راحیل فاروق — ستمبر 20، 2015 12:22 شام
اے یادِ رفتگاں! مجھے جینے کا چھوڑیو
جو زخم کھائے ہیں، انھیں سینے کا چھوڑیو
اپنی گلی میں دے کے ٹھکانا فقیر کو
مکے کا چھوڑیو، نہ مدینے کا چھوڑیو
ساقی! پلائیو تو نہ آنکھیں ملائیو
مجھ کو بچائیو، مجھے پینے کا چھوڑیو
گر روئیو تو مجھ سے لپٹ کر نہ روئیو
دریا میں ڈالیو تو سفینے کا چھوڑیو
میری سزا میں کیجیو مُلا سے مشورہ
مے اک طرف، لہو بھی نہ پینے کا چھوڑیو
راحیلؔ دل بھی چھوڑ گیا اب تو، اے خدا
اس حال میں نہ ہاتھ کمینے کا چھوڑیو
سید عاطف علی — ستمبر 20، 2015 12:28 شام
بہت خوب راحیل ۔
بے الف اذان — ستمبر 20، 2015 12:31 شام
واہ راحیل صاحب ! مزو اچی ویو ۔ ۔ ۔
نور وجدان — ستمبر 20، 2015 1:11 شام
ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موتی موتی شعر۔۔۔جواہرات جڑ گئے ۔۔ماشاءاللہ
راحیل فاروق — ستمبر 20، 2015 5:37 شام
شکریہ محترمی۔
واہ راحیل صاحب ! مزو اچی ویو ۔ ۔ ۔
واہ کا شکریہ۔ مزہ اچی دیو پہ بھی مناسب جوابی کارروائی۔ ترجمہ کر دیں تو ممنون ہوں گا۔
ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موتی موتی شعر۔۔۔جواہرات جڑ گئے ۔۔ماشاءاللہ
جزاک اللہ۔

بے الف اذان — ستمبر 20، 2015 5:58 شام
واہ کا شکریہ۔ مزہ اچی دیو پہ بھی مناسب جوابی کارروائی۔ ترجمہ کر دیں تو ممنون ہوں گا۔
"مزو اچی ویو" یعنی " مزہ آ گیا " ۔ ۔ ۔
امید ہے اب "مناسب" کارروائی میں مشکل پیش نہیں آئے گی !
فاروق احمد بھٹی — ستمبر 20، 2015 6:01 شام
بہت خوب کیا کہنے جناب۔۔۔
راحیل فاروق — ستمبر 21، 2015 1:59 شام
"مزو اچی ویو" یعنی " مزہ آ گیا " ۔ ۔ ۔
کس زبان کا کلمہ ہے یہ؟
بہت شکریہ، بھائی۔

محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 21، 2015 2:02 شام
اے یادِ رفتگاں! مجھے جینے کا چھوڑیو
جو زخم کھائے ہیں، انھیں سینے کا چھوڑیو
اپنی گلی میں دے کے ٹھکانا فقیر کو
مکے کا چھوڑیو، نہ مدینے کا چھوڑیو
ساقی! پلائیو تو نہ آنکھیں ملائیو
مجھ کو بچائیو، مجھے پینے کا چھوڑیو
گر روئیو تو مجھ سے لپٹ کر نہ روئیو
دریا میں ڈالیو تو سفینے کا چھوڑیو
میری سزا میں کیجیو مُلا سے مشورہ
مے اک طرف، لہو بھی نہ پینے کا چھوڑیو
راحیلؔ دل بھی چھوڑ گیا اب تو، اے خدا
اس حال میں نہ ہاتھ کمینے کا چھوڑیو
بہت خوبصورت غزل۔ بہت داد قبول ہو جناب
سید عاطف علی — ستمبر 21، 2015 2:10 شام
کس زبان کا کلمہ ہے یہ؟
بہت شکریہ، بھائی۔
سندھی زبان ہےجی ۔
راحیل فاروق — ستمبر 21، 2015 6:33 شام
بہت خوبصورت غزل۔ بہت داد قبول ہو جناب
شاہِ
تحریف کی جانب سے
تعریف۔ زہے نصیب!
پھر تو مشکل زبان ہوئی۔ میں سن پچانوے تک کراچی میں پلا بڑھا۔ سسرال ہنوز وہیں ہے۔ پنجاب اور سندھ کمر سے کمر ملائے کھڑے ہیں۔ پھر بھی میں اندازہ نہیں کر پایا۔ پس ثابت ہوا کہ سندھی نہایت دشوار زبان ہے۔

یوسف سلطان — ستمبر 21، 2015 6:36 شام
ماشاءالله بہت خوب
راحیل فاروق بھائی
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 21، 2015 7:52 شام
شاہِ
تحریف کی جانب سے
تعریف۔ زہے نصیب!
پھر تو مشکل زبان ہوئی۔ میں سن پچانوے تک کراچی میں پلا بڑھا۔ سسرال ہنوز وہیں ہے۔ پنجاب اور سندھ کمر سے کمر ملائے کھڑے ہیں۔ پھر بھی میں اندازہ نہیں کر پایا۔ پس ثابت ہوا کہ سندھی نہایت دشوار زبان ہے۔
ارے بھئی غنچہ میاں!
ذرا لانا تو ہمارا قلمدان۔ راحیل بھائی کی اس غزل پر ایک پیروڈی ہی لکھ ماریں۔ اقلیمِ تحریف کی حکمرانی تو مل ہی گئی ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 21، 2015 7:54 شام
مذاق بر طرف۔ کیا خوبصورت ردیف نکالی ہے۔ مزہ آگیا۔ خوش رہیے
ادب دوست — نومبر 7، 2015 8:26 صبح
راحیل فاروق بھائی بہت خوبصورت غزل ہے۔ حسبِ روائت آپ کی شاعری پڑھ کر لطف آگیا۔
اور سنا کہ آپ کراچی میں رہے ہیں۔ اور تاحال سُسرائیل اسی شہر میں ہے۔
کب لائے جائیں گے آپ ممکنہ طور پر؟
راحیل فاروق — نومبر 7، 2015 3:42 شام
راحیل فاروق بھائی بہت خوبصورت غزل ہے۔ حسبِ روائت آپ کی شاعری پڑھ کر لطف آگیا۔
سراپا سپاس!
اور سنا کہ آپ کراچی میں رہے ہیں۔ اور تاحال سُسرائیل اسی شہر میں ہے۔
کراچی میں بچپن گزرا۔
سسرائیل یوں تو کہاں نہیں ہے مگر ہمارا والا کراچی ہی میں سمجھیے۔ سٹیل ٹاؤن۔
کب لائے جائیں گے آپ ممکنہ طور پر؟
مرنے کو اس گلی میں بلایا گیا ہمیں--
راحیلؔ اگر بلائے نہ جائیں تو آئیں کیا؟
الف عین — نومبر 8، 2015 4:37 صبح
رکھیو غالب مجھے اس تلخ کلامی سے معاف
یوں شاعری کرو ہو کہ مومن بھی داد دیں
غالب ۔کہ میر و داغ ، کسی کو نہ چھوڑیو
توصیف یوسف مغل — جنوری 29، 2016 6:20 صبح
عمدہ غزل
عباس اعوان — جنوری 29، 2016 6:21 صبح
کمال غزل ہے اور خوب داد نہ دینا زیادتی۔
لاجواب !!!!!
بہت بہت شکریہ
محمد مبین امجد — جنوری 29، 2016 6:22 صبح
لفاظی بہت عمدہ ہے باقی فن پہ تو اساتذہ ہی رہنمائی کر سکتے ہیں