غزل: جب سے ہَم چار پیسے کمانے لگے

عرفان علوی — نومبر 29، 2020 4:13 صبح
آداب ، دوستو !
حال ہی میں احسن سمیع راحل صاحب سے اک آن لائن محفل میں ملاقات ہوئی . راحل صاحب کو میں عرصہء دراز سے جانتا ہوں ، لیکن ان سے کئ سال سے رابطہ نہیں ہوا تھا . ان كے حکم کی تعمیل میں اہل ذوق کی اِس بزم میں ایک غزل پیش کرنے سعادت حاصل کر رہا ہوں . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی گراں قدر رائے سے نوازئے . شکریہ !
غزل
جب سے ہَم چار پیسے کمانے لگے
اہلِ دنیا تو سَر پر بِٹھانے لگے
حیثیت سے ہیں وابستہ رشتے سبھی
یہ سمجھنے میں ہَم کو زمانے لگے
کاسہ دیکھا جو اک طفل كے ہاتھ میں
عیش وعشرت كے دعوے فسانے لگے
اک زمیں تو سنبھلتی نہیں اور ہَم
چاند تاروں پے دنیا بسانے لگے
ہَم نے دیکھے ہیں اہلِ سیاست كے دِل
بغض ونفرت كے سب کارخانے لگے
عدل و ایماں متاعِ دکاں ہو گئے
لوگ ان کی بھی بولی لگانے لگے
آج کی نسل کی فکر كے سامنے
اپنے افکارِنو بھی پرانے لگے
کیا ہے تنکے کی قیمت ، خبر ہو گئی
جب نشیمن ہَم اپنا بنانے لگے
زندگی کا سبق ہے ، کچل دو اُسے
جب تمنا کوئی سَر اٹھانے لگے
ہَم نے سوچا تھا عابؔد ، کہوگے غزل
تم تو اپنے مسائل سنانے لگے
نیازمند
عرفان عابؔد​
سید عاطف علی — نومبر 29، 2020 4:31 صبح
علوی صاحب آپ کو محفل میں خوش آمدید۔ اور راحل بھائی کی معرفت کی ایک اور خوش آمدید۔÷ بہت عمدہ غزل پیش کی ہے آپ نے ۔ بہت خوب ۔
لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ محفل میں اپنا باقاعدہ تعارف پیش کریں تاکہ احباب محفل بھی اپ کا قرار واقعی خیر مقدم کر سکیں ۔ امید ہے یہاں آپ کا تجربہ خوشگوار ہو گا۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 29، 2020 7:01 صبح
حال ہی میں احسن سمیع راحل صاحب سے اک آن لائن محفل میں ملاقات ہوئی . راحل صاحب کو میں عرصہء دراز سے جانتا ہوں ، لیکن ان سے کئ سال سے رابطہ نہیں ہوا تھا . ان كے حکم کی تعمیل میں اہل ذوق کی اِس بزم میں ایک غزل پیش کرنے سعادت حاصل کر رہا ہوں . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی گراں قدر رائے سے نوازئے . شکریہ !
