غزل: جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا ٭ تابش

محمد تابش صدیقی — مارچ 3، 2021 12:12 شام
جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
ہر نیا زخم ہوا میرے بدن پر پھایا
شمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرت
بے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا
میں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوش
میرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایا
اب تو ہر شخص نظر آتا ہے خود سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا
جب بھی ناکام ہوا میں، تو پکارا اس کو
اس نے الجھا ہوا ہر کام مرا سلجھایا
وادیِ عشق کا رستہ بھی ہے منزل تابشؔ
میں نے دل کو ہے بہت بار یہی سمجھایا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 3، 2021 12:38 شام
میں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوش
میرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایا
آہا!!! کیا کہنے ۔۔۔ بہت اچھا کہا ہے تابشؔ بھائی ۔۔۔ عمدہ غزل، حسبِ سابق
مطلعے میں کچھ تردد ہوا ۔۔۔ پھایا تو زخم پر لگایا جاتا ہے، پھر خود زخم کو پھایا کیسے کہہ سکتے ہیں؟
محمد تابش صدیقی — مارچ 3، 2021 12:40 شام
آہا!!! کیا کہنے ۔۔۔ بہت اچھا کہا ہے تابشؔ بھائی ۔۔۔ عمدہ غزل، حسبِ سابق
جزاک اللہ خیر راحل بھائی
مطلعے میں کچھ تردد ہوا ۔۔۔ پھایا تو زخم پر لگایا جاتا ہے، پھر خود زخم کو پھایا کیسے کہہ سکتے ہیں؟
جیسے درد خود دوا بن جاتا ہے۔ :)
نور وجدان — مارچ 3، 2021 1:00 شام
مطلع جاندار ہے
محمداحمد — مارچ 3، 2021 1:20 شام
اچھی غزل ہے تابش بھائی!
شمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرت
بے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا
اب تو ہر شخص نظر آتا ہے بہتر مجھ سے
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا
جب بھی ناکام ہوا میں، تو پکارا اس کو
اس نے الجھا ہوا ہر کام مرا سلجھایا

ان اشعار پر خصوصی داد! :in-love:
محمد عبدالرؤوف — مارچ 3، 2021 1:22 شام
بہت خوب تابش بھائی
شمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرت
بے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا

اللہ آپ کے اس حسنِ ظن کو سچ فرما دے تو معاشرہ جگمگا اٹھے گا
اے خان — مارچ 3، 2021 2:14 شام
واہ بہت خوب
عرفان علوی — مارچ 4، 2021 1:25 صبح
جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
ہر نیا زخم ہے اب میرے بدن پر پھایا
شمعِ احساس کو ہے ایک شرر کی حسرت
بے حسی کا ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا
میں کہ تھا حسنِ رخِ یار کے دیدار سے خوش
میرا خوش رہنا بھی اک آنکھ نہ اُس کو بھایا
اب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا
جب بھی ناکام ہوا میں، تو پکارا اس کو
اس نے الجھا ہوا ہر کام مرا سلجھایا
وادیِ عشق کا رستہ بھی ہے منزل تابشؔ
میں نے دل کو ہے بہت بار یہی سمجھایا

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
تابش صاحب، بہت اچھی غزل ہے ۔ داد قبول فرمائیے ۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2021 4:05 صبح
شکریہ نور بہن
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2021 4:06 صبح
اچھی غزل ہے تابش بھائی!
ان اشعار پر خصوصی داد! :in-love:
بہت شکریہ احمد بھائی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2021 4:06 صبح
بہت خوب تابش بھائی
اللہ آپ کے اس حسنِ ظن کو سچ فرما دے تو معاشرہ جگمگا اٹھے گا
آمین۔ جزاک اللہ خیر
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2021 4:06 صبح
آداب خان صاحب
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2021 4:07 صبح
تابش صاحب، بہت اچھی غزل ہے ۔ داد قبول فرمائیے ۔
سپاس گزار ہوں عرفان بھائی۔
یاسر شاہ — مارچ 6، 2021 9:33 صبح
جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
ہر نیا زخم ہے اب میرے بدن پر پھایا

اب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا

بہت خوب -
محمد تابش صدیقی — مارچ 6، 2021 5:36 شام
جزاک اللہ خیر
ظہیراحمدظہیر — مارچ 13، 2021 4:30 صبح
واہ واہ! بہت خوب!! اچھی غزل ہے تابش بھائی!
مطلع بہت اچھا کہا ہے! بس ایک ادنیٰ سی رائے یہ ہے کہ دوسرے مصرع میں "ہے اب" کی جگہ "ہوا" کرلیں تو پہلے مصرع سے زمانی مطابقت بھی ہوجائے گی اور مصرعے معنوی طور پر بھی مربوط ہوجائیں گے ۔
جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
ہر نیا زخم ہوا میرے بدن پر پھایا
چوتھا شعر بھی بہت اچھا ہے! خوب کہا ہے ! ویسے پہلے مصرع میں مجھ کے بجائے "خود" کا محل ہے :
اب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا
پہلے مصرع کے بارے میں ایک بے طلب رائے یہ ہے کہ:
مجھے ہر شخص نظر آتا ہے خود سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا
اس بے طلب مشورے کے لئے پیشگی معذرت۔ اشعار اتنے اچھے ہیں کہ اس معمولی سی نوک پلک کی درستی کا مشورہ دیئے بغیر رہا نہیں گیا ۔:):):)
محمد تابش صدیقی — مارچ 13، 2021 5:01 صبح
واہ واہ! بہت خوب!! اچھی غزل ہے تابش بھائی!
مطلع بہت اچھا کہا ہے! بس ایک ادنیٰ سی رائے یہ ہے کہ دوسرے مصرع میں "ہے اب" کی جگہ "ہوا" کرلیں تو پہلے مصرع سے زمانی مطابقت بھی ہوجائے گی اور مصرعے معنوی طور پر بھی مربوط ہوجائیں گے ۔
جادۂ شوق میں ہر زخم خوشی سے کھایا
ہر نیا زخم ہوا میرے بدن پر پھایا
چوتھا شعر بھی بہت اچھا ہے! خوب کہا ہے ! ویسے پہلے مصرع میں مجھ کے بجائے "خود" کا محل ہے :
اب تو ہر شخص نظر آتا ہے مجھ سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا
پہلے مصرع کے بارے میں ایک بے طلب رائے یہ ہے کہ:
مجھے ہر شخص نظر آتا ہے خود سے بہتر
جب سے اپنے بُتِ پندار کو میں نے ڈھایا
اس بے طلب مشورے کے لئے پیشگی معذرت۔ اشعار اتنے اچھے ہیں کہ اس معمولی سی نوک پلک کی درستی کا مشورہ دیئے بغیر رہا نہیں گیا ۔:):):)
جزاک اللہ خیر ظہیر بھائی۔
پہلا مشورہ کلی طور پر اور دوسرا مشورہ جزوی طور پر قبول۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%D8%A7%D8%AF%DB%82-%D8%B4%D9%88%D9%82-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D8%B1-%D8%B2%D8%AE%D9%85-%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.115395/