غزل: زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے ٭ تابش

محمد تابش صدیقی — فروری 22، 2021 4:49 صبح
زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے
ہوس اور مطلب میں ایثار گم ہے
شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
ہر آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے
میں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوں
کہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہے
ہوا بے وفائی کی ایسی چلی ہے
وفا کی طلب ہے، وفادار گم ہے
بچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسے
کہ امت کی نیّا کی پتوار گم ہے
ہوئی بزدلی رہنماؤں پہ طاری
کہ سر تو سلامت ہے، دستار گم ہے
نہیں کوئی جو ظلم کو ظلم کہہ دے
زبانیں ہیں موجود، اظہار گم ہے
بنی زندگی دوڑ سرمایے کی اب
زیادہ کی خواہش میں معیار گم ہے
سرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔ
ہمارے یہاں چشمِ بیدار گم ہے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمداحمد — فروری 22، 2021 6:53 صبح
شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے
بچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسے
کہ امت کی نیّا کی پتوار گم ہے
نہیں کوئی جو ظلم کو ظلم کہہ دے
زبانیں ہیں موجود، اظہار گم ہے
سرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔ
ہمارے یہاں چشمِ بیدار گم ہے

بہت خوب تابش بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
محمد تابش صدیقی — فروری 22، 2021 8:42 صبح
بہت خوب تابش بھائی!
عمدہ غزل ہے۔
جزاک اللہ خیر احمد بھائی
محمد عبدالرؤوف — فروری 22، 2021 8:48 صبح
بہت خوب تابش بھائی، اچھی غزل ہے
الف نظامی — فروری 22، 2021 9:14 صبح
بہت خوب!
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے لہذا شجر کاری مہم ناگزیر ہے۔
محمد تابش صدیقی — فروری 22، 2021 11:42 صبح
بہت خوب تابش بھائی، اچھی غزل ہے

