد قبول کیجیے ۔
بہت شکریہ صابرہ بہن ۔۔۔ غزل پسند کرنے کے لیے ممنون و متشکر ہوں۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 8، 2022 11:42 صبح
بہت خوب احسن بھائی!
اچھے اشعار ہیں ماشاءاللہ، جی۔۔۔ بزم سخن کو آباد رکھیے اور "کسی" کو خوش ہونے کا موقع نہ دیجیے گا۔ 😊
بہت شکریہ بھائی عبدالروؤف ۔۔۔ داد و پذیرائی کے لیے ممنون احسان ہوں۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 8، 2022 11:43 صبح
بہت ہی اعلیٰ راحل بھائی،
جزاک اللہ شکیلؔ بھائی ۔۔۔ غزل پسند فرمانے کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
محمداحمد — مارچ 8، 2022 12:54 شام
ہمارے اساتذہ نے تو شراب تک پر وارننگ نہیں دی ۔۔۔ پھر ہم سے سگرٹ پر ڈسکلیمر کی توقع کیوں؟ :)

بھئی شراب کے پیچھے تو ایک پورا پس منظر ہے۔ صراحی، شیشہ، ساقی۔
اور جب کوئی تنقید کرے تو کہیے کہ جناب یہ تو عشقِ حقیقی کے استعارے ہیں۔ اور ساقی سے ہماری مراد وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے۔ :) :)
لیکن سگریٹ ؟ اس کو جسٹی فائی کرنا ذرا دشوار ہو جائے گا۔
محمد عبدالرؤوف — مارچ 8، 2022 12:57 شام
بھئی شراب کے پیچھے تو ایک پورا پس منظر ہے۔ صراحی، شیشہ، ساقی۔
اور جب کوئی تنقید کرے تو کہیے کہ جناب یہ تو عشقِ حقیقی کے استعارے ہیں۔ اور ساقی سے ہماری مراد وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے۔ :) :)
لیکن سگریٹ ؟ اس کو جسٹی فائی کرنا ذرا دشوار ہو جائے گا۔
بات تو واقعی پتے کی ہے۔جیسا کہ چچا غالب فرماتے ہیں۔
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
عرفان علوی — مارچ 10، 2022 5:22 صبح
عزیزان من، آداب!
ایک اور پرانی اور عامیانہ سی غزل پیشِ خدمت ہے۔ جب تک کچھ نیا لکھنے کی تحریک نہیں ہوتی ۔۔۔ پرانے سے ہی کام چلا لیجیے ۔۔۔کہ کسی طرح تو گلشن کا کاروبار چلے!
کچھ اور عرصہ یہاں جمود طاری رہا تو دمے کے مریض تو گردی کی دبیز تہوں کے ڈر سے یہاں کا رخ ہی نہ کرسکیں گے ۔۔۔اور زیک کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا :)
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھی رات کی تنہائی کا ساتھی بس تھا اس کا غم
کیسے اس کو چھوڑتے جو انمول تھا یارا اس کا غم
دیکھ، مجھے تو چھوڑ دے میرے حال پر اب، اور غم مت کر
ہاں میں خوش ہوں!اب ہے میری پوری دنیا اس کا غم!
کس نے تم سے یہ کہہ ڈالا، بھول گیا سب، بدلا میں
دیکھو اب بھی نم آنکھوں سے جھانک رہا تھا اس کا غم!
اس کو آگے بڑھتا دیکھ کے خوش ہیں، وہ آباد رہے
اپنا کیا ہے! وہیں پڑے ہیں اور پرانا اس کا غم
میں پھر بھی پہچان گیا اس کو، گرچہ تھے دھندلے نقش
یادوں کے صندوق سے تھا جب آج نکالا اس کا غم
دیکھنا اس کے چہرے پر شاید رونق واپس آجائے
وقت کی اڑتی دھول تلے جب چھپ جائے گا اس کا غم
اتنے برسوں بعد بھی راحلؔ، ہے اپنا معمول وہی
شام کی چائے، جلتا سگرٹ، اور سلگتا اس کا غم!
