عرفان علوی — دسمبر 25، 2022 6:30 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
آپ سب کو آنے والے نئے سال کی دلی مبارکباد ! اِس سال كے جاتے جاتے ایک غزل پیش ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
درد دِل میں جو بیتی رات سے ہے
اس کو نسبت کہاں نجات سے ہے
مجھ کو امید جس كے ساتھ سے ہے
اس کو پرہیز میرے ہاتھ سے ہے
بےرخی اس کی، موت کیوں نہ بنے
زندگی جس كے التفات سے ہے
تیرے آگے فقط جہان ہے کیا
یہ تقابل تو کائنات سے ہے
وہ جو میں نے کبھی کہی ہی نہیں
ان کو شکوہ اس ایک بات سے ہے
صرف اک بوجھ ہیں زمین پہ ہَم
کیا سروکار پِھر ثبات سے ہے
موت كے ساتھ کیسے جاؤگے
پیار اتنا اگر حیات سے ہے
ہَم کو اوروں کا کوئی خوف نہیں
ہَم کو خطرہ خود اپنی ذات سے ہے
لے كے تلوار کیا کروں عابدؔ
کام مجھ کو قلم دوات سے ہے
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 25، 2022 8:32 شام
واہ ! بہت خوب، عرفان بھائی! اچھے اشعار ہیں ۔
لے كے تلوار کیا کروں عابدؔ
کام مجھ کو قلم دوات سے ہے
اچھا کہا ہے ۔ بہت خوب!
محمد شکیل خورشید — دسمبر 26، 2022 6:00 صبح
وہ جو میں نے کبھی کہی ہی نہیں
ان کو شکوہ اس ایک بات سے ہے
یوں تو ساری غزل ہیکمال ہے لیکن یہ شعر دل میں اتر جانے والا ہے ماشا اللہ عرفان بھائی، داد قبول کیجیئے
عرفان علوی — دسمبر 26، 2022 4:38 شام
واہ ! بہت خوب، عرفان بھائی! اچھے اشعار ہیں ۔
لے كے تلوار کیا کروں عابدؔ
کام مجھ کو قلم دوات سے ہے
اچھا کہا ہے ۔ بہت خوب!
ظہیر بھائی ، آپ کی مہر ثبت ہو جائے تو لگتا ہے کہ کوشش کامیاب ہوئی . نوازش کا بہت بہت شکریہ !
عرفان علوی — دسمبر 26، 2022 4:44 شام
وہ جو میں نے کبھی کہی ہی نہیں
ان کو شکوہ اس ایک بات سے ہے
یوں تو ساری غزل ہیکمال ہے لیکن یہ شعر دل میں اتر جانے والا ہے ماشا اللہ عرفان بھائی، داد قبول کیجیئے
شکیل بھائی ، پذیرائی كے لیے بے حد ممنون ہوں . جو شعر آپ نے خصوصی طور پر پسند فرمایا ہے ، اس پر داد كے اصل حقدار فیضؔ ہیں .

میں نے تو بس ان کا خیال اپنے الفاظ میں دوہرا دیا ہے . پِھر بھی ، عنایت کا شکریہ !
محمد شکیل خورشید — دسمبر 27، 2022 9:44 صبح
شکیل بھائی ، پذیرائی كے لیے بے حد ممنون ہوں . جو شعر آپ نے خصوصی طور پر پسند فرمایا ہے ، اس پر داد كے اصل حقدار فیضؔ ہیں .

میں نے تو بس ان کا خیال اپنے الفاظ میں دوہرا دیا ہے . پِھر بھی ، عنایت کا شکریہ !
اساتذہ کا خیال پھر سے باندھنا اور اس طرح کہ تکرار محسوس نہ ہو، یہ بھی استاد ہی کا کام ہے محترم۔

الف عین — دسمبر 29، 2022 3:39 صبح
مجھ کو امید جس كے ساتھ سے ہے
اس کو پرہیز میرے ہاتھ سے ہے
کیا کرونا کا ڈر ہے؟ احتیاط بہتر ہے
غزل پر داد بھی ضروری ہے، واہ!
عرفان علوی — دسمبر 31، 2022 1:12 صبح
کیا کرونا کا ڈر ہے؟ احتیاط بہتر ہے
غزل پر داد بھی ضروری ہے، واہ!
جی ، محترم اعجاز صاحب ، کورونا کا اثر رشتوں پر بھی پڑا ہے .

آپ کی داد باعث صد مسرت و افتخار ہے . بہت بہت شکریہ !
یاسر شاہ — جنوری 1، 2023 3:51 صبح
ہَم کو اوروں کا کوئی خوف نہیں
ہَم کو خطرہ خود اپنی ذات سے ہے
بےرخی اس کی، موت کیوں نہ بنے
زندگی جس كے التفات سے ہے
واہ ، عمدہ ۔ماشاءاللہ
صابرہ امین — جنوری 1، 2023 11:20 شام
اچھے اشعار سے مزین غزل ۔ داد قبول کیجیے ۔
موت كے ساتھ کیسے جاؤگے
پیار اتنا اگر حیات سے ہے
خوشی سے تو شائد کوئی بھی موت قبول نہیں کرتا۔ اچھا شعر ہے!
عرفان علوی — جنوری 2، 2023 4:59 شام
یاسر بھائی ، ستائش كے لیے بے حد ممنون ہوں . بہت شکریہ !
عرفان علوی — جنوری 2، 2023 5:02 شام
اچھے اشعار سے مزین غزل ۔ داد قبول کیجیے ۔
خوشی سے تو شائد کوئی بھی موت قبول نہیں کرتا۔ اچھا شعر ہے!
صابرہ بہن ، نگاہ کرم اور پذیرائی کا بہت بہت شکریہ !