غزل: اولِ عشق جو وقت گزرا حسیں ۔۔۔

محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 14، 2021 8:12 صبح
عزیزانِ من، آداب!
تو اسے اردو محفل پر بھی پیش فرمائیے۔ ہم ہمہ تن گوش نہیں بلکہ "پڑھنے والی آنکھ" ہیں۔

مکرمی و محترمی جناب خلیل بھائی کے ارشاد کی تعمیل میں ایک بہت پرانی غزل آپ سب کے ذوق کی نذر ۔۔۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!
ہمیشہ کی طرح آپ کی ثمین آرا کا انتظار رہے گا۔
دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اولِ عشق جو وقت گزرا حسیں، میری تقدیر تھی
آخرِ عشق پر وہ ملا جو نہیں، میری تقدیر تھی
وہ جو بچپن کے میلے سے لی تھی انگوٹھی بڑے مان سے
زیوروں میں ترے کھو گئی جو کہیں، میری تقدیر تھی!
وقت کا کھیل ہے، آج تنہاء ہوں میں، ایک وہ دور تھا
کوچۂ عشق و الفت کی ہر نازنیں میری تقدیر تھی!
تم تو آزاد تھے فیصلوں کے لیے، کیوں نہ آگے بڑھے؟
میں جو بیٹھا رہا مدتوں تک یہیں، میری تقدیر تھی
سخت حیران ہوں، میں پشیمان ہوں، کیوں سمجھ نہ سکا!
تم جسے دھوپ میں بیٹھی بنتی رہیں، میری تقدیر تھی
اتفاقات دنیا میں ہوتے ہیں، پر اس کا ملنا مجھے
اس کے آگے جھکائے بنا ہی جبیں، میری تقدیر تھی!
زندگی مجھ کو راحلؔ نہ دے پائی کچھ حسرتوں کے سوا
پھر بھی کہتا رہا آفریں آفریں ۔۔۔ میری تقدیر تھی!
عرفان علوی — اپریل 17، 2021 6:30 شام
عزیزانِ من، آداب!
مکرمی و محترمی جناب خلیل بھائی کے ارشاد کی تعمیل میں ایک بہت پرانی غزل آپ سب کے ذوق کی نذر ۔۔۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!
ہمیشہ کی طرح آپ کی ثمین آرا کا انتظار رہے گا۔
دعاگو،
راحلؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اولِ عشق جو وقت گزرا حسیں، میری تقدیر تھی
آخرِ عشق پر وہ ملا جو نہیں، میری تقدیر تھی
وہ جو بچپن کے میلے سے لی تھی انگوٹھی بڑے مان سے
زیوروں میں ترے کھو گئی جو کہیں، میری تقدیر تھی!
وقت کا کھیل ہے، آج تنہاء ہوں میں، ایک وہ دور تھا
کوچۂ عشق و الفت کی ہر نازنیں میری تقدیر تھی!
تم تو آزاد تھے فیصلوں کے لیے، کیوں نہ آگے بڑھے؟
میں جو بیٹھا رہا مدتوں تک یہیں، میری تقدیر تھی
سخت حیران ہوں، میں پشیمان ہوں، کیوں سمجھ نہ سکا!
تم جسے دھوپ میں بیٹھی بنتی رہیں، میری تقدیر تھی
اتفاقات دنیا میں ہوتے ہیں، پر اس کا ملنا مجھے
اس کے آگے جھکائے بنا ہی جبیں، میری تقدیر تھی!
زندگی مجھ کو راحلؔ نہ دے پائی کچھ حسرتوں کے سوا
پھر بھی کہتا رہا آفریں آفریں ۔۔۔ میری تقدیر تھی!
راحل صاحب ، خوب غزل ہے ! داد قبول فرمائیے . یہ ایک نسبتتاََ کمیاب بحر ہے اور آپ نے اِس میں عمدہ اشعار ترتیب دیے ہیں . عموماً فاعلن کی گردان ایک مصرعے میں چار یا آٹھ بار نظر آتی ہے .
دوسرے شعر میں ’بچپن كے میلے‘ کی ترکیب کچھ غیر مانوس لگی . آپ ’وہ جو میلے سے بچپن میں . . .‘ کہتے تو بہتر تھا . ویسے اِس شعر کا خیال بہت پیارا ہے . تیسرے شعر میں ’ تنہا‘ میں ء کی ضرورت نہیں ہے . یہ شاید ٹائپو ہے . یہ شعر آپ كے کالج كے زمانے کا آئینہ معلوم ہوتا ہے .:) پانچویں شعر میں ’نہ‘ کو ’نا‘ کی طرح ادا کرنا پڑ رہا ہے . دونوں کا فرق آپ جانتے ہونگے .
