غزل: خموش، سوختہ، آزردہ، غم گزیدہ ہے ۔۔۔

محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 20، 2021 8:38 صبح
ایک نئی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ آپ سب کی قیمتی آرا کا انتظار رہے گا۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خموش، سوختہ، آزردہ، غم گزیدہ ہے
غمِ فراق کی شدت سے دل دریدہ ہے
یہ سوزِ ہجر کریں دور کس طرح دل سے
جسے بہ ہوش و رضا ہم نے خود خریدا ہے
وہ کلبلاتی سی، معصوم حسرتِ ممنوع
گو اب بھی دل میں کہیں ہے، پہ سر بریدہ ہے
اسے خیال ہے میرا، کروں یہ کیوں ثابت؟
یہ میری خام خیالی نہیں، عقیدہ ہے!
خزاں رسیدہ ہے مدت سے یوں تو نخلِ امید
بس اک کلی ہے کہیں، اب بھی جو دمیدہ ہے
ہمیں پہ کیوں ہیں عنایاتِ کاتبِ تقدیر؟
بس ایک نام ہمارا ہی خط کشیدہ ہے؟
تماشا اس کو نہ کہیے اگر تو کیا کہیے؟
خوشی پڑی ہے جو پہلو میں، نارسیدہ ہے!
شجر جو ہم پہ کبھی تن کے سایہ افگن تھا
پلٹ کے آج جو دیکھا تو کچھ خمیدہ ہے
میں دشتِ عشقِ میں آ تو گیا، مگر راحلؔ
جنوں ہی مثلِ غزال اب کہیں رمیدہ ہے!
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 20، 2021 8:42 صبح
ایک نئی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ آپ سب کی قیمتی آرا کا انتظار رہے گا۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خموش، سوختہ، آزردہ، غم گزیدہ ہے
غمِ فراق کی شدت سے دل دریدہ ہے
یہ سوزِ ہجر کریں دور کس طرح دل سے
جسے بہ ہوش و رضا ہم نے خود خریدا ہے
وہ کلبلاتی سی، معصوم حسرتِ ممنوع
گو اب بھی دل میں کہیں ہے، پہ سر بریدہ ہے
اسے خیال ہے میرا، کروں یہ کیوں ثابت؟
یہ میری خام خیالی نہیں، عقیدہ ہے!
خزاں رسیدہ ہے مدت سے یوں توں نخلِ امید
بس اک کلی ہے کہیں، اب بھی جو دمیدہ ہے
ہمیں پہ کیوں ہیں عنایاتِ کاتبِ تقدیر؟
بس ایک نام ہمارا ہی خط کشیدہ ہے؟
تماشا اس کو نہ کہیے اگر تو کیا کہیے؟
خوشی پڑی ہے جو پہلو میں، نارسیدہ ہے!
شجر جو ہم پہ کبھی تن کے سایہ افگن تھا
پلٹ کے آج جو دیکھا تو کچھ خمیدہ ہے
میں دشتِ عشقِ میں آ تو گیا، مگر راحلؔ
جنوں ہی مثلِ غزال اب کہیں رمیدہ ہے!
خوبصورت، خوبصورت!
محمد وارث — اپریل 20، 2021 10:13 صبح
اچھی غزل ہے احسن صاحب، بہت خوب۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 20، 2021 8:53 شام
بہت شکریہ خلیل بھائی، داد و پذیرائی کے لیے شکر گزار ہوں
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 20، 2021 8:55 شام
اچھی غزل ہے احسن صاحب، بہت خوب۔
جزاک اللہ وارث بھائی، آپ کی توجہ اور حوصلہ افزائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں.
گُلِ یاسمیں — اپریل 20، 2021 8:56 شام
بہت زبردست۔
خوش رہئیے۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 20، 2021 8:58 شام
بہت زبردست۔
خوش رہئیے۔۔
جزاک اللہ ... داد و پذیرائی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں.
منہاج علی — اپریل 22، 2021 4:02 صبح
مقطع کے کیا ہی کہنے۔ واہ واہ وا۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 22، 2021 7:08 صبح
مقطع کے کیا ہی کہنے۔ واہ واہ وا۔
بہت شکریہ منہاج میاں ۔۔۔ داد و پذیرائی کے لیے ممنونِ احسان ہوں۔ جزاک اللہ۔
محمد عبدالرؤوف — اپریل 22، 2021 7:57 صبح
بہت خوب راحل بھائی
وہ کلبلاتی سی، معصوم حسرتِ ممنوع
گو اب بھی دل میں کہیں ہے، پہ سر بریدہ ہے
شرعاً ممنوع ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ :LOL:
ریحان احمد ریحانؔ — اپریل 22، 2021 8:10 صبح
راحل بھائی بہت خوب
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 22، 2021 9:36 صبح
بہت خوب راحل بھائی
شرعاً ممنوع ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ :LOL:
بہت شکریہ بھائی عبدالرؤوف ...
جب ممنوع ہے ہی تو پھر شرعی و قانونی کی بحث میں پڑنے سے کیا حاصل :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 22، 2021 9:37 صبح
راحل بھائی بہت خوب
بہت شکریہ ریحان، آپ کی داد و پذیرائی کے لیے شکرگزار ہوں. جزاک اللہ
عرفان سعید — اپریل 22، 2021 9:46 صبح
بہت اعلی جناب!
یہ سوزِ ہجر کریں دور کس طرح دل سے
جسے بہ ہوش و رضا ہم نے خود خریدا ہے

