غزل: رہے گی ابتلا، ایسا نہیں ہے ٭ تابش

محمد تابش صدیقی — مارچ 3، 2019 1:59 شام
ایک طرحی غزل احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:

رہے گی ابتلا، ایسا نہیں ہے
نہ پوری ہو دعا، ایسا نہیں ہے
پکارو اس کو ہر رنج و الم میں
وہ ہو جائے خفا، ایسا نہیں ہے
شکستہ ناؤ امت کی سنبھالے
کوئی بھی ناخدا ایسا نہیں ہے؟
چلے آؤ، اسے کوفہ نہ سمجھو
"مرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے"
پڑے جس میں پرکھنے کی ضرورت
محبت سلسلہ ایسا نہیں ہے
جفاؤں پر خفا ہوتا ہے تابشؔ
مگر چاہے برا، ایسا نہیں ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 3، 2019 2:05 شام
ایک طرحی غزل احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:

رہے گی ابتلا، ایسا نہیں ہے
نہ پوری ہو دعا، ایسا نہیں ہے
پکارو اس کو ہر رنج و الم میں
وہ ہو جائے خفا، ایسا نہیں ہے
شکستہ ناؤ امت کی سنبھالے
کوئی بھی ناخدا ایسا نہیں ہے؟
چلے آؤ، اسے کوفہ نہ سمجھو
"مرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے"
پڑے جس میں پرکھنے کی ضرورت
محبت سلسلہ ایسا نہیں ہے
جفاؤں پر خفا ہوتا ہے تابشؔ
مگر چاہے برا، ایسا نہیں ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
ماشاءاللہ ،
کیا عمدہ کلام پیش کیا ،
سلامت رہیں ۔
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 3، 2019 3:21 شام
خوب صورت غزل۔ بہت سی داد قبول فرمائیے
فرحان محمد خان — مارچ 3، 2019 3:22 شام
ایک طرحی غزل احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:


چلے آؤ، اسے کوفہ نہ سمجھو
"مرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے"

