غزل: زمانہ ہر اک پل تغیّر میں تھا

محمداحمد — فروری 24، 2021 12:07 شام
ایک پرانی غزل ۔ احباب کے ذوق کی نذر!
غزل
زمانہ ہر اک پل تغیّر میں تھا
وہی چل سکا جو تدبر میں تھا
ہوا بُرد ہوتی رہیں دستکیں
کوئی واہموں کے تحیّر میں تھا
محبت ہے کیا جان پایا نہ میں
اگرچہ ازل سے تفکر میں تھا
نگر چھوڑنے کا مرا فیصلہ
تیری الجھنوں کے تناظر میں تھا
ندامت تھی مجھ کو اُسی بات پر
کہ جس پر جہاں اک تفاخُر میں تھا
میں احمدؔ اُسے ڈھونڈتا ہی رہا
جو تھا بھی تو میرے تصوّر میں تھا
محمد احمدؔ

یاد نہیں پڑتا کہ میں نے یہ غزل محفل میں لگائی تھی یا نہیں!لیکن ابھی ڈھونڈے سے کہیں نہیں ملی تو پھر لگا دی۔
اے خان — فروری 24، 2021 1:32 شام
واہ احمد بھائی کیا کہنے:in-love:
سید عاطف علی — فروری 24، 2021 1:54 شام
بہت خوب محمداحمد بھائی ۔ لیکن
شہر والا مصرع کیوں ڈھیلا چھوڑ دیا ۔
محمداحمد — فروری 24، 2021 3:19 شام
واہ احمد بھائی کیا کہنے:in-love:

بہت شکریہ چھوٹے بھیا
خوش رہیے۔ :)
محمداحمد — فروری 24، 2021 3:21 شام
بہت خوب محمداحمد بھائی ۔ لیکن
شہر والا مصرع کیوں ڈھیلا چھوڑ دیا ۔

بہت شکریہ عاطف بھائی!
شہر کا علاج ہم نے ڈھونڈ لیا تھا لیکن پوسٹ کرتے وقت ابتدائی نسخہ پوسٹ ہو گیا۔ :)
نشاندہی کے لیے ممنون ہو۔ :in-love:
محمد تابش صدیقی — فروری 25، 2021 4:13 صبح
بہت عمدہ غزل احمد بھائی۔ کیا کہنے۔
زمانہ ہر اک پل تغیّر میں تھا
وہی چل سکا جو تدبر میں تھا
ہوا بُرد ہوتی رہیں دستکیں
کوئی واہموں کے تحیّر میں تھا
محبت ہے کیا جان پایا نہ میں
اگرچہ ازل سے تفکر میں تھا
نگر چھوڑنے کا مرا فیصلہ
تیری الجھنوں کے تناظر میں تھا
ندامت تھی مجھ کو اُسی بات پر
کہ جس پر جہاں اک تفاخُر میں تھا
میں احمدؔ اُسے ڈھونڈتا ہی رہا
جو تھا بھی تو میرے تصوّر میں تھا
محمد احمدؔ
محمداحمد — فروری 25، 2021 7:06 صبح
بہت عمدہ غزل احمد بھائی۔ کیا کہنے۔

بہت شکریہ تابش بھائی!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81-%DB%81%D8%B1-%D8%A7%DA%A9-%D9%BE%D9%84-%D8%AA%D8%BA%DB%8C%D9%91%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.115288/