غزل:: از :: محمد حفیظ الرحمٰن

محمد حفیظ الرحمٰن — اگست 20، 2020 3:55 شام
غزل
محمد حفیظ الرحمٰن
اپنے دامن سے ماہ و سال کی گرد
اے زمانے جھٹک رہا ہوں میں
قریۂ جاں میں چاندنی بن کر
دیکھ کیسے چٹک رہا ہوں میں
میں زمیں سے پھسل گیا کیسے
کیوں خلا میں لٹک رہا ہوں میں
کون ہیں لوگ جن کی آنکھوں میں
خار بن کر کھٹک رہا ہوں میں
اتنی سنگین ہے وہ سچائی
بات کرتے اٹک رہا ہوں میں
کسی آواز کے تعاقب میں
جانے کب سے بھٹک رہا ہوں میں
----​
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 20، 2020 4:00 شام
محمد حفیظ الرحمٰن آنکھیں چلی جانے کے باعث اردو محفل کو خود نہیں دیکھ سکتے لیکن اس میں شرکت کے شوق نے ان سے ایک نئی غزل کہلوالی ہے جو بلال حفیظ نے ہمیں واٹس اپ پر بھیجی اور ہم نے ان کے اکاؤنٹ سے محفلین کے لیے پیش کی۔
IMG-20200819-WA0007.jpg
محمد شکیل خورشید — اگست 21، 2020 7:53 صبح
بہت اعلیٰ ماشا اللہ!
اللہ خیر و عافیت والا معاملہ فرمائے
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 21، 2020 9:15 صبح
حفیظ بھائی کی بینائی کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ پاک اپنا فضل و کرم فرمائے۔
غزل پر ہماری داد ان کو ضرور پہنچائیے گا۔
دعاگو،
راحلؔ
الف عین — اگست 21، 2020 10:57 صبح
بہت عمدہ، داد پہنچا دیں حفیظ میاں تک

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AD%D9%81%DB%8C%D8%B8-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86.112903/