غزل: جفاؤں کی بپھری ہوا میں چراغِ وفا رکھ رہا ہوں، جسارت تو دیکھو ٭ تابش

محمد تابش صدیقی — جون 6، 2018 10:05 صبح
ایک کاوش احباب کی بصارتوں کی نذر
جفاؤں کی بپھری ہوا میں چراغِ وفا رکھ رہا ہوں، جسارت تو دیکھو
میں نفرت کی بستی میں الفت کا اظہار کرنے لگا ہوں، شجاعت تو دیکھو
ستم گر سے چارہ گری کی تمنا ہے، رہزن جو ہیں اُن کو رہبر کیا ہے
میں بارش میں کچی چھتوں پر بھروسہ کیے جا رہا ہوں، حماقت تو دیکھو
زمانے کے سارے غموں کی خبر ہے، کہاں کون خوش ہے وہ سب جانتا ہوں
مگر ساتھ گھر میں کوئی مر رہا ہے، نہیں جانتا ہوں، جہالت تو دیکھو
کدورت ہے، بغض اور کینہ ہے دل میں، عبادت بنی ہے نمود و نمائش
میں دل میں لیے میل، کھوٹے عمل کی جزا چاہتا ہوں، یہ چاہت تو دیکھو
یہ مانا کہ ناقص تھی میری محبت، زمانے کی تابشؔ نے بہکا دیا تھا
لیے چشمِ گریاں، میں تجدیدِ عہدِ وفا کر رہا ہوں، ندامت تو دیکھو​
٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمد عدنان اکبری نقیبی — جون 6، 2018 10:09 صبح
واہ بھیا لا جواب بہت عمدہ۔۔
اللہ کریم ذوق سخن زیادہ سے زیادہ کرے
محمداحمد — جون 6، 2018 10:09 صبح
خوبصورت!
اتنی بڑی بحر میں بہت اچھے اشعار کہے ہیں تابش بھائی!
مبارکباد قبول کیجے۔
محمد امین صدیق — جون 6، 2018 10:42 صبح
واہ برادرم تابش ۔۔
بہت خوب ۔ :):)
محمد وارث — جون 6، 2018 11:12 صبح
خوب غزل ہے صدیقی صاحب، لاجواب۔
یاز — جون 6، 2018 11:35 صبح
زبردست جناب۔
سید ذیشان — جون 6، 2018 11:49 صبح
خوب است!
الف عین — جون 6، 2018 11:51 صبح
واہ واہ، کیا استادی کا مظاہرہ کیا ہے!
لاریب مرزا — جون 6، 2018 11:56 صبح
بہت عمدہ کلام ہے!! زبردست!!
محمد خلیل الرحمٰن — جون 6، 2018 12:41 شام
مزے دار مزے دار۔ واہ کیا خوبصورت مترنم غزل ہے۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے۔
محمد خرم یاسین — جون 6، 2018 12:54 شام
ایک کاوش احباب کی بصارتوں کی نذر
جفاؤں کی بپھری ہوا میں چراغِ وفا رکھ رہا ہوں، جسارت تو دیکھو
میں نفرت کی بستی میں الفت کا اظہار کرنے لگا ہوں، شجاعت تو دیکھو

ستم گر سے چارہ گری کی تمنا ہے، رہزن جو ہیں اُن کو رہبر کیا ہے
میں بارش میں کچی چھتوں پر بھروسہ کیے جا رہا ہوں، حماقت تو دیکھو
زمانے کے سارے غموں کی خبر ہے، کہاں کون خوش ہے وہ سب جانتا ہوں
مگر ساتھ گھر میں کوئی مر رہا ہے، نہیں جانتا ہوں، جہالت تو دیکھو
کدورت ہے، بغض اور کینہ ہے دل میں، عبادت بنی ہے نمود و نمائش
میں دل میں لیے میل، کھوٹے عمل کی جزا چاہتا ہوں، یہ چاہت تو دیکھو
یہ مانا کہ ناقص تھی میری محبت، زمانے کی تابشؔ نے بہکا دیا تھا
لیے چشمِ گریاں، میں تجدیدِ عہدِ وفا کر رہا ہوں، ندامت تو دیکھو

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
ما شا اللہ۔ بہت خوب
عرفان سعید — جون 6، 2018 12:58 شام
بڑی بحر میں شاندار غزل ہے تابش بھائی۔
عرفان سعید — جون 6، 2018 12:58 شام
جفاؤں کی بپھری ہوا میں چراغِ وفا رکھ رہا ہوں، جسارت تو دیکھو
میں نفرت کی بستی میں الفت کا اظہار کرنے لگا ہوں، شجاعت تو دیکھو
کمال مطلع!
محمد تابش صدیقی — جون 6، 2018 6:20 شام
واہ بھیا لا جواب بہت عمدہ۔۔
اللہ کریم ذوق سخن زیادہ سے زیادہ کرے
آمین۔ شکریہ عدنان بھائی
خوبصورت!
اتنی بڑی بحر میں بہت اچھے اشعار کہے ہیں تابش بھائی!
مبارکباد قبول کیجے۔
بہت شکریہ احمد بھائی۔
واہ برادرم تابش ۔۔
بہت خوب ۔ :):)
آداب امین بھائی
خوب غزل ہے صدیقی صاحب، لاجواب۔
پسند فرمانے پر شکرگزار ہوں، وارث بھائی۔
بہت شکریہ جناب۔
تشکر بسیار
واہ واہ، کیا استادی کا مظاہرہ کیا ہے!
استاد محترم، آپ کی جانب سے یہ داد اعزاز سے کم نہیں۔ :)
بہت عمدہ کلام ہے!! زبردست!!
شکریہ لاریب بہن۔
مزے دار مزے دار۔ واہ کیا خوبصورت مترنم غزل ہے۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے۔
پسند فرمانے پر ممنون ہوں، خلیل بھائی۔ خود بھی گنگناتا رہا۔ :)
ما شا اللہ۔ بہت خوب
شکریہ خرم بھائی۔
بڑی بحر میں شاندار غزل ہے تابش بھائی۔
آداب عرفان بھائی، بہت شکریہ۔
آپ احباب کی حوصلہ افزائی نے ڈھیروں خون بڑھا دیا۔ سلامت رہیں۔ :)
صفی حیدر — جون 6، 2018 7:23 شام
بہت خوب سر...... لاجواب تخلیق ہے
محمد تابش صدیقی — جون 7، 2018 7:27 صبح
بہت خوب سر...... لاجواب تخلیق ہے
بہت شکریہ صفی بھائی۔
"سر" اضافی ہے۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%D9%81%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D9%BE%DA%BE%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA%D9%90-%D9%88%D9%81%D8%A7-%D8%B1%DA%A9%DA%BE-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA%D8%8C-%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D8%AA%D9%88-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88-%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.101751/