زہے نصیب، زہے نصیب! خوش آمدید عرفان بھائی۔ میری خوش نصیبی کہ آپ نے میری دعوت پر اس محفل میں شرکت کی۔ امید ہے کہ ہمیں باقاعدگی کے آپ کے کلام سے محظوظ ہونے کی سعادت حاصل رہے گی۔
عرفان بھائی سے میرا پہلا تعارف سن ۲۰۰۲ میں، ایک ویب سائٹ ای بزم ڈاٹ کام کے ذریعے ہوا جہاں انہوں نے کمالِ مہربانی سے میری اس وقت کی انتہائی معمولی غزلوں کی نہ صرف اصلاح فرمائی بلکہ مزید لکھنے کے لیے حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ وہ دن تھے جب ابھی فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے ذرائع ابلاغ کا ظہور نہیں ہوا تھا، سو انٹرنیٹ پر اس طرح کے فورمز نہایت مقبول تھے اور اردو کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد ان کو ہمہ وقت آباد کیے رکھتی تھی۔ علاوہ ازیں اسی ویب سائٹ پر ان کا ایک مفصل مضمون عروض سے میرے پہلے تعارف کا وسیلہ بنا۔ اسی لیے میں آج تک خود کو عرفان بھائی کا مقروض پاتا ہوں۔ کافی عرصہ سے ان سے رابطہ بحال کرنے کی تگ و دو میں تھا، بالآخر گزشتہ ہفتہ کامیابی نصیب ہوئی :)
عرفان بھائی اب خال خال ہی انٹرنیٹ کی ادبی محفلوں میں جلوہ افروز نظر آتے ہیں۔ امید ہے اردو محفل میں ان کی شرکت اس بزم کے لیے نہایت سودمند ثابت ہوگی اور محفلین ان کے علم اور تجربے سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 29، 2020 7:03 صبح
غزل
جب سے ہَم چار پیسے کمانے لگے
اہلِ دنیا تو سَر پر بِٹھانے لگے
حیثیت سے ہیں وابستہ رشتے سبھی
یہ سمجھنے میں ہَم کو زمانے لگے
کاسہ دیکھا جو اک طفل كے ہاتھ میں
عیش وعشرت كے دعوے فسانے لگے
اک زمیں تو سنبھلتی نہیں اور ہَم
چاند تاروں پے دنیا بسانے لگے
ہَم نے دیکھے ہیں اہلِ سیاست كے دِل
بغض ونفرت كے سب کارخانے لگے
عدل و ایماں متاعِ دکاں ہو گئے
لوگ ان کی بھی بولی لگانے لگے
آج کی نسل کی فکر كے سامنے
اپنے افکارِنو بھی پرانے لگے
کیا ہے تنکے کی قیمت ، خبر ہو گئی
جب نشیمن ہَم اپنا بنانے لگے
زندگی کا سبق ہے ، کچل دو اُسے
جب تمنا کوئی سَر اٹھانے لگے
ہَم نے سوچا تھا عابؔد ، کہوگے غزل
تم تو اپنے مسائل سنانے لگے
نیازمند
عرفان عابؔد

بہت خوب عرفان بھائی، حسبِ سابق عمدہ غزل ہے ماشاء اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 29، 2020 7:06 صبح
مکرمی عرفان بھائی سے گزارش ہے کی ذیل میں دیے گئے ربط پر، حسبِ دستورِ محفل، اپنا رسمی تعارف ضرور کروائیں۔ جزاک اللہ۔
تعارف و انٹرویو
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 29، 2020 7:10 صبح
الف عین محمد خلیل الرحمٰن ظہیراحمدظہیر محمد تابش صدیقی محمد وارث
میں نے سوچا دیگر بڑوں کو بھی اطلاع کردوں :)
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 29، 2020 7:57 صبح
آداب ، دوستو !
حال ہی میں احسن سمیع راحل صاحب سے اک آن لائن محفل میں ملاقات ہوئی . راحل صاحب کو میں عرصہء دراز سے جانتا ہوں ، لیکن ان سے کئ سال سے رابطہ نہیں ہوا تھا . ان كے حکم کی تعمیل میں اہل ذوق کی اِس بزم میں ایک غزل پیش کرنے سعادت حاصل کر رہا ہوں . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی گراں قدر رائے سے نوازئے . شکریہ !
