غزل: حصارِ ذات سے گر ہَم نکل نہیں سکتے

عرفان علوی — جون 25، 2022 5:23 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
ایک پرانی غزل پیش کر رہا ہوں . حسب معمول آپ کی رائے کا انتظار رہےگا .
حصارِ ذات سے گر ہَم نکل نہیں سکتے
دیے ہمارے تَفَکُّر كے جل نہیں سکتے
ہے انقلا بِ زمانہ کا خواب بے معنی
ہَم اپنے آپ کو جب تک بَدَل نہیں سکتے
کُھلی فضا کی ضرورت جنہیں ہو وہ پودے
گھنے درخت كے سائے میں پھل نہیں سکتے
اُنہی کی راہ میں پتھر بچھائے جاتے ہیں
ذرا سی چوٹ جو کھا کر سنبھل نہیں سکتے
غبارِ راہ کی مانند چھوٹ جاتے ہیں
جو لوگ چال زمانے کی چل نہیں سکتے
وہ بن كے زہر دِل و جاں میں پھیل جاتے ہیں
براہِ چشم جو آنسو نکل نہیں سکتے
کئی تو دفن ہی رہتے ہیں دِل میں ، اے عابؔد
کہ سارے درد تو شعروں میں ڈھل نہیں سکتے
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
محمد عبدالرؤوف — جون 25، 2022 5:30 شام
ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ
بہت خوب عابد بھائی۔ ہر ہر شعر پہ ڈھیروں داد
یاسر شاہ — جون 25، 2022 6:31 شام
عابد بھائی ۔بہت خوب ماشاءاللہ ہر شعر دلکش۔
زوجہ اظہر — جون 26، 2022 7:43 صبح
واہ ، عمدہ
ایس ایس ساگر — جون 26، 2022 8:02 صبح
واہ۔ خوبصورت غزل۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیے عرفان علوی بھائی۔
سلامت رہیئے۔ خوش رہئیے۔ آمین۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 26، 2022 10:56 صبح
ماشاء اللہ عمدہ غزل ہے۔
ایک مقام پر کچھ تردد ہوا۔ محاورہ تو ہمیشہ پھلنا پھولنا سنا ہے ۔۔ ۔مجرد پھلنا کیا درست ہوگا؟
عرفان علوی — جون 26، 2022 4:27 شام
ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ
بہت خوب عابد بھائی۔ ہر ہر شعر پہ ڈھیروں داد
عبدالرؤوف صاحب ، عنایت كے لیے ممنون ہوں . جزاک اللہ .
عرفان علوی — جون 26، 2022 4:29 شام
عابد بھائی ۔بہت خوب ماشاءاللہ ہر شعر دلکش۔
یاسر صاحب ، بہت نوازش . جزاک اللہ .
عرفان علوی — جون 26، 2022 4:30 شام
زوجہ اظہر صاحبہ ، بہت شکریہ !
عرفان علوی — جون 26، 2022 4:33 شام
واہ۔ خوبصورت غزل۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیے عرفان علوی بھائی۔
سلامت رہیئے۔ خوش رہئیے۔ آمین۔
ساگر صاحب ، حوصلہ افزائی اور دعاؤں كے لیے بے حد متشکّر ہوں . جزاک اللہ .
عرفان علوی — جون 26، 2022 4:42 شام
ماشاء اللہ عمدہ غزل ہے۔
ایک مقام پر کچھ تردد ہوا۔ محاورہ تو ہمیشہ پھلنا پھولنا سنا ہے ۔۔ ۔مجرد پھلنا کیا درست ہوگا؟
راحل صاحب ، بہت نوازش ! آپ نے بجا فرمایا ، ’پھلنا‘ عام طور پر ’پھولنا‘ كے ساتھ استعمال ہوتا ہے ، لیکن یہ لفظ تنہا بھی مستعمل ہے . ایک مثال دیکھیے .
سیل غم رکھتا ہے یوں میرے ارادوں کو جواں
جس طرح سیلاب میں پھلتے ہیں پودے دھان کے (حزیں لدھیانوی)
محمداحمد — جولائی 2، 2022 11:49 صبح
انتہائی خوبصورت!
بہت اچھی لگی یہ غزل آپ کی!
بہت سی داد قبول فرمائیے۔
عرفان علوی — جولائی 4، 2022 6:03 شام
انتہائی خوبصورت!
بہت اچھی لگی یہ غزل آپ کی!
بہت سی داد قبول فرمائیے۔
بہت نوازش ، احمد صاحب ! ذرہ نوازی كے لیے بے حد ممنون ہوں .

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AD%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D8%B0%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D8%B1-%DB%81%D9%8E%D9%85-%D9%86%DA%A9%D9%84-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DA%A9%D8%AA%DB%92.118593/