غزل: جاہل سے قیادت کی امید نہیں کرتے

عرفان علوی — جولائی 17، 2022 5:14 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
آج بَیاض میں ایک پرانی غزل نگاہ سے گزری . سوچا آپ كے اعلیٰ ذوق کی نذر کروں . شاید کسی قابل ہو .
جاہل سے قیادت کی امید نہیں کرتے
ہَم آج كےميروں کی تقلید نہیں کرتے
حق بات کہے وہ تو لبیک کہو لیکن
ہر نعرۂ قائد کی تائید نہیں کرتے
تنقیص و تعرّض كے پیمانے بناؤ کچھ
بےوجہ کسی شئے کی تردید نہیں کرتے
دنیا کو تو ٹوکا ہے سو بار خطاؤں پر
ہَم خود کو کبھی لیکن تاکید نہیں کرتے
مصروف زمانہ ہے، سو کہتے ہیں مطلب کی
ہَم بات میں تکلیفِ تمہید نہیں کرتے
بھولے سے کہیں ہَم کو دشمن نہ سمجھ بیٹھیں
یاروں پہ ہَم اِس ڈر سے تنقید نہیں کرتے
ہر دور كے رنگوں میں ڈھالا ہے طبیعت کو
یہ کس نے کہا ہے ہَم تجدید نہیں کرتے؟
ہَم سائے پریشاں ہوں تو کیسی خوشی عابؔد
جب شہر میں ماتم ہو، ہَم عید نہیں کرتے​

نیازمند ،
عرفان عابدؔ
یاسر شاہ — جولائی 17، 2022 5:44 صبح
بھولے سے کہیں ہَم کو دشمن نہ سمجھ بیٹھیں
یاروں پہ ہَم اِس ڈر سے تنقید نہیں کرتے

ہَم سائے پریشاں ہوں تو کیسی خوشی عابؔد
جب شہر میں ماتم ہو، ہَم عید نہیں کرتے
تنقیص و تعرّض كے پیمانے بناؤ کچھ
بےوجہ کسی شئے کی تردید نہیں کرتے
ماشاء اللہ علوی صاحب اچھی غزل ہے۔ یہ اشعار دل کو بھائے۔جزاک اللہ خیر
محمد عبدالرؤوف — جولائی 17، 2022 6:13 صبح
بہت اچھی غزل ہے عابد بھائی ماشاء اللہ
تنقیص و تعرّض كے پیمانے بناؤ کچھ
بےوجہ کسی شئے کی تردید نہیں کرتے
واہ واہ بہت خوب۔۔۔۔
عرفان علوی — جولائی 17، 2022 8:42 شام
ماشاء اللہ علوی صاحب اچھی غزل ہے۔ یہ اشعار دل کو بھائے۔جزاک اللہ خیر
یاسر بھائی ، نوازش كے لیے ممنون ہوں . جزاک اللہ !
عرفان علوی — جولائی 17، 2022 8:45 شام
بہت اچھی غزل ہے عابد بھائی ماشاء اللہ
واہ واہ بہت خوب۔۔۔۔
عبدالرؤوف صاحب ، حوصلہ افزائی کا شکریہ !
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 18، 2022 7:03 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
آج بَیاض میں ایک پرانی غزل نگاہ سے گزری . سوچا آپ كے اعلیٰ ذوق کی نذر کروں . شاید کسی قابل ہو .
جاہل سے قیادت کی امید نہیں کرتے
ہَم آج كےميروں کی تقلید نہیں کرتے
حق بات کہے وہ تو لبیک کہو لیکن
ہر نعرۂ قائد کی تائید نہیں کرتے
تنقیص و تعرّض كے پیمانے بناؤ کچھ
بےوجہ کسی شئے کی تردید نہیں کرتے
دنیا کو تو ٹوکا ہے سو بار خطاؤں پر
ہَم خود کو کبھی لیکن تاکید نہیں کرتے
مصروف زمانہ ہے، سو کہتے ہیں مطلب کی
ہَم بات میں تکلیفِ تمہید نہیں کرتے
بھولے سے کہیں ہَم کو دشمن نہ سمجھ بیٹھیں
یاروں پہ ہَم اِس ڈر سے تنقید نہیں کرتے
ہر دور كے رنگوں میں ڈھالا ہے طبیعت کو
یہ کس نے کہا ہے ہَم تجدید نہیں کرتے؟
ہَم سائے پریشاں ہوں تو کیسی خوشی عابؔد
جب شہر میں ماتم ہو، ہَم عید نہیں کرتے​

