غزل: بڑھ گیا ظلم و ستم اتنا کہ روٹھا بادل ٭ تابش

محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2019 10:53 صبح
ایک تجربہ، ایک کاوش احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:
بڑھ گیا ظلم و ستم اتنا کہ روٹھا بادل
روز بن برسے گزرتا ہے گرجتا بادل
یہ برستا ہے نہ چھَٹتا ہے مری آنکھوں سے
کب سے ٹھہرا ہے تری یاد کا گہرا بادل
پھر کوئی آہِ رسا چرخِ کہن تک پہنچی
آج کی رات بہت ٹوٹ کے برسا بادل
بغض، کینہ و کدورت سے کرو پاک یہ دل
چھَٹ نہ جائے کہیں رحمت کا برستا بادل
کشمکش میں ہوا دونوں کو خسارہ تابشؔ
نورِ خورشید ہوا ماند، تو بکھرا بادل

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 6، 2019 10:55 صبح
ایک تجربہ، ایک کاوش احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:
بڑھ گیا ظلم و ستم اتنا کہ روٹھا بادل
روز بن برسے گزرتا ہے گرجتا بادل
نہ برستا ہے نہ چھٹتا ہے مری آنکھوں سے
کب سے ٹھہرا ہے تری یاد کا گہرا بادل
پھر کوئی آہِ رسا چرخِ کہن تک پہنچی
آج کی رات بہت ٹوٹ کے برسا بادل
بغض، کینہ و کدورت سے کرو پاک یہ دل
چھَٹ نہ جائے کہیں رحمت کا برستا بادل
کشمکش میں ہوا نقصان ہمیشہ تابشؔ
نورِ خورشید ہوا ماند، تو بکھرا بادل

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
خوبصورت خوب صورت
فلسفی — مارچ 6، 2019 10:56 صبح
پھر کوئی آہِ رسا چرخِ کہن تک پہنچی
آج کی رات بہت ٹوٹ کے برسا بادل
واہ، بہت خوب۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 6، 2019 10:57 صبح
نہ برستا ہے نہ چھٹتا ہے مری آنکھوں سے
کب سے ٹھہرا ہے تری یاد کا گہرا بادل
ماشاءاللہ ،
بہت عمدہ لاجواب ۔
بہت اعلی شاندار غزل ۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2019 12:56 شام
آداب۔ ہمت بڑھاتے رہنے پر ممنون ہوں محترم۔ :)
محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2019 12:56 شام
بہت شکریہ فلسفی بھائی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2019 12:57 شام
ماشاءاللہ ،
بہت عمدہ لاجواب ۔
بہت اعلی شاندار غزل ۔
جزاک اللہ خیر عدنان بھائی۔
سردار محمد نعیم — مارچ 6، 2019 1:45 شام
بہت خوب !!
فرحان محمد خان — مارچ 6، 2019 1:46 شام
بہت خوب غزل تابش بھائی واہ بادل بادل
محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2019 3:40 شام
بہت شکریہ نعیم بھائی
محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2019 3:41 شام
بہت خوب غزل تابش بھائی واہ بادل بادل
آداب فرحان بھائی۔
عرفان سعید — مارچ 6، 2019 3:51 شام
بادلوں کی جتنی تصاویر آپ نے بنائی ہیں، یہ غزل تو ہونا ہی تھی!
:)
فرحان محمد خان — مارچ 6، 2019 4:14 شام
بادلوں کی جتنی تصاویر آپ نے بنائی ہیں، یہ غزل تو ہونا ہی تھی!
:)
مکمل اتفاق کرتا ہوں :)
فلسفی — مارچ 6، 2019 4:17 شام
بادلوں کی جتنی تصاویر آپ نے بنائی ہیں، یہ غزل تو ہونا ہی تھی!
:)
حالانکہ کیمیا گر مصنوعی بادل بھی بنا سکتا ہے۔ کیوں جی؟
عرفان سعید — مارچ 6، 2019 4:22 شام
حالانکہ کیمیا گر مصنوعی بادل بھی بنا سکتا ہے۔ کیوں جی؟
بالکل بنا سکتا ہے۔
جیسے فلسفی بلبل کے بچے کو " کھوتے کے جیسا" بنا سکتا ہے!
:)
فلسفی — مارچ 6، 2019 4:24 شام
بالکل بنا سکتا ہے۔
جیسے فلسفی بلبل کے بچے کو " کھوتے کے جیسا" بنا سکتا ہے!
:)
:rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
پکے لاہوری ہو یار۔ کوئی لووز بال چھوڑتے نہیں ہو۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2019 4:42 شام
بادلوں کی جتنی تصاویر آپ نے بنائی ہیں، یہ غزل تو ہونا ہی تھی!
:)
تصویروں سے یاد آیا کہ کافی دن سے اپلوڈ نہیں کیں۔ :p
عرفان سعید — مارچ 6، 2019 4:50 شام
تصویروں سے یاد آیا کہ کافی دن سے اپلوڈ نہیں کیں۔ :p
اس غزل جیسا ہو تو رہنے دو ایسا بادل
:)
یاسر شاہ — مارچ 6، 2019 5:13 شام
السلام علیکم !
ماشاء اللہ تابش بھائی آج کل لگتا ہے آمد کا موسم ہے -
بڑھ گیا ظلم و ستم اتنا کہ روٹھا بادل
روز بن برسے گزرتا ہے گرجتا بادل
واہ -
نہ برستا ہے نہ چھَٹتا ہے مری آنکھوں سے
کب سے ٹھہرا ہے تری یاد کا گہرا بادل
یوں بھی ایک صورت ہے :
چھٹتا ہے اور نہ برستا ہے مری آنکھوں سے
دل میں ٹھہرا ہے تری یاد کا گہرا بادل
------------
پھر کوئی آہِ رسا چرخِ کہن تک پہنچی
آج کی رات بہت ٹوٹ کے برسا بادل
"پھر" اور "آج" اضافی سے لگے
یوں بھی کیا جاسکتا ہے :
کیا کوئی آہِ رسا چرخِ کہن تک پہنچی؟
جانے کیوں رات بہت ٹوٹ کے برسا بادل؟
-------
بغض، کینہ و کدورت سے کرو پاک یہ دل
چھَٹ نہ جائے کہیں رحمت کا برستا بادل
بغض ،کینہ اور کدورت قریب قریب ہم معنی ہیں -لہٰذا مصرع بحر کی خانہ پری لگا -میرے تو خیال سے مصرع بدل دیں -
کشمکش میں ہوا نقصان ہمیشہ تابشؔ
نورِ خورشید ہوا ماند، تو بکھرا بادل
یہ شعر سمجھ نہیں آیا -پہلا مصرع تو واضح ہے، جس سے یوں لگتا ہے کہ آپ "چپقلش" کہنا چاہ رہے ہیں کیونکہ کشمکش کے تو فائدے بھی بہت ہیں جیسے کسی نے کیا خوب کہا ہے :
ہے شوق و ضبطِ شوق میں دن رات کشمکش
دل مجھ کو ،میں ہوں دل کو پریشاں کیے ہوئے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%DA%91%DA%BE-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%B8%D9%84%D9%85-%D9%88-%D8%B3%D8%AA%D9%85-%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%81-%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE%D8%A7-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84-%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.105807/