غزل
جب سے ہَم چار پیسے کمانے لگے
اہلِ دنیا تو سَر پر بِٹھانے لگے
حیثیت سے ہیں وابستہ رشتے سبھی
یہ سمجھنے میں ہَم کو زمانے لگے
کاسہ دیکھا جو اک طفل كے ہاتھ میں
عیش وعشرت كے دعوے فسانے لگے
اک زمیں تو سنبھلتی نہیں اور ہَم
چاند تاروں پے دنیا بسانے لگے
ہَم نے دیکھے ہیں اہلِ سیاست كے دِل
بغض ونفرت كے سب کارخانے لگے
عدل و ایماں متاعِ دکاں ہو گئے
لوگ ان کی بھی بولی لگانے لگے
آج کی نسل کی فکر كے سامنے
اپنے افکارِنو بھی پرانے لگے
کیا ہے تنکے کی قیمت ، خبر ہو گئی
جب نشیمن ہَم اپنا بنانے لگے
زندگی کا سبق ہے ، کچل دو اُسے
جب تمنا کوئی سَر اٹھانے لگے
ہَم نے سوچا تھا عابؔد ، کہوگے غزل
تم تو اپنے مسائل سنانے لگے
نیازمند
عرفان عابؔد​
خوبصورت غزل۔
اردو محفل فورم میں خوش آمدید علوی بھائی۔ امید ہے اپنی نظم و نثر شریک محفل کرتے رہیں گے جس سے ہم مبتدیوں کو بھرپور استفادے کا موقع ملتا رہے گا۔
سید عاطف علی — نومبر 29، 2020 8:33 صبح
ایک ویب سائٹ ای بزم ڈاٹ کام کے ذریعے ہوا
ای بزم کا نام کافی سنا سنا لگ رہا ہے ۔ کچھ پرانی یادداشتوں کے دھندلے سے نقوش ذہن میں جھلملارہے ہیں ۔ :)
ایس ایس ساگر — نومبر 29، 2020 9:27 صبح
جب سے ہَم چار پیسے کمانے لگے
اہلِ دنیا تو سَر پر بِٹھانے لگے
حیثیت سے ہیں وابستہ رشتے سبھی
یہ سمجھنے میں ہَم کو زمانے لگے
کاسہ دیکھا جو اک طفل كے ہاتھ میں
عیش وعشرت كے دعوے فسانے لگے
اک زمیں تو سنبھلتی نہیں اور ہَم
چاند تاروں پے دنیا بسانے لگے
ہَم نے دیکھے ہیں اہلِ سیاست كے دِل
بغض ونفرت كے سب کارخانے لگے
عدل و ایماں متاعِ دکاں ہو گئے
لوگ ان کی بھی بولی لگانے لگے
آج کی نسل کی فکر كے سامنے
اپنے افکارِنو بھی پرانے لگے
کیا ہے تنکے کی قیمت ، خبر ہو گئی
جب نشیمن ہَم اپنا بنانے لگے
زندگی کا سبق ہے ، کچل دو اُسے
جب تمنا کوئی سَر اٹھانے لگے
ہَم نے سوچا تھا عابؔد ، کہوگے غزل
تم تو اپنے مسائل سنانے لگے
خوبصورت اشعار۔ بہت اعلٰی غزل۔ خوش آمدید سر۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 29، 2020 9:34 صبح
آداب ، دوستو !
حال ہی میں احسن سمیع راحل صاحب سے اک آن لائن محفل میں ملاقات ہوئی . راحل صاحب کو میں عرصہء دراز سے جانتا ہوں ، لیکن ان سے کئ سال سے رابطہ نہیں ہوا تھا . ان كے حکم کی تعمیل میں اہل ذوق کی اِس بزم میں ایک غزل پیش کرنے سعادت حاصل کر رہا ہوں . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی گراں قدر رائے سے نوازئے . شکریہ !
غزل
جب سے ہَم چار پیسے کمانے لگے
اہلِ دنیا تو سَر پر بِٹھانے لگے
حیثیت سے ہیں وابستہ رشتے سبھی
یہ سمجھنے میں ہَم کو زمانے لگے
کاسہ دیکھا جو اک طفل كے ہاتھ میں
عیش وعشرت كے دعوے فسانے لگے
اک زمیں تو سنبھلتی نہیں اور ہَم
چاند تاروں پے دنیا بسانے لگے
ہَم نے دیکھے ہیں اہلِ سیاست كے دِل
بغض ونفرت كے سب کارخانے لگے
عدل و ایماں متاعِ دکاں ہو گئے
لوگ ان کی بھی بولی لگانے لگے
آج کی نسل کی فکر كے سامنے
اپنے افکارِنو بھی پرانے لگے
کیا ہے تنکے کی قیمت ، خبر ہو گئی
جب نشیمن ہَم اپنا بنانے لگے
زندگی کا سبق ہے ، کچل دو اُسے
جب تمنا کوئی سَر اٹھانے لگے
ہَم نے سوچا تھا عابؔد ، کہوگے غزل
تم تو اپنے مسائل سنانے لگے
نیازمند
عرفان عابؔد​
لاجواب کلام۔
بہت خوب عرفان بھائی۔
پڑھوانے پر راحل بھائی کا شکریہ۔ :)
عرفان علوی — نومبر 29، 2020 7:19 شام
علوی صاحب آپ کو محفل میں خوش آمدید۔ اور راحل بھائی کی معرفت کی ایک اور خوش آمدید۔÷ بہت عمدہ غزل پیش کی ہے آپ نے ۔ بہت خوب ۔
لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ محفل میں اپنا باقاعدہ تعارف پیش کریں تاکہ احباب محفل بھی اپ کا قرار واقعی خیر مقدم کر سکیں ۔ امید ہے یہاں آپ کا تجربہ خوشگوار ہو گا۔
عاطف صاحب ، آداب عرض ہے !
