غزل: جہان غرق ہراسِ فضا ئے تار میں ہے

عرفان علوی — مارچ 20، 2021 3:25 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے!
ابھی حال ہی میں عاطف صاحب نے ایک غزل عنایت فرمائی تھی ’تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے .‘ اس غزل کی زمین مجھے پسند آئی اورمیں اس زمین میں ایک غزل لے کر حاضر ہوں . چونکہ اِس غزل کا القا مجھے عاطف صاحب کی غزل سے ملا تھا، یہ ناچیز کاوش میں عاطف صاحب کو نذر کرتا ہوں . لیکن اِس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ دیگر احباب اِس پر اپنی رائے كے اظہار سے پرہیز کریں .:) حسب سابق آپ كے تأثرات کا انتظار رہیگا .
جہان غرق ہراسِ فضا ئے تار میں ہے
ہر اک چراغ ہواؤں كے اختیار میں ہے
بلائیں گھوم رہی ہیں زمیں كے گِرد ایسے
زمین جیسے مسلسل خود اک مدار میں ہے
جو کارواں سے میں بِچھڑا تو مجھ کو علم ہوا
نشانِ منزلِ مقصود رہگزار میں ہے
کوئی کسی کی مدد بے غرض نہیں کرتا
خیالِ سود و زیاں بھی تو کار و بار میں ہے
دلوں کا فرق تصادم سے خاک کم ہو گا
کہ حَل تو ایسے مسائل کا صرف پیار میں ہے
گرے بزور تو پتھر کو کاٹ دے پانی
مثال عزم و جسارت کی آبشار میں ہے
کھڑا ہے راہ میں پِھر ظلم و جبر کا دریا
زمانہ پِھر کسی موسیٰ كے انتظار میں ہے
کہے گا حشر میں اپنا فسانہ اے عؔابد
یہ بےگناہ کا خوں جو ستونِ دار میں ہے
نیازمند،
عرفان عؔابد
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 20، 2021 11:59 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے!
ابھی حال ہی میں عاطف صاحب نے ایک غزل عنایت فرمائی تھی ’تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے .‘ اس غزل کی زمین مجھے پسند آئی اورمیں اس زمین میں ایک غزل لے کر حاضر ہوں . چونکہ اِس غزل کا القا مجھے عاطف صاحب کی غزل سے ملا تھا، یہ ناچیز کاوش میں عاطف صاحب کو نذر کرتا ہوں . لیکن اِس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ دیگر احباب اِس پر اپنی رائے كے اظہار سے پرہیز کریں .:) حسب سابق آپ كے تأثرات کا انتظار رہیگا .
جہان غرق ہراسِ فضا ئے تار میں ہے
ہر اک چراغ ہواؤں كے اختیار میں ہے
بلائیں گھوم رہی ہیں زمیں كے گِرد ایسے
زمین جیسے مسلسل خود اک مدار میں ہے
جو کارواں سے میں بِچھڑا تو مجھ کو علم ہوا
نشانِ منزلِ مقصود رہگزار میں ہے
کوئی کسی کی مدد بے غرض نہیں کرتا
خیالِ سود و زیاں بھی تو کار و بار میں ہے
دلوں کا فرق تصادم سے خاک کم ہو گا
کہ حَل تو ایسے مسائل کا صرف پیار میں ہے
گرے بزور تو پتھر کو کاٹ دے پانی
مثال عزم و جسارت کی آبشار میں ہے
کھڑا ہے راہ میں پِھر ظلم و جبر کا دریا
زمانہ پِھر کسی موسیٰ كے انتظار میں ہے
کہے گا حشر میں اپنا فسانہ اے عؔابد
یہ بےگناہ کا خوں جو ستونِ دار میں ہے
نیازمند،
عرفان عؔابد
بہت خوب عرفان بھائی ... نہایت عمدہ اشعار ہیں.
محمد عبدالرؤوف — مارچ 20، 2021 12:11 شام
بہت خوب عرفان بھائی، اچھی غزل ہے
کہے گا حشر میں اپنا فسانہ اے عؔابد
یہ بےگناہ کا خوں جو ستونِ دار میں ہے
لیکن اس شعر میں کچھ تذبذب کا شکار ہوں کہ یہاں "پہ" کا محل ہے یا "میں" کا
عرفان علوی — مارچ 21، 2021 4:24 شام
بہت خوب عرفان بھائی ... نہایت عمدہ اشعار ہیں.
راحل صاحب، نوازش كے لیے احسان مند ہوں . بہت بہت شکریہ!
عرفان علوی — مارچ 21، 2021 4:30 شام
بہت خوب عرفان بھائی، اچھی غزل ہے
لیکن اس شعر میں کچھ تذبذب کا شکار ہوں کہ یہاں "پہ" کا محل ہے یا "میں" کا
عبدالرؤف صاحب، نگاہ کرم اور پذیرائی کا شکریہ! مقطع پر آپ کا سوال جائز ہے . تو بھائی، خون جذب بھی تو ہوتا ہے . :)
عاطف ملک — مارچ 23، 2021 2:05 شام
ماشااللہ۔۔۔۔۔بہت خوبصورت کلام ہے۔
داد قبول کیجیے۔
اور ایسا کلام ہماری نذر کرنے پر خصوصی شکریہ:)
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
یاسر شاہ — مارچ 23، 2021 2:55 شام
جہان غرق ہراسِ فضا ئے تار میں ہے
ہر اک چراغ ہواؤں كے اختیار میں ہے
خوب عرفان بھائی :)
عرفان علوی — مارچ 28، 2021 7:39 شام
ماشااللہ۔۔۔۔۔بہت خوبصورت کلام ہے۔
داد قبول کیجیے۔
اور ایسا کلام ہماری نذر کرنے پر خصوصی شکریہ:)
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
عاطف صاحب، داد اور دعا كے ليے ممنون ہوں۔ بہت بہت شكريہ۔
عرفان علوی — مارچ 28، 2021 7:42 شام
یاسر صاحب، نوازش جناب!
محمد شکیل خورشید — اپریل 2، 2021 12:18 شام
بہت ہی اعلیٰ، ماشااللہ
ایس ایس ساگر — اپریل 2، 2021 12:29 شام
عمدہ غزل۔ بہت خوب عرفان علوی بھائی۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
عرفان علوی — اپریل 4، 2021 7:52 شام
بہت ہی اعلیٰ، ماشااللہ
شکیل صاحب، پذیرائی کا شكريہ۔
عرفان علوی — اپریل 4، 2021 7:56 شام
عمدہ غزل۔ بہت خوب عرفان علوی بھائی۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
ساگر صاحب، ستائش اور دعا كے ليے احسان مند ہوں ۔ بہت بہت شكريہ ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86-%D8%BA%D8%B1%D9%82-%DB%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D9%90-%D9%81%D8%B6%D8%A7-%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92.115582/