غزل: تُو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کر کبھی جانے کے بعد

عاطف ملک — اگست 19، 2020 1:21 صبح
ایک اور کاوش محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔
عشق کی حدت سے میرے دل کو گرمانے کے بعد
تُو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کر کبھی جانے کے بعد
جو ہوا ہرگز نہیں اس میں کوئی میرا قصور
وہ یہی کہتا ہے مجھ پر ہر ستم ڈھانے کے بعد
تنگ آ کر توڑ ڈالا آج پھر اک آئنہ
اپنے چہرے میں وہی صورت نظر آنے کے بعد
اس لیے بھی تجھ کو پانے کی کبھی خواہش نہ کی
قدر کھو دیتے ہیں اکثر لوگ مل جانے کے بعد
مٹ گئیں سب رنجشیں اک پوچھ لینے سے ترے
اب کوئی شکوہ نہیں تجھ سے ترے آنے کے بعد
ہر گھڑی رہتا ہے تجھ کو پھر سے کھو دینے کا خوف
ہو گئی ہے اک نئی الجھن تجھے پانے کے بعد
جس قدر ممکن ہو عاطفؔ عشق سے کرنا گریز
اس نے کی مجھ کو نصیحت آپ پچھتانے کے بعد
عاطفؔ ملک
اگست ۲۰۲۰
محمد عدنان اکبری نقیبی — اگست 19، 2020 7:09 صبح
ماشاءاللہ
کیا خوب غزل ہے ،زبردست
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 19، 2020 7:42 صبح
ایک اور کاوش محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔
عشق کی حدت سے میرے دل کو گرمانے کے بعد
تُو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کر کبھی جانے کے بعد
جو ہوا ہرگز نہیں اس میں کوئی میرا قصور
وہ یہی کہتا ہے مجھ پر ہر ستم ڈھانے کے بعد
توڑ ڈالا آج پھر سے ہم نے اپنا آئنہ
اپنے چہرے میں تری صورت نظر آنے کے بعد
اس لیے بھی تجھ کو پانے کی کبھی خواہش نہ کی
قدر کھو دیتے ہیں اکثر لوگ مل جانے کے بعد
مٹ گئیں سب رنجشیں اک پوچھ لینے سے ترے
اب کوئی شکوہ نہیں تجھ سے ترے آنے کے بعد
ہر گھڑی رہتا ہے تجھ کو پھر سے کھو دینے کا خوف
ہو گئی ہے اک نئی الجھن تجھے پانے کے بعد
جس قدر ممکن ہو عاطفؔ عشق سے کرنا گریز
اس نے کی مجھ کو نصیحت آپ پچھتانے کے بعد
عاطفؔ ملک
اگست ۲۰۲۰
خوبصورت خوبصورت!!!
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 19، 2020 9:13 صبح
خوب است :)
عاطف ملک — اگست 19، 2020 11:54 شام
ماشاءاللہ
کیا خوب غزل ہے ،زبردست
بہت بہت شکریہ عدنان بھائی:)
بہت بہت شکریہ محترمی:)
بہت بہت شکریہ راحل بھائی:)
صابرہ امین — اگست 20، 2020 12:04 صبح
ماشااللہ ۔ ۔ بہت خوب ۔ ۔ عمدہ خیالات ۔ ۔ ۔:)
عاطف ملک — اگست 22، 2020 7:13 صبح
ماشااللہ ۔ ۔ بہت خوب ۔ ۔ عمدہ خیالات ۔ ۔ ۔:)
بہت شکریہ:)
مقبول — اگست 22، 2020 7:29 صبح
بہت خوبصورت
ایس ایس ساگر — اگست 22، 2020 7:31 صبح
بہت خوب عاطف بھائی۔ عمدہ غزل ہے۔
انس معین — اگست 22، 2020 8:35 صبح
عمدہ غزل جناب۔ ماشاءاللہ
شکیب — اگست 22، 2020 9:47 صبح
اچھی غزل عاطف بھائی ماشاء اللہ۔ یہ شعر خصوصاً پسند آیا۔
توڑ ڈالا آج پھر سے ہم نے اپنا آئنہ
اپنے چہرے میں تری صورت نظر آنے کے بعد
عاطف ملک — اگست 24، 2020 2:56 شام
شکریہ محترم :)
بہت خوب عاطف بھائی۔ عمدہ غزل ہے۔
بہت شکریہ :)
