غزل
دنیا کے لوگ خوشیاں منانے میںرہ گئے
ہم بد نصیب اشک بہانے میں رہ گئے
کچھ جاں نثار ایسے بھی گزرے ہیں دہر میں
مٹ کر بھی جن کے نام زمانے میں رہ گئے
مسمار ہوگیا تھا مرا گھر فساد میں
تاعمر اپنا گھر ہی بنانے میں رہ گئے
آنسو چھلک پڑے تو خبر سب کو ہوگئی
ہم اپنے دل کا داغ چھپانے میں رہ گئے
خود سر بلند ہو نہ سکے عمر بھر کبھی
اپنے حریف کو جو جھکانے میں رہ گئے
سیکھا نہیں زمانے سے چھوٹا سا اک سبق
تاعمر دوسروں کو سکھانے میں رہ گئے
اپنے ہنر سے اور تو زردار بن گئے
ہم لوگ کھوٹے سکّے چلانے میں رہ گئے
انسان بھی جلائے گئے لکڑیوں کے ساتھ
ہم ہیں کہ اپنی جان بچانے میں رہ گئے
سیّد ابو بکر مالکی ؔ
(تحریری شکل میں شامل کیا گیا : مدیر)