نیازمند ،
عرفان عابدؔ
واہ ! کیا خوب !
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 18، 2022 7:19 صبح
ماشاءاللّٰه
عرفان بھائی بہت لاجواب اور زبردست غزل پیش کی ۔
یہ شعر تو بہت ہی زبردست ہے
ہَم سائے پریشاں ہوں تو کیسی خوشی عابؔد
جب شہر میں ماتم ہو، ہَم عید نہیں کرتے
عرفان علوی — جولائی 19، 2022 1:19 صبح
خلیل بھائی ، بہت نوازش . جزاک اللہ !
عرفان علوی — جولائی 19، 2022 1:21 صبح
ماشاءاللّٰه
عرفان بھائی بہت لاجواب اور زبردست غزل پیش کی ۔
یہ شعر تو بہت ہی زبردست ہے
عدنان صاحب ، ذرہ نوازی كے لیے بے حد ممنون ہوں . جزاک اللہ !
خورشیداحمدخورشید — جولائی 19، 2022 7:53 صبح
ماشااللہ!
بہت خوب! تمام اشعار بہت اعلٰی۔
سر! پوری غزل آپ نے بولڈ لہجے میں کہی ہے۔ یہ شعر ویسے بہت اچھا ہے لیکن اس بولڈنیس سے ہٹ کے ہے (یہ تنقید نہیں تجزیہ ہے) :)
بھولے سے کہیں ہَم کو دشمن نہ سمجھ بیٹھیں
یاروں پہ ہَم اِس ڈر سے تنقید نہیں کرتے​
امین شارق — جولائی 19، 2022 12:32 شام
بہت اچھی غزل ہے عابد بھائی ماشاء اللہ
الف عین — جولائی 19، 2022 6:28 شام
اچھی غزل ہے عرفان
عرفان علوی — جولائی 20، 2022 3:33 صبح
ماشااللہ!
بہت خوب! تمام اشعار بہت اعلٰی۔
سر! پوری غزل آپ نے بولڈ لہجے میں کہی ہے۔ یہ شعر ویسے بہت اچھا ہے لیکن اس بولڈنیس سے ہٹ کے ہے (یہ تنقید نہیں تجزیہ ہے) :)
بھولے سے کہیں ہَم کو دشمن نہ سمجھ بیٹھیں
یاروں پہ ہَم اِس ڈر سے تنقید نہیں کرتے​
خورشید صاحب ، ستائش كے لیے متشکر ہوں . جزاک اللہ . بھائی ، آپ تنقید بھی کرینگے تو خاکسار کو کوئی شکایت نہ ہوگی انشاءاللہ . :) آپ کا تجزیہ دلچسپ ہے لہٰذا اِس پر چند باتیں عرض ہیں . آپ کو تو علم ہو گا ہی کہ غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل بیان ہوتا ہے . اگر غزل مسلسل نہ ہو تو اس كے اشعار كے موڈ کا مختلف ہونا عام ہے . ہاں ، اگر غزل ایک ہی نشست میں کہی گئی ہو تو مسلسل نہ ہوتے ہوئے بھی اس كے اشعار کا موڈ ایک جیسا ہوسکتا ہے . اور میرے ساتھ واقعہ یہ ہے میری ناچیز غزلیات کی تکمیل ایک نشست میں شاذ و نادر ہی ہوتی ہے . ویسے چلتے چلتے یہ بھی عرض ہے کہ یاروں پر طنز كے لیے بھی خاصی بولڈنیس چاہیے . غرض یہ کہ مذکورہ شعر ایسا مجبور بھی نہیں جیسا آپ کو نظر آ رہا ہے . :)
عرفان علوی — جولائی 20، 2022 3:35 صبح
بہت اچھی غزل ہے عابد بھائی ماشاء اللہ
امین صاحب ، بڑی مہربانی . جزاک اللہ !
عرفان علوی — جولائی 20، 2022 3:37 صبح
محترم اعجاز صاحب ، آپ کی داد میرے لیے بے انتہا خوشی کا باعث ہے . جزاک اللہ !
خورشیداحمدخورشید — جولائی 20، 2022 7:20 صبح
خورشید صاحب ، ستائش كے لیے متشکر ہوں . جزاک اللہ . بھائی ، آپ تنقید بھی کرینگے تو خاکسار کو کوئی شکایت نہ ہوگی انشاءاللہ . :) آپ کا تجزیہ دلچسپ ہے لہٰذا اِس پر چند باتیں عرض ہیں . آپ کو تو علم ہو گا ہی کہ غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل بیان ہوتا ہے . اگر غزل مسلسل نہ ہو تو اس كے اشعار كے موڈ کا مختلف ہونا عام ہے . ہاں ، اگر غزل ایک ہی نشست میں کہی گئی ہو تو مسلسل نہ ہوتے ہوئے بھی اس كے اشعار کا موڈ ایک جیسا ہوسکتا ہے . اور میرے ساتھ واقعہ یہ ہے میری ناچیز غزلیات کی تکمیل ایک نشست میں شاذ و نادر ہی ہوتی ہے . ویسے چلتے چلتے یہ بھی عرض ہے کہ یاروں پر طنز كے لیے بھی خاصی بولڈنیس چاہیے . غرض یہ کہ مذکورہ شعر ایسا مجبور بھی نہیں جیسا آپ کو نظر آ رہا ہے . :)
سر! آپکی محبت کا شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%D8%A7%DB%81%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92.118659/