غزل: دو قدم ساتھ چل کے لوٹ گئے : از : محمد حفیظ الرحمٰن

محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 16، 2012 10:07 صبح
غزل
از : محمد حفیظ الرحمٰن
دو قدم ساتھ چل کے لوٹ گئے
لوگ رستہ بدل کے لوٹ گئے
ہم سمجھتے تھے ساتھ ساتھ ہیں وہ
پھر سنا یہ کہ کل کے لوٹ گئے
وہ جو خوگر تھے گرم موسم کے
ٹھنڈی چھاؤں میں جل کے لوٹ گئے
آپ مشکل میں میرے پاس آئے
چار دن میں سنبھل کے لوٹ گئے
جانے کیوں اتنے پیش و پس میں تھے آپ
گھر سے باہر نکل کے لوٹ گئے
وہ جو آئے تھے اپنا عکس لئے
تیرے پرتو میں ڈھل کے لوٹ گئے
ڈھونڈنے آئے تھے تجھے ہم بھی
کفِ ا فسوس مل کے لوٹ گئے
لوگ آئے تھے آپ سے ملنے
مجھ کو دیکھا تو جل کے لوٹ گئے
حمید — نومبر 17، 2012 6:35 صبح
وہ جو آئے تھے اپنا عکس لئے
تیرے پرتو میں ڈھل کے لوٹ گئے

خوب صورت
الف عین — نومبر 18، 2012 4:41 شام
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے حفیظ
اسامہ جمشید — نومبر 19، 2012 5:36 صبح
وہ جو خوگر تھے گرم موسم کے
ٹھنڈی چھاؤں میں جل کے لوٹ گئے
بہت خوب۔
سید زبیر — نومبر 19، 2012 5:39 صبح
بہت خوب
ڈھونڈنے آئے تھے تجھے ہم بھی
کفِ ا فسوس مل کے لوٹ گئے
ماشا اللہ
پپو — نومبر 19، 2012 5:59 صبح
وہ جو آئے تھے اپنا عکس لئے
تیرے پرتو میں ڈھل کے لوٹ گئے
سب زبردست شعر ہے
محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 19، 2012 9:34 صبح
حمید صاحب۔ بہت بہت شکریہ۔ بڑی نوازش۔
محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 19، 2012 9:39 صبح
استادِ محترم۔ جناب اعجاز عبید صاحب۔ سر حوصلہ افزائی کے لئے بہت بہت شکریہ۔
محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 19، 2012 9:44 صبح
اسامہ جمشید صاحب۔ جناب غزل کی پسندیدگی پر بہت بہت شکریہ قبول کیجئے۔
محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 19، 2012 9:46 صبح
سید زبیر صاحب۔ بھائی بہت شکریہ۔ بڑی نوازش۔
محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 19، 2012 9:47 صبح
جناب پپو صاحب۔ بہت شکریہ۔ بڑی نوازش۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%D9%88-%D9%82%D8%AF%D9%85-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%DA%86%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D9%88%D9%B9-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AD%D9%81%DB%8C%D8%B8-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86.56376/