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
بہت خوب
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 4:05 صبح
ماشاءاللہ ،
کیا عمدہ کلام پیش کیا ،
سلامت رہیں ۔
جزاک اللہ خیر عدنان بھائی
ہمارے ایک محترم بھائی کی خواہش ہے کہ کچھ نہ کچھ کہنے کی کوشش کرتے رہا جائے، اسی کا سلسلہ ہے یہ۔ :)
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 4:06 صبح
خوب صورت غزل۔ بہت سی داد قبول فرمائیے
آداب خلیل بھائی، پسند فرمانے پر شکر گزار ہوں۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 4:06 صبح
بہت شکریہ فرحان بھائی
فلسفی — مارچ 4، 2019 4:33 صبح
جزاک اللہ خیر عدنان بھائی
ہمارے ایک محترم بھائی کی خواہش ہے کہ کچھ نہ کچھ کہنے کی کوشش کرتے رہا جائے، اسی کا سلسلہ ہے یہ۔ :)
بالکل سوچوں پر بھی زنگ لگ جایا کرتے ہیں۔ الفاظ کے صابن اور اظہار کے پانی سے دھوتے رہنا چاہیے۔ آپ کو تو ویسے بھی وراثت میں جو حصہ عطا ہوا اس کے تسلسل کو برقرار رکھنا ضروری ہے بلکہ آپ کی ذمے داری ہے۔
سردار محمد نعیم — مارچ 4، 2019 5:38 صبح
لاجواب غزل ماشاءاللّٰہ
فاتح — مارچ 4، 2019 6:33 صبح
واہ واہ کیا کہنے جناب
عرفان سعید — مارچ 4، 2019 7:28 صبح
بہت اعلی تابش بھائی!
پڑے جس میں پرکھنے کی ضرورت
محبت سلسلہ ایسا نہیں ہے
محمداحمد — مارچ 4، 2019 7:41 صبح
خوبصورت غزل ہے تابش بھائی!
ہر شعر بہت خوب ہے۔ ڈھیروں ڈھیر داد قبول کیجے۔ :)
فاخر رضا — مارچ 4، 2019 7:47 صبح
خدا آپ کو سلامت رکھے
بہت اچھا لکھا ہے
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 2:45 شام
لاجواب غزل ماشاءاللّٰہ
جزاک اللہ خیر نعیم بھائی
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 2:46 شام
واہ واہ کیا کہنے جناب
آداب فاتح بھائی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 2:46 شام
بہت اعلی تابش بھائی!
بہت شکریہ عرفان بھائی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 2:47 شام
خوبصورت غزل ہے تابش بھائی!
ہر شعر بہت خوب ہے۔ ڈھیروں ڈھیر داد قبول کیجے۔ :)
بہت شکریہ احمد بھائی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 2:47 شام
خدا آپ کو سلامت رکھے
بہت اچھا لکھا ہے
آمین۔
جزاک اللہ خیر فاخر بھائی
یاسر شاہ — مارچ 4، 2019 4:03 شام
السلام علیکم تابش بھائی -کیسے ہیں ؟
چلے آؤ، اسے کوفہ نہ سمجھو
"مرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے"
واہ -"کوفی لا یوفی" کو کیا خوب نظم کیا ہے -
پڑے جس میں پرکھنے کی ضرورت
محبت سلسلہ ایسا نہیں ہے
واہ -
جفاؤں پر خفا ہوتا ہے تابشؔ
مگر چاہے برا، ایسا نہیں ہے
خوب -نکاح ثانی کی بات کہیں چل نکلے تو یہ شعر بھجوا دیجئے گا -:LOL:
باقی شروع کے اشعار کے متعلق دو ایک باتیں عرض کروں اگر اجازت دیں -کیا کہا ؟... اجازت ہے -شکریہ :)
رہے گی ابتلا، ایسا نہیں ہے
نہ پوری ہو دعا، ایسا نہیں ہے
پہلے مصرع میں "سدا" یا "ہمیشہ" کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مطلب برآوری کے لئے -
پکارو اس کو ہر رنج و الم میں
وہ ہو جائے خفا، ایسا نہیں ہے
آپ کہنا غالباً یہ چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ پکارنے سے خفا نہ ہو گا -لیکن مصرعوں میں باہم ربط کمزور ہے جس وجہ سے یہ مفہوم واضح نہیں ہوتا -
شکستہ ناؤ امت کی سنبھالے
کوئی بھی ناخدا ایسا نہیں ہے؟
یہاں بھی میرا خیال ہے دوسرے مصرع کا انداز سوالیہ سے زیادہ نافیہ ہے ،لفظ "بھی" کی وجہ سے -
بھائی !میری باتوں کو سنجیدگی سے مت لیجیو-:)
آپ کے مزید کلام کا منتظر
خیر اندیش
محمد تابش صدیقی — مارچ 4، 2019 4:50 شام
السلام علیکم تابش بھائی -کیسے ہیں ؟
و علیکم السلام
الحمد للہ
چلے آؤ، اسے کوفہ نہ سمجھو
"مرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے"
واہ -"کوفی لا یوفی" کو کیا خوب نظم کیا ہے -
پڑے جس میں پرکھنے کی ضرورت
محبت سلسلہ ایسا نہیں ہے
واہ -
جفاؤں پر خفا ہوتا ہے تابشؔ
مگر چاہے برا، ایسا نہیں ہے
خوب -نکاح ثانی کی بات کہیں چل نکلے تو یہ شعر بھجوا دیجئے گا -:LOL:
بہت شکریہ۔ پسند فرمانے پر شکر گزار ہوں۔ :)
باقی شروع کے اشعار کے متعلق دو ایک باتیں عرض کروں اگر اجازت دیں -کیا کہا ؟... اجازت ہے -شکریہ
دو، ایک کیا، دس بیس باتیں عرض کیجیے۔ کھلی اجازت ہے، ہمیشہ کے لیے۔ :)
رہے گی ابتلا، ایسا نہیں ہے
نہ پوری ہو دعا، ایسا نہیں ہے
پہلے مصرع میں "سدا" یا "ہمیشہ" کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مطلب برآوری کے لئے -
ایک متبادل
رہے مشکل سدا، ایسا نہیں ہے
پکارو اس کو ہر رنج و الم میں
وہ ہو جائے خفا، ایسا نہیں ہے
آپ کہنا غالباً یہ چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ پکارنے سے خفا نہ ہو گا -لیکن مصرعوں میں باہم ربط کمزور ہے جس وجہ سے یہ مفہوم واضح نہیں ہوتا -
ہر رنج و الم میں اسے پکارو، یہ نہ سمجھو کہ وہ خفا ہو جائے گا
بظاہر تو کمی محسوس نہیں کو رہی۔
شکستہ ناؤ امت کی سنبھالے
کوئی بھی ناخدا ایسا نہیں ہے؟
یہاں بھی میرا خیال ہے دوسرے مصرع کا انداز سوالیہ سے زیادہ نافیہ ہے ،لفظ "بھی" کی وجہ سے -
سوالیہ نشان اسی وضاحت کے لیے لگایا۔ یہ ٹھیک ہے کہ کیا کے بغیر استفہامی انداز میں کمی محسوس ہو رہی ہے۔ کچھ بہتر متبادل سمجھ آنے تک کام چلاتا ہوں۔ :)
بھائی !میری باتوں کو سنجیدگی سے مت لیجیو-:)
اصلاح ہی تو سب سے زیادہ سنجیدگی سے لی جانے والی چیز ہے۔ :)
آپ کے مزید کلام کا منتظر
خیر اندیش
کوشش رہے گی کہ تک بندیاں پیش کرتا رہوں
محبتوں پر ممنون ہوں۔ جزاک اللہ خیر۔ :)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DA%AF%DB%8C-%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.105776/