۔۔۔
اچھی غزل ہے ، راحل صاحب ! مقطع سے سگریٹ کو خارج کر دیں تو میرا بھی یہی معمول ہے ! :)
محمداحمد — مارچ 10، 2022 6:31 صبح
اچھی غزل ہے ، راحل صاحب ! مقطع سے سگریٹ کو خارج کر دیں تو میرا بھی یہی معمول ہے ! :)

اور اگر سلگتا ہوا غم بھی خارج ہو سکے تو بات ہمارے معمول تک پہنچ جائے گی۔ :)
ایس ایس ساگر — مارچ 11، 2022 2:22 شام
آدھی رات کی تنہائی کا ساتھی بس تھا اس کا غم
کیسے اس کو چھوڑتے جو انمول تھا یارا اس کا غم
دیکھ، مجھے تو چھوڑ دے میرے حال پر اب، اور غم مت کر
ہاں میں خوش ہوں!اب ہے میری پوری دنیا اس کا غم!
کس نے تم سے یہ کہہ ڈالا، بھول گیا سب، بدلا میں
دیکھو اب بھی نم آنکھوں سے جھانک رہا تھا اس کا غم!
اس کو آگے بڑھتا دیکھ کے خوش ہیں، وہ آباد رہے
اپنا کیا ہے! وہیں پڑے ہیں اور پرانا اس کا غم
میں پھر بھی پہچان گیا اس کو، گرچہ تھے دھندلے نقش
یادوں کے صندوق سے تھا جب آج نکالا اس کا غم
دیکھنا اس کے چہرے پر شاید رونق واپس آجائے
وقت کی اڑتی دھول تلے جب چھپ جائے گا اس کا غم
اتنے برسوں بعد بھی راحلؔ، ہے اپنا معمول وہی
شام کی چائے، جلتا سگرٹ، اور سلگتا اس کا غم!
واہ۔ بہت عمدہ غزل۔ کیا بات ہے احسن بھائی۔
بہت خوبصورت اشعار۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔
یاسر شاہ — جون 12، 2022 11:06 صبح
السلام علیکم
کہاں ہیں بھائی ؟
عمدہ غزل ہے -نہ جعلی غالب، نہ جعلی میر، نہ جعلی اقبال ،راحل کی غزل سے راحل ہی جھلکتا ہے -
بس مطلع کا دوسرا مصرع کمزور ہے بہت -اسے دوبارہ دیکھ لیں -
محمد شکیل خورشید — جون 12، 2022 8:29 شام
بہت خوب راحل بھائی، اعلیٰ
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2022 9:48 صبح
السلام علیکم
کہاں ہیں بھائی ؟
عمدہ غزل ہے -نہ جعلی غالب، نہ جعلی میر، نہ جعلی اقبال ،راحل کی غزل سے راحل ہی جھلکتا ہے -
بس مطلع کا دوسرا مصرع کمزور ہے بہت -اسے دوبارہ دیکھ لیں -
بس ذرا دفتری امور میں مصروف ہوں ایک دو ماہ سے.
داد و پذیرائی کے لیے شکر گزار ہوں. جزاک اللہ.
آپ سنائیں، کیا احوال ہیں؟ آپ بھی کافی عرصہ بعد نظر آئے. سب خیریت رہی؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 15، 2022 9:48 صبح
بہت خوب راحل بھائی، اعلیٰ
بہت شکریہ شکیل بھائی ... جزاک اللہ
یاسر شاہ — جون 17، 2022 2:43 شام
بس ذرا دفتری امور میں مصروف ہوں ایک دو ماہ سے.
داد و پذیرائی کے لیے شکر گزار ہوں. جزاک اللہ.
آپ سنائیں، کیا احوال ہیں؟ آپ بھی کافی عرصہ بعد نظر آئے. سب خیریت رہی؟
الحمدللہ سب خیریت و عافیت ہے۔آپ کی دعا چاہیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A2%D8%AF%DA%BE%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%DB%94%DB%94%DB%94.118204/