غزل: دلِ مضطر میں وہی سوزِ نہاں ہے کہ جو تھا

عرفان علوی — جون 11، 2022 3:58 صبح
احباب گرامی، سلام عرض ہے!
خواجہ حیدر علی آتشؔ کی زمین میں ایک کوشش پیش ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
دلِ مضطر میں وہی سوزِ نہاں ہے کہ جو تھا
انتظارِ کرمِ چارہ گراں ہے کہ جو تھا
دردِ دل ضبط كے شانے پہ گراں ہے کہ جو تھا
اور اک سلسلۂ آہ و فغاں ہے کہ جو تھا
بکھرا بکھرا ہوا شیرازۂ جاں ہے کہ جو تھا
ہر طرف عالمِ آشوب جواں ہے کہ جو تھا
چند روزہ تھی فقط موسمِ گل کی راحت
باغِ دل پِھر سے گرفتارِ خزاں ہے کہ جو تھا
خس و خاشاک کو محفوظ کہاں تک رکھیے
آشیاں کار گہِ برقِ تپاں ہے کہ جو تھا
نیند اجڑی ہوئی آنكھوں سے جدا ہے کہ جو تھی
خواب بیزارِ حقیقت زدگاں ہے کہ جو تھا
حالِ دل کیا ہے وہاں ، یہ تو خدا ہی جانے
لیکن اک جذبۂ بے نام یہاں ہے کہ جو تھا
کوئی آیا نہ مرے بعد سَرِ دشتِ جنوں
خاک پر پا ئے شکستہ کا نشاں ہے کہ جو تھا
جلوۂ حُسْن جو ظاہر ہو تو ہو بھی کیسے
قومِ عشّاق میں وہ شوق کہاں ہے کہ جو تھا
آگہی سے نئے ابھرے ہیں کئی اور سوال
خود كے ہونے پہ نہ ہونے کا گماں ہے کہ جو تھا
آج بھی ہستئ آدم ہے معمّہ کہ جو تھی
فاصلہ عقل سے تا کون و مکاں ہے کہ جو تھا
اپنی منزل سے میں غافل تو نہیں ہوں لیکن
مجھ کو درپیش وہی کارِ جہاں ہے کہ جو تھا
مدّعا کہہ كے بھی ناکام رہے ہَم عابدؔ
لفظ شرمندۂ تقصیرِ زباں ہے کہ جو تھا
نیازمند،
عرفان عابدؔ
یاسر شاہ — جون 11، 2022 11:17 صبح
بہت خوب ۔ماشاء اللہ عمدہ غزل ہے۔داد قبول کیجیے۔
محمداحمد — جون 11، 2022 1:24 شام
واہ واہ!
خوبصورت اشعار ہیں عرفان بھائی!
عرفان علوی — جون 12، 2022 4:15 صبح
بہت خوب ۔ماشاء اللہ عمدہ غزل ہے۔داد قبول کیجیے۔
بہت نوازش ، یاسر صاحب ! ممنون ہوں .
عرفان علوی — جون 12، 2022 4:17 صبح
واہ واہ!
خوبصورت اشعار ہیں عرفان بھائی!
احمد صاحب ، حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ !
محمد تابش صدیقی — جون 12، 2022 7:09 صبح
بہت عمدہ عرفان بھائی
چند روزہ تھی فقط موسمِ گل کی راحت
باغِ دل پِھر سے گرفتارِ خزاں ہے کہ جو تھا

خس و خاشاک کو محفوظ کہاں تک رکھیے
آشیاں کار گہِ برقِ تپاں ہے کہ جو تھا

آگہی سے نئے ابھرے ہیں کئی اور سوال
خود كے ہونے پہ نہ ہونے کا گماں ہے کہ جو تھا

اپنی منزل سے میں غافل تو نہیں ہوں لیکن
مجھ کو درپیش وہی کارِ جہاں ہے کہ جو تھا
کیا کہنے۔
La Alma — جون 12، 2022 6:49 شام
عمدہ کلام ہے۔
محمد شکیل خورشید — جون 12، 2022 8:31 شام
بہت خوب داد قبول فرمایئے
سید عاطف علی — جون 12، 2022 8:34 شام
بہت عمدہ غزل ہے علوی صاحب۔ خوب بہت خوب
عرفان علوی — جون 14، 2022 3:03 صبح
بہت عمدہ عرفان بھائی
کیا کہنے۔
تابش صاحب ، بہت دنوں بعد نظر آئے . امید ہے مزاج بخیر ہونگے . ستائِش کا بہت بہت شکریہ !
عرفان علوی — جون 14، 2022 3:06 صبح
المیٰ صاحبہ ، نگاہ کرم اور پذیرائی كے لیے احسان مند ہوں . بہت بہت شکریہ !
عرفان علوی — جون 14، 2022 3:07 صبح
بہت خوب داد قبول فرمایئے
بڑی مہربانی ، شکیل صاحب ! بہت شکریہ !
عرفان علوی — جون 14، 2022 3:11 صبح
بہت عمدہ غزل ہے علوی صاحب۔ خوب بہت خوب
بہت نوازش ، عاطف صاحب ! متشکّر ہوں .
الف عین — جون 14، 2022 4:54 صبح
واہ،آتش مرحوم بھی داد دے رہے ہوں گے!
عرفان علوی — جون 15، 2022 3:55 صبح
واہ،آتش مرحوم بھی داد دے رہے ہوں گے!
محترم اعجاز صاحب ، آپ کی شاباشی میرے لیے باعث صد افتخار ہے . بہت بہت شکریہ !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D9%84%D9%90-%D9%85%D8%B6%D8%B7%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%88%DB%81%DB%8C-%D8%B3%D9%88%D8%B2%D9%90-%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%AC%D9%88-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.118542/