غزل :: دنیا کے لوگ خوشیاں منانے میں رہ گئے :: سید ابوبکر مالکی ؔ

bhatkal — فروری 7، 2012 6:41 صبح
غزل
دنیا کے لوگ خوشیاں منانے میں‌رہ گئے
ہم بد نصیب اشک بہانے میں رہ گئے
کچھ جاں نثار ایسے بھی گزرے ہیں دہر میں‌
مٹ کر بھی جن کے نام زمانے میں رہ گئے
مسمار ہوگیا تھا مرا گھر فساد میں
تاعمر اپنا گھر ہی بنانے میں رہ گئے
آنسو چھلک پڑے تو خبر سب کو ہوگئی
ہم اپنے دل کا داغ چھپانے میں رہ گئے
خود سر بلند ہو نہ سکے عمر بھر کبھی
اپنے حریف کو جو جھکانے میں رہ گئے
سیکھا نہیں زمانے سے چھوٹا سا اک سبق
تاعمر دوسروں کو سکھانے میں رہ گئے
اپنے ہنر سے اور تو زردار بن گئے
ہم لوگ کھوٹے سکّے چلانے میں رہ گئے
انسان بھی جلائے گئے لکڑیوں کے ساتھ
ہم ہیں کہ اپنی جان بچانے میں رہ گئے
سیّد ابو بکر مالکی ؔ
(تحریری شکل میں شامل کیا گیا : مدیر)​
dunia-ke-log1.jpg
الف عین — فروری 8، 2012 3:13 شام
ڈزائنڈ شاعری کی فورم علیحدہ ہے۔ یہاں نہیں۔ یہاں تحریری شاعری پوسٹ ہوتی ہے۔ تصویروں کو میں محض تصویریں مانتا ہوں اور یہاں بھی زیادہ تر اراکین کا یہی خیال ہے۔ البتہ اب تک کسی نے ڈزائنڈ شاعری میں اپنی شاعری پوسٹ نہیں کی، یہ پہلا اتفاق ہے۔
مغزل — فروری 9، 2012 10:28 صبح
ماشا اللہ مالکی صاحب بہت عمدہ ، بابا جانی کا فرمانا بالکل درست ہے کہ کلام تحریری شکل میں شامل کیا جائے ۔
سو میں نے مدون کرکے شامل کردیا ہے ۔۔ غزل پر داد پیش ہے گر قبول افتد زہے عز و شرف

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D9%88%DA%AF-%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%A8%DA%A9%D8%B1-%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9%DB%8C-%D8%94.49732/