مہدی نقوی حجاز — اپریل 8، 2014 3:50 صبح
غزل
اپنے رب کا نشان چاہتا ہوں
خود پر اس کا گمان چاہتا ہوں
اپنا ماضی سمیٹنے کے لیے
ایک اندھیرا مکان چاہتا ہوں
اتنا بےلوث خیر میں بھی نہیں
میں بھی تیرا دھیان چاہتا ہوں
میں کوئی کانچ کا پرندہ نہیں
میں حقیقی اڑان چاہتا ہوں
میرا موقف خدا شناسی ہے
اپنے حق میں بیان چاہتا ہوں
اپنا پیغام عام کرنے کو
میں بھی منہ میں زبان چاہتا ہوں
اہل گردانتا ہوں خود کو حجازؔ
کچھ مزید امتحان چاہتا ہوں
مہدی نقوی حجازؔ
ندیم مراد — اپریل 8، 2014 6:26 شام
بہت خوب
مہدی نقوی حجاز — اپریل 10، 2014 8:52 صبح
امر شہزاد — اپریل 13، 2014 4:29 شام
اپنا ماضی سمیٹنے کے لیے
ایک اندھیرا مکان چاہتا ہوں
یہ مصرع کہہ رہا ہے ، "میں بھی تیرا دھیان چاہتا ہوں"
اتنا بےلوث خیر میں بھی نہیں
میں بھی تیرا دھیان چاہتا ہوں
واہ!
مہدی نقوی حجاز — اپریل 13، 2014 4:30 شام
اپنا ماضی سمیٹنے کے لیے
ایک اندھیرا مکان چاہتا ہوں
یہ مصرع کہہ رہا ہے ، "میں بھی تیرا دھیان چاہتا ہوں"
اتنا بےلوث خیر میں بھی نہیں
میں بھی تیرا دھیان چاہتا ہوں
واہ!
نوزش جناب۔
کس اعتبار سے!؟
امر شہزاد — اپریل 13، 2014 4:33 شام
اے+ک ان+ دھے+را
میرے خیال میں ایک سبب اضافی ہے۔
مہدی نقوی حجاز — اپریل 13، 2014 4:39 شام
اے+ک ان+ دھے+را
میرے خیال میں ایک سبب اضافی ہے۔
اے- کدھے-را
اندھیرا کا تلفظ: ادھیرا بروزن فعولن۔
امر شہزاد — اپریل 13، 2014 4:43 شام
مُختار ہیں ،
شاعر جو چاہیں کریں۔

مہدی نقوی حجاز — جولائی 28، 2014 7:36 صبح
مُختار ہیں ،
شاعر جو چاہیں کریں۔
ساغر صدیقی کی مشہور غزل میں بھی "اندھیرے" کے تلفظ کو ملاحظہ کر سکتے ہیں:
چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے
الف عین — جولائی 28، 2014 9:05 صبح
اندھیرا درست باندھا ہے، اس مین غنہ ہی ہوتا ہے۔ البتہ ’دھیان‘ غلط ہے، اسے محض ’دان‘ باندھنا تھا، ’بع وزن فعول نہیں
دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر
کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے