غزل : اپنے گھر کو میں اگر بھول گیا از: نویدظفرکیانی

نویدظفرکیانی — جولائی 7، 2015 9:12 صبح
اپنے گھر کو میں اگر بھول گیا
جانئے سمتِ سفر بھول گیا
یا تو دشوار تھا شب کا کٹنا
یا تمنائے سحر بھول گیا
حادثے ہوتے رہے پہلے بھی
میں ہی جینے کا ہنر بھول گیا
جانے والے کو خبر بھی نہ ہوئی
کوئی چوکھٹ پہ نظر بھول گیا
ہائے وہ عشق کہ جس میں خود کو
یاد رکھنا تھا مگر بھول گیا
پھر سمندر نے بلایا ہے مجھے
اور میں رنگِ بھنور بھول گیا
دور جھیلوں کی تمنا نہ گئی
اپنے ٹوٹے ہوئے پر بھول گیا
پھر اُسی دشمنِ جاں کا ہے خیال
زخمِ دل سوزِ جگر بھول گیا
کھا گیا کیسا دھندلکا مجھ کو
جانے کیا کیا میں ظفر بھول گیا
نویدظفرکیانی
راحیل فاروق — جولائی 7، 2015 10:56 صبح
کیا بات، کیانی صاحب۔ کلاسیک!
ادب دوست — جولائی 7، 2015 11:02 صبح
واہ ۔ کیا کہنے
جانے والے کو خبر بھی نہ ہوئی
کوئی چوکھٹ پہ نظر بھول گیا
ابن رضا — جولائی 7، 2015 11:21 صبح
حادثے ہوتے رہے پہلے بھی
میں ہی جینے کا ہنر بھول گیا
واہ بہت عمدہ۔ بہت سی داد۔ سلامت رہیے۔
ندیم مراد — جولائی 7، 2015 9:50 شام
جانے کیا چاہ رہا تھا کہنا
اور میں داد ہنر بھول گیا
واہ کہنا تھا کہ کرنی تھی آہ
داد کی رسم مگر بھول گیا
مجھے بھی بادام کھانے پڑیں گے
اب داد کیا دوں آپ سمجھ ہی گﺉے ہوں گے غزل کتنی پسند آﺉ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%D9%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%D8%B2-%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF%D8%B8%D9%81%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C.83308/