آپ کی محبت كے لیے بے حد ممنون ہوں . میرے بارے میں کہنے لائق کچھ ہے نہیں ، لیکن جو کچھ بھی ممکن تھا ، میں نے تعارف والے خانے میں چسپاں کر دیا ہے .:)
نیازمند ،
عرفان عؔابد
عرفان علوی — نومبر 29، 2020 7:36 شام
زہے نصیب، زہے نصیب! خوش آمدید عرفان بھائی۔ میری خوش نصیبی کہ آپ نے میری دعوت پر اس محفل میں شرکت کی۔ امید ہے کہ ہمیں باقاعدگی کے آپ کے کلام سے محظوظ ہونے کی سعادت حاصل رہے گی۔
عرفان بھائی سے میرا پہلا تعارف سن ۲۰۰۲ میں، ایک ویب سائٹ ای بزم ڈاٹ کام کے ذریعے ہوا جہاں انہوں نے کمالِ مہربانی سے میری اس وقت کی انتہائی معمولی غزلوں کی نہ صرف اصلاح فرمائی بلکہ مزید لکھنے کے لیے حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ وہ دن تھے جب ابھی فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے ذرائع ابلاغ کا ظہور نہیں ہوا تھا، سو انٹرنیٹ پر اس طرح کے فورمز نہایت مقبول تھے اور اردو کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد ان کو ہمہ وقت آباد کیے رکھتی تھی۔ علاوہ ازیں اسی ویب سائٹ پر ان کا ایک مفصل مضمون عروض سے میرے پہلے تعارف کا وسیلہ بنا۔ اسی لیے میں آج تک خود کو عرفان بھائی کا مقروض پاتا ہوں۔ کافی عرصہ سے ان سے رابطہ بحال کرنے کی تگ و دو میں تھا، بالآخر گزشتہ ہفتہ کامیابی نصیب ہوئی :)
عرفان بھائی اب خال خال ہی انٹرنیٹ کی ادبی محفلوں میں جلوہ افروز نظر آتے ہیں۔ امید ہے اردو محفل میں ان کی شرکت اس بزم کے لیے نہایت سودمند ثابت ہوگی اور محفلین ان کے علم اور تجربے سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔

راحل صاحب ، آداب عرض ہے !
شکریہ تو دَر اصل مجھ پر واجب ہے کی آپ نے مجھے اتنی بلند پایہ بزم سے متعارف کراایا . مجھے یہاں آ کر بہت خوشی ہوئی .
آپ نے مجھے جو عزت بخشی ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کا اہل ہوں . بہر حال ، نوازش كے لیے میرا دلی شکریہ قبول فرمائییے .
جیسا کہ میں نے عاطف صاحب سے عرض کیا ، میں نے اپنے تعارف میں چند الفاظ تعارف والے خانے میں چسپاں کر دئے ہیں . امید ہے آپ سے ملاقات ہوتی رہے گی .
نیازمند ،
عرفان عؔابد
ظہیراحمدظہیر — نومبر 29، 2020 8:31 شام
واہ واہ! بہت خوب! کیا اچھے اشعار ہیں عرفان عابدؔ صاحب!
بہت داد آپ کے لئے!