شجر جو ہم پہ کبھی تن کے سایہ افگن تھا
پلٹ کے آج جو دیکھا تو کچھ خمیدہ ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 22، 2021 10:08 صبح
جزاک اللہ سر ۔۔۔ داد و ستائش کے لیے تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 22، 2021 10:47 صبح
بہت خوب راحل بھائی
اسے خیال ہے میرا، کروں یہ کیوں ثابت؟
یہ میری خام خیالی نہیں، عقیدہ ہے!

خزاں رسیدہ ہے مدت سے یوں تو نخلِ امید
بس اک کلی ہے کہیں، اب بھی جو دمیدہ ہے

شجر جو ہم پہ کبھی تن کے سایہ افگن تھا
پلٹ کے آج جو دیکھا تو کچھ خمیدہ ہے
یاسر علی — اپریل 22، 2021 10:56 صبح
ماشاءاللہ بہت خوب جناب!
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 22، 2021 11:15 صبح
بہت خوب راحل بھائی
بہت شکریہ تابش بھائی ۔۔۔ آپ کی جانب سے داد و پذیرائی ہمارے لیے بہت اہم ہے ۔۔۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 22، 2021 11:16 صبح
ماشاءاللہ بہت خوب جناب!
جزاک اللہ یاسر میاں ۔۔۔ تہہ دل سے شکریہ
یاسر شاہ — مئی 1، 2021 8:57 شام
احسن بھائی السلام علیکم
یار سچ کہوں تو خاص لطف نہیں آیا-غزل کیا ہے بھاری بھرکم الفاظ کا مجموعہ ہے اور معنویت و احساس کا عنصر کم ہے -:)
یہ سوزِ ہجر کریں دور کس طرح دل سے
جسے بہ ہوش و رضا ہم نے خود خریدا ہے
شجر جو ہم پہ کبھی تن کے سایہ افگن تھا
پلٹ کے آج جو دیکھا تو کچھ خمیدہ ہے

یہ اشعار بہر حال پسند آئے -داد قبول کیجے -:)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AE%D9%85%D9%88%D8%B4%D8%8C-%D8%B3%D9%88%D8%AE%D8%AA%DB%81%D8%8C-%D8%A7%D9%93%D8%B2%D8%B1%D8%AF%DB%81%D8%8C-%D8%BA%D9%85-%DA%AF%D8%B2%DB%8C%D8%AF%DB%81-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94.115948/