غزل: اور اس کے بعد ہمیشہ مجھے عدو سمجھے

Qamar Shahzad — ستمبر 17، 2020 7:26 صبح
اور اس کے بعد ہمیشہ مُجھے عدو سمجھے
مری مراد نہیں دوست ہو بہو سمجھے
اگرچہ مادری میری زباں ہے پنجابی
پہ شعر اردو میں کہتا ہوں تاکہ تُو سمجھے
نہ سنگِ لفظ گرائے سکوت دریا میں
کوئی نہیں جو خموشی کی آبرو سمجھے
زبانِ حال سے کہتے رہے حذر لیکن
تھرکتے جسم نہ اعضاء کی گفتگو سمجھے
مجھ ایسے مست کا غوغا جسے کھٹکتا ہے
وہ میرے ساتھ رہے، لطفِ ہا و ہو سمجھے
کرے تلاش زمینِ گماں پہ اس کا عکس
وہ روبرو نہ رہے، آنکھ روبرو سمجھے
مرے خیال کو ندرت خدا نے بخشی ہے
تو کیسے شعر مرے کوئی بے وضو سمجھے
قمر آسی
محمد شکیل خورشید — ستمبر 22، 2020 2:06 شام
خوب
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 28، 2020 12:22 صبح
بزمِ سخن میں خوش آمدید قمر شہزاد صاحب!
امید ہے کہ آپ اپنے کلام سے بزم کو رونق بخشتے رہیں گے ۔ اگر مناسب سمجھیں تو اہلِ بزم کو اپنے تعارف کا شرف بخشئے ۔ آپ سب کو سراپا استقبال پائیں گے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%B4%DB%81-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%B9%D8%AF%D9%88-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92.113249/