بزمِ سخن میں خوش آمدید! امید ہے کہ آپ یہاں تادیر رونق افروز رہیں گے اور اپنے کلام سے نوازتے رہیں گے۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 29، 2020 8:39 شام
زہے نصیب، زہے نصیب! خوش آمدید عرفان بھائی۔ میری خوش نصیبی کہ آپ نے میری دعوت پر اس محفل میں شرکت کی۔ امید ہے کہ ہمیں باقاعدگی کے آپ کے کلام سے محظوظ ہونے کی سعادت حاصل رہے گی۔
عرفان بھائی سے میرا پہلا تعارف سن ۲۰۰۲ میں، ایک ویب سائٹ ای بزم ڈاٹ کام کے ذریعے ہوا جہاں انہوں نے کمالِ مہربانی سے میری اس وقت کی انتہائی معمولی غزلوں کی نہ صرف اصلاح فرمائی بلکہ مزید لکھنے کے لیے حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ وہ دن تھے جب ابھی فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے ذرائع ابلاغ کا ظہور نہیں ہوا تھا، سو انٹرنیٹ پر اس طرح کے فورمز نہایت مقبول تھے اور اردو کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد ان کو ہمہ وقت آباد کیے رکھتی تھی۔ علاوہ ازیں اسی ویب سائٹ پر ان کا ایک مفصل مضمون عروض سے میرے پہلے تعارف کا وسیلہ بنا۔ اسی لیے میں آج تک خود کو عرفان بھائی کا مقروض پاتا ہوں۔ کافی عرصہ سے ان سے رابطہ بحال کرنے کی تگ و دو میں تھا، بالآخر گزشتہ ہفتہ کامیابی نصیب ہوئی :)
عرفان بھائی اب خال خال ہی انٹرنیٹ کی ادبی محفلوں میں جلوہ افروز نظر آتے ہیں۔ امید ہے اردو محفل میں ان کی شرکت اس بزم کے لیے نہایت سودمند ثابت ہوگی اور محفلین ان کے علم اور تجربے سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔
راحل بھائی ، بہت شکریہ عرفان عابدؔ صاحب کے تعارف کا اور انہیں بزمِ سخن میں لانے کا ۔ عرفان صاحب کو خوش آمدید اور آپ کو "خوش آوردید"! :)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 29، 2020 8:41 شام
راحل بھائی ، یہ توآپ کی محبت ہے کہ آپ نے ان بڑوں میں مجھ بڑبڑے کو بھی شامل کردیا ۔:)
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 29، 2020 8:44 شام
راحل بھائی ، یہ توآپ کی محبت ہے کہ آپ نے ان بڑوں میں مجھ بڑبڑے کو بھی شامل کردیا ۔:)
بڑے ہوں، بڑبڑے ہوں یا دہی بڑے ... ہم ہر سہ کے بھرپور "فین" اور عقیدت مند ہیں :)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 29، 2020 9:11 شام
بڑے ہوں، بڑبڑے ہوں یا دہی بڑے ... ہم ہر سہ کے بھرپور "فین" اور عقیدت مند ہیں :)
آپ اگر دہی بڑوں کے پنکھے ہیں تو مجھے مورچھل سمجھئے ۔
الف عین — نومبر 30، 2020 8:46 صبح
ماشاء اللہ بہترین غزل اور اردو محفل فورم میں گراں قدر اضافہ
عرفان علوی — دسمبر 2، 2020 12:43 صبح
خوبصورت غزل۔
اردو محفل فورم میں خوش آمدید علوی بھائی۔ امید ہے اپنی نظم و نثر شریک محفل کرتے رہیں گے جس سے ہم مبتدیوں کو بھرپور استفادے کا موقع ملتا رہے گا۔

خلیل صاحب ، آداب عرض ہے!
آپ کی نوازش سَر آنكھوں پر! یوں تو میں بھی مبتدی ہوں، لیکن جس قابل ہوں، انشا اللہ حاضر خدمت رہونگا .
نیازمند ،
عرفان عؔابد
عرفان علوی — دسمبر 2، 2020 12:48 صبح
خوبصورت اشعار۔ بہت اعلٰی غزل۔ خوش آمدید سر۔

ساگر صاحب ، آداب عرض ہے !
ذرہ نوازی کا بہت بہت شکریہ !
نیازمند ،
عرفان عؔابد
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%DB%81%D9%8E%D9%85-%DA%86%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%DB%8C%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%84%DA%AF%DB%92.114081/