غزل : رحم ہم پر شتاب کر دیجے

محمد شکیل خورشید — اگست 20، 2020 9:05 صبح
رحم ہم پر شتاب کر دیجے
اپنے رخ پر نقاب کر دیجے
مکت کر دیجئے غمِ جاں سے
آج میرا حساب کر دیجے
نیند لے لیجئے مری صاحب
میرے حصے میں خواب کر دیجے
سارے شکوے تمام تعزیریں
بس مجھے انتساب کر دیجے
شمع امید کیجئے روشن
بند ظلمت کا باب کر دیجے
اپنی محفل کی ایک شام کبھی
پھر مجھے دستیاب کر دیجے
شہرِ یاراں ابھی بھی زندہ ہے
اس میں جینا عذاب کر دیجے
ڈالئے اک نظر شکیل پہ ، اور
بس اسے لاجواب کر دیجے
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ و احباب کی نذر
الف عین — اگست 21، 2020 10:27 صبح
واہ، اچھی غزل ہے اصلاح کی کیا ضرورت!
محمد شکیل خورشید — اگست 21، 2020 12:28 شام
واہ، اچھی غزل ہے اصلاح کی کیا ضرورت!
استادِ محترم! جب تک آپ کی جانب سے صاد نہ ہو جائے، تسلی نہیں ہوتی،
حوصلہ افزائی کا شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B1%D8%AD%D9%85-%DB%81%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D8%B4%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%D8%AC%DB%92.112898/