عمدہ غزل جناب۔ ماشاءاللہ
بہت شکریہ جناب:)
اچھی غزل عاطف بھائی ماشاء اللہ۔ یہ شعر خصوصاً پسند آیا۔
نوازش شکیب بھائی:)
آپ کا حسنِ نظر ہے:)
محمد شکیل خورشید — اگست 25، 2020 6:48 صبح
اعلیٰ، ہمیشہ کی طرح
ظہیراحمدظہیر — اگست 26، 2020 9:29 شام
بہت خوب عاطف بھائی ، خوب غزل ہے ۔
توڑ ڈالا آج پھر سے ہم نے اپنا آئنہ
اپنے چہرے میں تری صورت نظر آنے کے بعد
آپ نے یہاں آئینہ پھر توڑ ڈالا اور آئینہ پھر سے توڑ ڈالا کا فرق ملحوظ نہیں رکھا ۔
ویسے اس شعر کے پس منظر میں کارفرما جذبہ کیا ہے؟ محبوب سے نفرت؟! یعنی روایتی طور پر تو محب کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ہر شے میں محبوب نظر آئے اور اس بات کو عشق کی معراج سمجھا جاتا ہے ۔ ( رانجھا رانجھا کہندی میں ۔۔۔۔ ) ۔ لیکن آپ نے اس شعر میں اس کے خلاف کہا ہے ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ اس پر اپنی لیزر گن سے روشنی ڈالئے گا ۔
عاطف ملک — اگست 26، 2020 10:27 شام
اعلیٰ، ہمیشہ کی طرح
بہت شکریہ محترمی:)
بہت خوب عاطف بھائی ، خوب غزل ہے ۔
بہت بہت شکریہ۔ہمیں سند مل گئی کہ اشعار کسی لائق ہیں۔
توڑ ڈالا آج پھر سے ہم نے اپنا آئنہ
اپنے چہرے میں تری صورت نظر آنے کے بعد
آپ نے یہاں آئینہ پھر توڑ ڈالا اور آئینہ پھر سے توڑ ڈالا کا فرق ملحوظ نہیں رکھا ۔
اس فرق کا تو مجھے ابھی بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا۔
یہاں پھر سے توڑنا ہی مراد ہے۔
ویسے اس شعر کے پس منظر میں کارفرما جذبہ کیا ہے؟ محبوب سے نفرت؟! یعنی روایتی طور پر تو محب کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ہر شے میں محبوب نظر آئے اور اس بات کو عشق کی معراج سمجھا جاتا ہے ۔ ( رانجھا رانجھا کہندی میں ۔۔۔۔ ) ۔ لیکن آپ نے اس شعر میں اس کے خلاف کہا ہے ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ اس پر اپنی لیزر گن سے روشنی ڈالئے گا ۔
سمجھ میں آ تو جانا چاہیے تھا(n)
خیال واقعی الگ ہے یا بے شک عجیب کہہ لیں۔لیکن یہ نفرت کی بجائے زچ ہونے والی کیفیت ہے۔یعنی حقیقی دنیا میں واپسی کی کوشش کی جا رہی ہے مگر کیفیت یہ ہے کہ ہر جگہ ایک ہی چہرہ نظر آ رہا ہے۔
اپنا شعر سمجھانا تو اچھا خاصا مشکل کام ہے:unsure:
رہ گئی بات لیزر گن کی تو کورونا کے بعد ایسی تمام گنز سے بہت ڈر لگتا ہے اب :eek:
ظہیراحمدظہیر — اگست 27، 2020 4:39 صبح
اس فرق کا تو مجھے ابھی بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا۔
یہاں پھر سے توڑنا ہی مراد ہے۔
عاطف بھائی ، "پھر" اور "پھر سے" ہم معنی نہیں ہیں ۔ "پھر کے معنی دوبارہ ، مکرّر" اور "پھر سے کے معنی ازسرِ نو ، نئے سرے سے" ہیں ۔ میں نے آپ کا مضمون پھر پڑھا اور میں نے آپ کا مضمون پھر سے پڑھا دونوں جملوں کا مفہوم علیحدہ ہے ۔ آپ کے شعر میں پھر کا محل ہے۔ آئینے کو پھر توڑدیا تو درست ہے لیکن آئینے کو پھر سے توڑدیا ٹھیک نہیں ہے ۔ ٹوٹے ہوئے آئینے کو پھر سے یا دوبارہ سے کیسے توڑا جاسکتا ہے ؟!
