غزل: اتنا با اختیار ہو گیا ہوں (مہدی نقوی حجازؔ)

مہدی نقوی حجاز — مئی 9، 2014 4:19 شام
غزل
زندگی سے فرار ہو گیا ہوں
اتنا با اختیار ہو گیا ہوں
پاؤں پر گر گیا ہوں قسمت کے
اور سجدہ گزار ہو گیا ہوں
طاقِ نسیاں ہے کائنات اور میں
اس کا نقش و نگار ہو گیا ہوں
کیسا مکار ہے کہ میں تیرے
بھولے پن کا شکار ہو گیا ہوں
غم نے پالا ہے مجھ کو اور اب میں
غم کا پروردگار ہو گیا ہوں
میں کسی دن خدا کا چہرہ تھا
یہ جو اب آشکار ہو گیا ہوں
تیرا دشمن ہوا ہوں میں، یعنی
میں ترا رشتہ دار ہو گیا ہوں
مہدی نقوی حجازؔ
صائمہ شاہ — مئی 9، 2014 4:27 شام
کیا کہنے
پاؤں پر گر گیا ہوں قسمت کے
اور سجدہ گزار ہو گیا ہوں
مہدی نقوی حجاز — مئی 9، 2014 4:29 شام
کیا کہنے
پاؤں پر گر گیا ہوں قسمت کے
اور سجدہ گزار ہو گیا ہوں
بہت شکریہ :)
الف عین — مئی 11، 2014 8:19 صبح
واہ، اچھی غزل کہی ہے
مہدی نقوی حجاز — مئی 11، 2014 12:54 شام
واہ، اچھی غزل کہی ہے
بہت نوازش حضور، باعث مسرت ہے
سید ذیشان — مئی 11، 2014 12:58 شام
غم نے پالا ہے مجھ کو اور اب میں
غم کا پروردگار ہو گیا ہوں
خوب است برادرم!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7-%D8%A8%D8%A7-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%81%D8%AF%DB%8C-%D9%86%D9%82%D9%88%DB%8C-%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2%D8%94.74180/