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
منہاج علی — اپریل 17، 2021 11:11 شام
زندگی مجھ کو راحلؔ نہ دے پائی کچھ حسرتوں کے سوا
پھر بھی کہتا رہا آفریں آفریں ۔۔۔ میری تقدیر تھی!
کیا کہنا، مقطع پسند آیا۔ خوب جناب۔
محمد عبدالرؤوف — اپریل 18، 2021 5:17 صبح
بہت خوب راحل بھائی اچھے شعر ہیں
وقت کا کھیل ہے، آج تنہاء ہوں میں، ایک وہ دور تھا
کوچۂ عشق و الفت کی ہر نازنیں میری تقدیر تھی!
آپ اپنے ایسے اشعار پڑھتے رہا کیجیے، سدا جوان رہیں گے :)
عرفان سعید — اپریل 18، 2021 6:17 صبح
تم تو آزاد تھے فیصلوں کے لیے، کیوں نہ آگے بڑھے؟
میں جو بیٹھا رہا مدتوں تک یہیں، میری تقدیر تھی
واہ!
بہت خوب
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 18، 2021 7:44 صبح
راحل صاحب ، خوب غزل ہے ! داد قبول فرمائیے . یہ ایک نسبتتاََ کمیاب بحر ہے اور آپ نے اِس میں عمدہ اشعار ترتیب دیے ہیں . عموماً فاعلن کی گردان ایک مصرعے میں چار یا آٹھ بار نظر آتی ہے .
دوسرے شعر میں ’بچپن كے میلے‘ کی ترکیب کچھ غیر مانوس لگی . آپ ’وہ جو میلے سے بچپن میں . . .‘ کہتے تو بہتر تھا . ویسے اِس شعر کا خیال بہت پیارا ہے . تیسرے شعر میں ’ تنہا‘ میں ء کی ضرورت نہیں ہے . یہ شاید ٹائپو ہے . یہ شعر آپ كے کالج كے زمانے کا آئینہ معلوم ہوتا ہے .:) پانچویں شعر میں ’نہ‘ کو ’نا‘ کی طرح ادا کرنا پڑ رہا ہے . دونوں کا فرق آپ جانتے ہونگے .
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
بہت شکریہ عرفان بھائی ۔۔۔ کالج تو نہیں ۔۔۔ مگر آس پاس کے زمانے کی ہی ہے ۔۔۔
آپ کی گرانقدر تجاویز کے لیے بھی تہہِ دل سے شکر گزار ہوں
نہ کو دو حرفی باندھنا یقینا اچھا نہیں ۔۔۔ مگر کئی جدید شعرا نے ایسا کیا ہے ۔۔۔ سو پہلے میں بھی کبھی کبھی اس بدعت کا ارتکاب کر لیتا تھا ۔۔۔ اب شعوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 18، 2021 7:44 صبح
زندگی مجھ کو راحلؔ نہ دے پائی کچھ حسرتوں کے سوا
پھر بھی کہتا رہا آفریں آفریں ۔۔۔ میری تقدیر تھی!
کیا کہنا، مقطع پسند آیا۔ خوب جناب۔
بہت شکریہ منہاج میاں ۔۔۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 18، 2021 7:46 صبح
بہت خوب راحل بھائی اچھے شعر ہیں
آپ اپنے ایسے اشعار پڑھتے رہا کیجیے، سدا جوان رہیں گے :)
بہت شکریہ بھائی عبدالرؤوف ۔۔۔ داد و پذیرائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں
ایسے اشعار کی وجہ سے ہی تو جوانی میں بڑھاپے کا احساس رہتا تھا ۔۔۔ اب کیا خاک جوان رہیں گے :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 18، 2021 7:47 صبح
جزاک اللہ ڈاکٹر صاحب ۔۔۔ داد و پذیرائی کے لیے احسان مند ہوں ۔۔۔ بہت شکریہ :)
محمد عبدالرؤوف — اپریل 18، 2021 7:47 صبح
بہت شکریہ بھائی عبدالرؤوف ۔۔۔ داد و پذیرائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں
ایسے اشعار کی وجہ سے ہی تو جوانی میں بڑھاپے کا احساس رہتا تھا ۔۔۔ اب کیا خاک جوان رہیں گے :)
اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے
گُلِ یاسمیں — اپریل 18، 2021 7:59 صبح
بہت اعلیٰ
زندگی مجھ کو راحلؔ نہ دے پائی کچھ حسرتوں کے سوا
پھر بھی کہتا رہا آفریں آفریں ۔۔۔ میری تقدیر تھی!
