غزل برائے اصلاح

محمدسہیل الرحمن — جولائی 18، 2014 9:17 صبح
عشق ظالم ہے، طفلِ نو دیکھو
عشق کے مارو، ایک ہو دیکھو
میرے قاتل نے، بن کے چارہ گر
وار کر ڈالا، ظلم تو دیکھو
قیس جنگل میں ، عیش کرتا ہے
جا کے جنگل میں ، دوستو دیکھو
تھا سہَل عاشق، نام کا لیکن
غیر ہے حالت، پھر بھی تو دیکھو
واسطی خٹک — اگست 10، 2014 6:04 شام
ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻭ، ﺍﯾﮏ ﮨﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ
معشوقوں کو مارنے کا پلان ہے کیا
بہت خوب غزل کہی آپ نے
الف عین — اگست 11، 2014 2:45 صبح
مطلع میں ’نَو‘ قافیہ تو، ہو کے ساتھ درست نہیں۔
مقطع بحر سے خارج ہے۔
باقی دو اشعار درست ہیں
محمدسہیل الرحمن — اگست 26، 2014 5:29 شام
جزاکم اللہ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.76225/