دل لگانے کی کیا ضرورت ہے
چوٹ کھانے کی کیا ضرورت ہے آزمانے کی کیا ضرورت ہے
یوں ستانے کی کیا ضرورت ہے دل میں رہیے نگاہ میں بسیے
دور جانے کی کیا ضرورت ہے آپ تھے ٹھیک اور ہم تھے غلط
منہ بنانے کی کیا ضرورت ہے کہہ دیا جب کہ آپ ہی کا ہوں
پھر جتانے کی کیا ضرورت ہے ایسی قاتل نگاہ ہوتے ہوئے
"مسکرانے کی کیا ضرورت ہے" جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے دل کی سنیے، جہان کی سن کر
جی جلانے کی کیا ضرورت ہے کیجیے خوب صرفِ شعر و سخن
غم چھپانے کی کیا ضرورت ہے ہر حقیقت ہی جب معمہ ہو
پھر فسانے کی کیا ضرورت ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی غیروں کے
در پہ جانے کی کیا ضرورت ہے جانتا خوب ہے کہ در پہ پڑے
کس دوانے کی کیا ضرورت ہے ساتھ عاطفؔ کو مل گیا تیرا
اب زمانے کی کیا ضرورت ہے
عاطفؔ ملک
فروری ۲۰۲۱
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 27، 2021 5:40 صبح
واہ بھیا
پر ہم ایک بات کہیں
کہ ہم نے ایسا پڑھا اور سنا ہے
کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے
جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے دل کی سنیے، جہان کی سن کر
جی جلانے کی کیا ضرورت ہے کیجیے خوب صرفِ شعر و سخن
غم چھپانے کی کیا ضرورت ہے ہر حقیقت ہی جب معمہ ہو
پھر فسانے کی کیا ضرورت ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی غیروں کے
در پہ جانے کی کیا ضرورت ہے
السلام علیکم عاطف بھائی ایسی قاتل نگاہ ہوتے ہوئے
"مسکرانے کی کیا ضرورت ہے"
واہ- جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے
خوب -اس میں تو میرے لیے نیک فال ہے - دل کی سنیے، جہان کی سن کر
جی جلانے کی کیا ضرورت ہے
آہا کیجیے خوب صرفِ شعر و سخن
غم چھپانے کی کیا ضرورت ہے خوب کی جگہ درد رکھ کے دیکھیں - بھائی حس مزاح بیدار ہو گئی: پچھلے ہفتے ہی تو نہایا ہوں
پھر نہانے کی کیا ضرورت ہے آپ جامہ تلاشی شوق سے لیں
گدگدانے کی کیا ضرورت ہے اور سنائیں ،مزاج گرامی کیسا ہے ؟ بال بچے کیسے ہیں ؟ محتاج دعا
یاسر
السلام علیکم عاطف بھائی ایسی قاتل نگاہ ہوتے ہوئے
"مسکرانے کی کیا ضرورت ہے"
واہ- جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے
خوب -اس میں تو میرے لیے نیک فال ہے -