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 18، 2021 8:07 صبح
بہت اعلیٰ
زندگی مجھ کو راحلؔ نہ دے پائی کچھ حسرتوں کے سوا
پھر بھی کہتا رہا آفریں آفریں ۔۔۔ میری تقدیر تھی!
بہت شکریہ یاسمین صاحبہ، جزاک اللہ۔
محمد شکیل خورشید — مئی 19، 2021 12:31 شام
بہت ہی دلچسپ، عمدہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 19، 2021 12:45 شام
بہت ہی دلچسپ، عمدہ
بہت شکریہ شکیلؔ بھائی ۔۔۔ آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لیے شکرگزار ہوں، جزاک اللہ۔
الف عین — مئی 21، 2021 5:30 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ پسند آئی
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 21، 2021 9:09 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ پسند آئی
جزاک اللہ استاد محترم .... آپ کی توجہ اور پذیرائی ملی، گویا عید کے بعد عید ہوگئی :) ... نہایت ممنون و متشکر ہوں.
ظہیراحمدظہیر — جون 1، 2021 3:24 شام
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں راحل بھائی !
پرانا کلام ہے اور خوب ہے ۔ میں بھی اس بات کا قائل ہوں کہ پرانے کلام کو جہاں تک ممکن ہوسکے جوں کا توں رکھنا چاہئے کہ اس سے فکری اور فنی ارتقا کا پتہ چلتا ہے ۔ اس میں ردو بدل کم ہی کرنا چاہئے ۔
پانچویں شعر میں ’نہ‘ کو ’نا‘ کی طرح ادا کرنا پڑ رہا ہے . دونوں کا فرق آپ جانتے ہونگے .
نیازمند ،
عرفان عابدؔ

نہ کو دو حرفی باندھنا یقینا اچھا نہیں ۔۔۔ مگر کئی جدید شعرا نے ایسا کیا ہے ۔۔۔ سو پہلے میں بھی کبھی کبھی اس بدعت کا ارتکاب کر لیتا تھا ۔۔۔ اب شعوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔
دعاگو،
راحلؔ۔

تم تو آزاد تھے فیصلوں کے لیے، کیوں نہ آگے بڑھے؟
میں جو بیٹھا رہا مدتوں تک یہیں، میری تقدیر تھی
اس شعر میں نہ کو دو حرفی تو نہیں باندھا گیا ۔ نہ تو یک حرفی ہے لیکن "آ" کو دو حرفی باندھا گیا ہے جو بالکل جائز ہے ۔ "آ" کو حسبِ ضرورت ایک یا دو حرفی باندھا جا سکتا ہے ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 2، 2021 8:51 صبح
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں راحل بھائی !
پرانا کلام ہے اور خوب ہے ۔ میں بھی اس بات کا قائل ہوں کہ پرانے کلام کو جہاں تک ممکن ہوسکے جوں کا توں رکھنا چاہئے کہ اس سے فکری اور فنی ارتقا کا پتہ چلتا ہے ۔ اس میں ردو بدل کم ہی کرنا چاہئے ۔
بہت شکریہ ظہیرؔ بھائی ۔۔۔ آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں ۔۔۔۔ جزاک اللہ
اس شعر میں نہ کو دو حرفی تو نہیں باندھا گیا ۔ نہ تو یک حرفی ہے لیکن "آ" کو دو حرفی باندھا گیا ہے جو بالکل جائز ہے ۔ "آ" کو حسبِ ضرورت ایک یا دو حرفی باندھا جا سکتا ہے ۔
مکرمی عرفانؔ بھائی کا اشارہ غالباً اس سے اگلے شعر کی طرف تھا ۔۔۔ وہاں واقعی نہ دوحرفی ہوگیا ہے
خیر، اب پچھتائے کیا ہووت :)
ظہیراحمدظہیر — جون 4، 2021 6:01 شام
بہت شکریہ ظہیرؔ بھائی ۔۔۔ آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں ۔۔۔۔ جزاک اللہ
مکرمی عرفانؔ بھائی کا اشارہ غالباً اس سے اگلے شعر کی طرف تھا ۔۔۔ وہاں واقعی نہ دوحرفی ہوگیا ہے
:):):)
دونوں صاحبان سے معذرت! شعر گننے میں التباس ہوگیا ۔ اگلے شعر میں "نہ" واقعی دو حرفی بندھ گیا ہے۔
خیر، اب پچھتائے کیا ہووت :)
پچھتانے کی ضرورت نہیں ۔ آئندہ فصل بوئیں تو چڑیوں سے بچاؤ کا مؤثر انتظام رکھئے گا ۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%88%D9%84%D9%90-%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D8%AC%D9%88-%D9%88%D9%82%D8%AA-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%DA%BA-%DB%94%DB%94%DB%94.115887/