سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 13، 2013 12:44 شام
(غالب کی زمین اتفاقیہ ہے۔ مطلع کہنے کے بعد احساس ہوا کہ یہ تو 'دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے' والی زمین ہے)
جینے کو اے خدا رہا کیا ہے
کون جانے تری رضا کیا ہے
شبِ غم بیت جائے گی لیکن
صبحِ نو کے لیے بچا کیا ہے
بے وفائی پہ داد ملتی ہے
آخر اخلاص کی سزا کیا ہے
یہ زمانہ ہے دعوے داروں کا
وعدہ کیا ہے یہاں وفا کیا ہے
دل دُکھانا جو بن گیا معمول
بے ضمیری کی انتہا کیا ہے
اب کوئی جستجو نہیں باقی
اب نہ پُوچھو مجھے ہوا کیا ہے
دل کو مسمار کر گئے تم کیوں
گھر کو اپنے ہی کر دیا کیا ہے
نام انسانیت کا لیتے ہو
ظلم تم نے مگر کِیا کیا ہے
چلو اِجلؔال اب تو اُٹھ جاؤ
جام خالی ہے اب بچا کیا ہے
الف عین
فاتح
محمد خلیل الرحمٰن
مزمل شیخ بسمل
قیصرانی
محمد وارث
متلاشی
محمد اسامہ سَرسَری
محمد بلال اعظم
ابن رضا — دسمبر 13، 2013 12:55 شام
(غالب کی زمین اتفاقیہ ہے۔ مطلع کہنے کے بعد احساس ہوا کہ یہ تو 'دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے' والی زمین ہے)
شبِ غم بیت جائے گی لیکن
صبحِ نو کے لیے بچا کیا ہے
صبحِ نو سے یہ اتنی بے زاری
محترم دوست ماجرہ کیا ہے

بہت عمدہ جناب، بہت خوش رہیں۔
سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 13، 2013 1:08 شام
صبحِ نو سے یہ اتنی بے زاری
محترم دوست ماجرہ کیا ہے

بہت عمدہ جناب، بہت خوش رہیں۔
زندگی ختم ہو گئی ساری
شیخ پوچھے ہیں ماجرا کیا ہے!

سلامت رہیے!
ابن رضا — دسمبر 13، 2013 1:13 شام
زندگی ختم ہو گئی ساری
شیخ پوچھے ہیں ماجرا کیا ہے!

سلامت رہیے!
زندگی تو رواں ہی رہتی ہے
یہ بتائیے ذرا ہُوا کیا ہے
سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 13، 2013 1:32 شام
زندگی تو رواں ہی رہتی ہے
یہ بتائیے ذرا ہُوا کیا ہے
ہونے کو اب رہا ہے کیا باقی
سانس آنے کے اب سواکیا ہے
ابن رضا — دسمبر 13، 2013 1:55 شام
ہونے کو اب رہا ہے کیا باقی
سانس آنے کے اب سواکیا ہے
اتنا مایوس بھی نہیں ہوتے
اب یہاں ایسا بھی بُرا کیا ہے

محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 13، 2013 2:23 شام
بہت خوبصورت غزل ہے جناب۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے
سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 13، 2013 2:56 شام
بہت خوبصورت غزل ہے جناب۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے
خلیل بھائی،
اللہ آپ کو ڈھیروں خوشیاں نصیب فرمائے!
سلامت رہیے۔
سلمان حمید — دسمبر 13، 2013 3:08 شام
شبِ غم بیت جائے گی لیکن
صبحِ نو کے لیے بچا کیا ہے
بہت عمدہ

سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 13، 2013 7:15 شام
شبِ غم بیت جائے گی لیکن
صبحِ نو کے لیے بچا کیا ہے
بہت عمدہ
آداب عرض ہے،
سلامت رہیے!
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 14، 2013 3:36 صبح
سید اجلال کی غزل ہے خوب!
ہو کسی کی زمیں ، برا کیا ہے؟
سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 14، 2013 5:21 صبح
سید اجلال کی غزل ہے خوب!
ہو کسی کی زمیں ، برا کیا ہے؟
سَرسَری جی سلامتی ہو قبول!
آپ جانیں، یہ سر پھرا کیا ہے

سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 14، 2013 5:28 صبح
پاس اپنے ہنر نہیں کوئی
دل کے آزار ماسوا کیا ہے؟
محمد بلال اعظم — دسمبر 15، 2013 2:51 شام
شبِ غم بیت جائے گی لیکن
صبحِ نو کے لیے بچا کیا ہے
بے وفائی پہ داد ملتی ہے
آخر اخلاص کی سزا کیا ہے
اب کوئی جستجو نہیں باقی
اب نہ پُوچھو مجھے ہوا کیا ہے
نام انسانیت کا لیتے ہو
ظلم تم نے مگر کِیا کیا ہے
واہ بہت خوبصورت اشعار محترم اجلال صاحب
بہت سی داد قبول فرمائیں
سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 15، 2013 7:04 شام
شبِ غم بیت جائے گی لیکن
صبحِ نو کے لیے بچا کیا ہے
بے وفائی پہ داد ملتی ہے
آخر اخلاص کی سزا کیا ہے
اب کوئی جستجو نہیں باقی
اب نہ پُوچھو مجھے ہوا کیا ہے
نام انسانیت کا لیتے ہو
ظلم تم نے مگر کِیا کیا ہے
واہ بہت خوبصورت اشعار محترم اجلال صاحب
بہت سی داد قبول فرمائیں
غزل پسند کرنے اور ڈھیروں داد دینے پر تہ دل سے شکریہ قبول فرمائیں۔
جیتے رہیے!
قیصرانی — دسمبر 15، 2013 7:41 شام
بہت عمدہ برادر۔ خوش رہیے

سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 17، 2013 12:10 شام
بہت عمدہ برادر۔ خوش رہیے
بہت شکریہ جناب۔
سدا سکھی رہیے!