بہت خوب!
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے لہذا شجر کاری مہم ناگزیر ہے۔
بہت شکریہ احباب
عاطف ملک — فروری 22، 2021 1:52 شام
آپ کے اپنے طرز کی غزل۔۔۔۔۔بہت خوب تابش بھائی
محمد تابش صدیقی — فروری 22، 2021 4:43 شام
آپ کے اپنے طرز کی غزل۔۔۔۔۔بہت خوب تابش بھائی
تشکر برادر
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 22، 2021 4:47 شام
ماشاءاللّٰه
بہت عمدہ اور شاندار کلام پیش کیا بھیا
جیتے رہیں
محمد تابش صدیقی — فروری 23، 2021 4:03 صبح
ماشاءاللّٰه
بہت عمدہ اور شاندار کلام پیش کیا بھیا
جیتے رہیں
جزاک اللہ خیر عدنان بھائی۔
یاسر شاہ — فروری 28، 2021 8:48 صبح
السلام علیکم تابش بھائی !
شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے
واہ -خوب -
اسی زمین میں کچھ شرارت سوجھ رہی ہے :
میں تالاب سے باہر آ تو گیا ہوں
مگر صاحبو ! کرتا شلوار گم ہے
اب آنا ہے تالاب کے پھر سے اندر
کہ بندر تو بالائے اشجار گم ہے
:LOL:
محتاج دعا
یاسر
محمد تابش صدیقی — فروری 28، 2021 9:09 صبح
السلام علیکم تابش بھائی !
شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے
واہ -خوب -
جزاک اللہ خیر یاسر بھائی۔
اسی زمین میں کچھ شرارت سوجھ رہی ہے :
میں تالاب سے باہر آ تو گیا ہوں
مگر صاحبو ! کرتا شلوار گم ہے
اب آنا ہے تالاب کے پھر سے اندر
کہ بندر تو بالائے اشجار گم ہے
:LOL:
ہاہا۔ یہ تو بڑی نازک صورتحال ہو گئی ہے۔ :D
جاسمن — جولائی 29، 2021 5:50 شام
بہت خوب!
عمدہ اشعار۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 29، 2021 6:22 شام
میں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوں
کہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہے
نو بجے والے خبرنامے کی شہ سرخیاں سنتے ہوئے یہ شعر نظر سے گزرا اور بے ساختہ ہنسی آ گئی :)
خوب غزل ہے تابش بھائی ... تعجب ہے کہ پہلے کیونکر نہیں پڑھی... ماشاء اللہ.
سیما علی — جولائی 29، 2021 6:52 شام
سرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔ
ہمارے یہاں چشمِ بیدار گم ہے
بہت عمدہ
زبردست زبردست زبردست
جیتے رہیے تابش میاں !!!!!
ایس ایس ساگر — جولائی 29، 2021 7:42 شام
زمانے سے اخلاق و کردار گم ہے
ہوس اور مطلب میں ایثار گم ہے
شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے
میں عدسہ اٹھا کر خبر ڈھونڈتا ہوں
کہ اب اشتہاروں میں اخبار گم ہے
ہوا بے وفائی کی ایسی چلی ہے
وفا کی طلب ہے، وفادار گم ہے
بچائے کوئی ناخدا بھی تو کیسے
کہ امت کی نیّا کی پتوار گم ہے
ہوئی بزدلی رہنماؤں پہ طاری
کہ سر تو سلامت ہے، دستار گم ہے
نہیں کوئی جو ظلم کو ظلم کہہ دے
زبانیں ہیں موجود، اظہار گم ہے
بنی زندگی دوڑ سرمایے کی اب
زیادہ کی خواہش میں معیار گم ہے
سرابوں کے ہم ہیں تعاقب میں تابشؔ
ہمارے یہاں چشمِ بیدار گم ہے
بہت خوب تابش بھائی۔
لاجواب۔ عمدہ غزل۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔آمین۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 30، 2021 4:29 صبح
اچھے اشعار ہیں تابش بھائی ! بہت خوب! اچھے اصلاحی مضامین باندھے ہیں ۔ اللہ کرے یہ کوشش مقبول ہو۔
شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے
اس شعر کو دیکھ لیجئے ۔ پہلے مصرع میں جب سے لکھنےکے بعد دوسرے میں "اب" بے محل ہے۔ دوسرے مصرع میں "تب سے" تو آسکتا ہے لیکن اب نہیں ۔ اب کی جگہ "ہر" کرکے دیکھ لیجئے ۔​
ابن توقیر — جولائی 30، 2021 9:53 صبح
بہت خوب تابش بھائی۔
الف عین — جولائی 30، 2021 10:37 صبح
اچھے اشعار ہیں تابش بھائی ! بہت خوب! اچھے اصلاحی مضامین باندھے ہیں ۔ اللہ کرے یہ کوشش مقبول ہو۔
شجر کی جگہ جب سے لی ہے حجر نے
اب آنگن سے چڑیوں کی چہکار گم ہے
اس شعر کو دیکھ لیجئے ۔ پہلے مصرع میں جب سے لکھنےکے بعد دوسرے میں "اب" بے محل ہے۔ دوسرے مصرع میں "تب سے" تو آسکتا ہے لیکن اب نہیں ۔ اب کی جگہ "ہر" کرکے دیکھ لیجئے ۔​
یہ بات تو درست ہے ہی، اس کے علاوہ مجھے 'حجر' بھی غلط لگا، سیمنٹ کانکریٹ کے لئے نہیں، حجر اصلی فطری پتھر کو کہتے ہیں جو شجر کی جگہ لے ہی نہیں سکتا؟ کیا سیمنٹ کو کہا جا سکتا ہے حجر؟
امین شارق — جولائی 30، 2021 1:10 شام
بہت خوب تابش بھائی۔
لاجواب۔ عمدہ غزل۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%82-%D9%88-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%DA%AF%D9%85-%DB%81%DB%92-%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.115260/