غزل: دل لگانے کی کیا ضرورت ہے

عاطف ملک — فروری 27، 2021 5:31 صبح
دل لگانے کی کیا ضرورت ہے
چوٹ کھانے کی کیا ضرورت ہے
آزمانے کی کیا ضرورت ہے
یوں ستانے کی کیا ضرورت ہے
دل میں رہیے نگاہ میں بسیے
دور جانے کی کیا ضرورت ہے
آپ تھے ٹھیک اور ہم تھے غلط
منہ بنانے کی کیا ضرورت ہے
کہہ دیا جب کہ آپ ہی کا ہوں
پھر جتانے کی کیا ضرورت ہے
ایسی قاتل نگاہ ہوتے ہوئے
"مسکرانے کی کیا ضرورت ہے"
جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے
دل کی سنیے، جہان کی سن کر
جی جلانے کی کیا ضرورت ہے
کیجیے خوب صرفِ شعر و سخن
غم چھپانے کی کیا ضرورت ہے
ہر حقیقت ہی جب معمہ ہو
پھر فسانے کی کیا ضرورت ہے
اس کے ہوتے ہوئے بھی غیروں کے
در پہ جانے کی کیا ضرورت ہے
جانتا خوب ہے کہ در پہ پڑے
کس دوانے کی کیا ضرورت ہے
ساتھ عاطفؔ کو مل گیا تیرا
اب زمانے کی کیا ضرورت ہے

عاطفؔ ملک
فروری ۲۰۲۱
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 27، 2021 5:40 صبح
واہ بھیا
پر ہم ایک بات کہیں
کہ ہم نے ایسا پڑھا اور سنا ہے
کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 27، 2021 7:31 صبح
خوبصورت خوبصورت!!!
بہت سی داد قبولیے۔
ایسی قاتل نگاہ ہوتے ہوئے
"مسکرانے کی کیا ضرورت ہے"

آہاہاہا۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 27، 2021 9:08 صبح
دل میں رہیے نگاہ میں بسیے
دور جانے کی کیا ضرورت ہے
ڈاکٹر صاحب، ہر غزل میں کم از کم ایک شعر تو غضب کا کہہ دیتے ہیں آپ
بہت خوب، عمدہ غزل ہے :)
عاطف ملک — فروری 27، 2021 4:49 شام
واہ بھیا
پر ہم ایک بات کہیں
کہ ہم نے ایسا پڑھا اور سنا ہے
کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے
بہت شکریہ۔
سنا تو ہم نے بھی یہی ہے۔
لیکن بر سبیلِ تذکرہ
یہ سنانے کی کیا ضرورت ہے؟:p
خوبصورت خوبصورت!!!
بہت سی داد قبولیے۔
سپاس گزار ہوں محترمی:)
ڈاکٹر صاحب، ہر غزل میں کم از کم ایک شعر تو غضب کا کہہ دیتے ہیں آپ
بہت خوب، عمدہ غزل ہے :)
آپ کا حسنِ نظر اور خوش ذوقی ہے بھیا:)
ورنہ اپنی دانست میں تو ہم ہر شعر غضب کا کہتے ہیں:p
محمد تابش صدیقی — فروری 28، 2021 5:18 صبح
بہت خوب عاطف بھائی
جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے
دل کی سنیے، جہان کی سن کر
جی جلانے کی کیا ضرورت ہے
کیجیے خوب صرفِ شعر و سخن
غم چھپانے کی کیا ضرورت ہے
ہر حقیقت ہی جب معمہ ہو
پھر فسانے کی کیا ضرورت ہے
اس کے ہوتے ہوئے بھی غیروں کے
در پہ جانے کی کیا ضرورت ہے
یاسر شاہ — فروری 28، 2021 8:21 صبح
السلام علیکم عاطف بھائی
ایسی قاتل نگاہ ہوتے ہوئے
"مسکرانے کی کیا ضرورت ہے"
واہ-
جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے
خوب -اس میں تو میرے لیے نیک فال ہے -
دل کی سنیے، جہان کی سن کر
جی جلانے کی کیا ضرورت ہے
آہا
کیجیے خوب صرفِ شعر و سخن
غم چھپانے کی کیا ضرورت ہے
خوب کی جگہ درد رکھ کے دیکھیں -
بھائی حس مزاح بیدار ہو گئی:
پچھلے ہفتے ہی تو نہایا ہوں
پھر نہانے کی کیا ضرورت ہے
آپ جامہ تلاشی شوق سے لیں
گدگدانے کی کیا ضرورت ہے
اور سنائیں ،مزاج گرامی کیسا ہے ؟ بال بچے کیسے ہیں ؟
محتاج دعا
یاسر
عاطف ملک — مارچ 1، 2021 7:06 صبح
بہت خوب عاطف بھائی
بہت شکریہ تابش بھائی:in-love:
السلام علیکم عاطف بھائی
ایسی قاتل نگاہ ہوتے ہوئے
"مسکرانے کی کیا ضرورت ہے"
واہ-
جو تعلق ہی بارِ خاطر ہو
وہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے
خوب -اس میں تو میرے لیے نیک فال ہے -
وعلیکم السلام:)
شکریہ
ہمارے اشعار سے "فال" نکل رہی ہے تو یہ سائیڈ بزنس بھی شروع کر دیتے ہیں:p
کیجیے خوب صرفِ شعر و سخن
غم چھپانے کی کیا ضرورت ہے
خوب کی جگہ درد رکھ کے دیکھیں -
اچھا مشورہ
لیکن اب تو غزل پبلک کر دی:unsure:

بھائی حس مزاح بیدار ہو گئی:
پچھلے ہفتے ہی تو نہایا ہوں
پھر نہانے کی کیا ضرورت ہے
آپ جامہ تلاشی شوق سے لیں
گدگدانے کی کیا ضرورت ہے
:rollingonthefloor:
اور سنائیں ،مزاج گرامی کیسا ہے ؟ بال بچے کیسے ہیں ؟
محتاج دعا
یاسر
الحمدللہ سب بخیر ہے۔
اللہ آپ کو بہترین صحت و عافیت میں رکھے،آمین۔
والسلام
محمداحمد — مارچ 1، 2021 12:09 شام
بہت خوب عاطف بھائی !
عمدہ غزل ہے۔ :)
دل لگانے کی کیا ضرورت ہے
چوٹ کھانے کی کیا ضرورت ہے
دل میں رہیے نگاہ میں بسیے
دور جانے کی کیا ضرورت ہے
اس کے ہوتے ہوئے بھی غیروں کے
در پہ جانے کی کیا ضرورت ہے

ان اشعار پر خصوصی داد!
عاطف ملک — مارچ 2، 2021 6:17 صبح
بہت خوب عاطف بھائی !
عمدہ غزل ہے۔ :)
بہت شکریہ احمد بھائی:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D9%84-%D9%84%DA%AF%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DB%81%DB%92.115323/