غزل : اب میسر اک سہولت ہو گئی ہے

توقیر عالم — مارچ 11، 2019 2:25 شام
اب میسر اک سہولت ہو گئی ہے
بھول جانا میری عادت ہو گئی ہے
بے حجابانہ نکل آیا ہے گھر سے
شہر میں برپا قیامت ہو گئی ہے
اب سرِ طورِ محبت کون جائے
اب محبت بھی تجارت ہو گئی ہے
آج پھر سے یاد وہ آنے لگا ہے
جس کو بچھڑے ایک مدت ہو گئی ہے
ہم جسے بے پردگی کہتے تھے کل تک
آج وہ اپنی ثقافت ہو گئی ہے
توقیر عالم
الف عین — مارچ 12، 2019 3:21 شام
ماشاء اللہ۔ اچھی غزل ہے
لاریب مرزا — مارچ 12، 2019 3:23 شام
بہت خوب!!
توقیر عالم — مارچ 12، 2019 3:29 شام
ماشاء اللہ۔ اچھی غزل ہے

سر سلامت رہیں ❤❤❤❤
توقیر عالم — مارچ 12، 2019 3:29 شام

سلامت رہو
محمد فہد — مارچ 13، 2019 4:08 شام
اب سرِ طورِ محبت کون جائے
اب محبت بھی تجارت ہو گئی ہے
بہت عمدہ اور خوبصورت لکھتے ہیں
اللہ سوہنا، آپ کو سدا سلامت اور خوش رکھے ہر دکھ سے دور رکھے ترقیاں کامیابیاں اور ہر نعمت سے نوازیں آمین یارب ۔۔
عرفان سعید — مارچ 13، 2019 4:10 شام
بے حجابانہ نکل آیا ہے گھر سے
شہر میں برپا قیامت ہو گئی ہے
واہ واہ!
توقیر عالم — مارچ 14، 2019 12:52 شام
بہت عمدہ اور خوبصورت لکھتے ہیں
اللہ سوہنا، آپ کو سدا سلامت اور خوش رکھے ہر دکھ سے دور رکھے ترقیاں کامیابیاں اور ہر نعمت سے نوازیں آمین یارب ۔۔

اللہ آپکو اپنی ہر نعمت سے نوازے اور غم سے دور رکھے
سلامت رہیں
توقیر عالم — مارچ 14، 2019 12:52 شام
سلامت رہیں اللہ خوش رکھے
سردار محمد نعیم — مارچ 14، 2019 1:16 شام
ہم جسے بے پردگی کہتے تھے کل تک
آج وہ اپنی ثقافت ہو گئی ہے
توقیر عالم
واہ واہ بہت خوب !!!
توقیر عالم — مارچ 15، 2019 2:48 صبح
سلامتی ہو
یاسر شاہ — مارچ 15، 2019 5:05 صبح
توقیر صاحب السلام علیکم ! اچھی غزل ہے -
یہ بحر عربی میں زیادہ مستعمل ہے ،اردو میں کم -یہی وجہ ہے کہ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن کے مقابلے میں اس میں کم روانی محسوس ہوتی ہے یعنی
اب میسر اک سہولت ہو گئی ہے
بھول جانا میری عادت ہو گئی ہے
کے مقابلے میں
اب میسر اک سہولت ہو گئی
بھول جانا میری عادت ہو گئی
زیادہ رواں محسوس ہوتا ہے -
اسی موخر الذکر شعر کی زمین و بحر میں مجذوب علیہ الرحمہ کی مشہور غزل بھی ہے :
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئی
-----
خیر آپ کا تجربہ بھی خوب رہا -
محمد فہد — مارچ 15، 2019 2:18 شام
اللہ آپکو اپنی ہر نعمت سے نوازے اور غم سے دور رکھے
سلامت رہیں

آمین یارب جزاک اللہ خیر
محمداحمد — مارچ 16، 2019 1:38 شام
اب سرِ طورِ محبت کون جائے
اب محبت بھی تجارت ہو گئی ہے
ہم جسے بے پردگی کہتے تھے کل تک
آج وہ اپنی ثقافت ہو گئی ہے

بہت خوب!
عمدہ اشعار توقیر صاحب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%D8%B3%D8%B1-%D8%A7%DA%A9-%D8%B3%DB%81%D9%88%D9%84%D8%AA-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C-%DB%81%DB%92.105915/