سمجھ میں آ تو جانا چاہیے تھا(n)
خیال واقعی الگ ہے یا بے شک عجیب کہہ لیں۔لیکن یہ نفرت کی بجائے زچ ہونے والی کیفیت ہے۔یعنی حقیقی دنیا میں واپسی کی کوشش کی جا رہی ہے مگر کیفیت یہ ہے کہ ہر جگہ ایک ہی چہرہ نظر آ رہا ہے۔
آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں ۔ لیکن شعر میں وہ کچھ بیان نہیں ہوا جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں ۔ :):):) سادہ سی بات یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی ایسی روایت سے انحراف کریں کہ جو قارئین میں مستند اور مسلم حقیقت کے طور پر جانی جاتی ہو تو پھر کسی طور اس انحراف کی کوئی وجہ بھی شعر میں بیان کرنی ہوگی ۔ یعنی اگر میں محبوب کے لب کو پھول کے بجائے کانٹے سے تشبیہ دوں تو اس کی کوئی وجہ بھی مجھے بیان کرنا ہوگی ورنہ تو بہت عجیب و غریب اور "اُلجھناک" سی بات ہوجائے گی ۔ :)
عاطف ملک — اگست 27، 2020 9:58 صبح
بھائی ، "پھر" اور "پھر سے" ہم معنی نہیں ہیں ۔ "پھر کے معنی دوبارہ ، مکرّر" اور "پھر سے کے معنی ازسرِ نو ، نئے سرے سے" ہیں ۔ میں نے آپ کا مضمون پھر پڑھا اور میں نے آپ کا مضمون پھر سے پڑھا دونوں جملوں کا مفہوم علیحدہ ہے ۔ آپ کے شعر میں پھر کا محل ہے۔ آئینے کو پھر توڑدیا تو درست ہے لیکن آئینے کو پھر سے توڑدیا ٹھیک نہیں ہے ۔ ٹوٹے ہوئے آئینے کو پھر سے یا دوبارہ سے کیسے توڑا جاسکتا ہے ؟!
سمجھ گیا۔"پھر سے" کی جگہ پھر ہی ہونا چاہیے۔
بہت شکریہ۔
آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں ۔ لیکن شعر میں وہ کچھ بیان نہیں ہوا جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں ۔ :):):) سادہ سی بات یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی ایسی روایت سے انحراف کریں کہ جو قارئین میں مستند اور مسلم حقیقت کے طور پر جانی جاتی ہو تو پھر کسی طور اس انحراف کی کوئی وجہ بھی شعر میں بیان کرنی ہوگی
آپ کی گفتگو پڑھنے کے بعد اب مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے کہ ابلاغ میں مسئلہ ہے۔کوشش کرتا ہوں کہ کوئی بہتر صورت نکل آئے۔
آپ کی انہی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے کافی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔
ایک بار پھر بہت شکریہ۔
لاریب مرزا — ستمبر 6، 2020 6:36 صبح
بہت خوب!!
عاطف ملک — ستمبر 6، 2020 9:45 صبح
بہت شکریہ :)
جاسمن — دسمبر 13، 2020 3:26 صبح
واہ بھئی واہ!
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D9%8F%D9%88-%D9%86%DB%92-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%DA%91-%DA%A9%D8%B1-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF.112877/