غزل: زندگی تو ہے۔

علی امان — اکتوبر 3، 2016 3:50 شام
میں مسافر ہوں رہبری تو ہے
دشتِ تیرہ میں روشنی تو ہے​

جانِ ساغر ہے مے کشی تو ہے
جس کے دم سے ہے بے خودی تو ہے​

تو تغزل ہے میری غزلوں کا
میرے نغموں کی نغمگی تو ہے​

گذریں کتنی نگہ سے تصویریں
اک جو دل میں اتر گئی تو ہے​

بے خبر ہوں میں ساری دنیا سے
ہے فقط جس سے آگہی تو ہے​

گر ضرورت ہے تو فقط تیری
اور کسی کی ہے گر کمی تو ہے​

تیرا مسکن ہے میری یادوں میں
میرے دل کی گلی گلی تو ہے​

میرا جینا محال ہے تجھ بن
کیا کروں میری زندگی تو ہے

علی امان​
الف عین — اکتوبر 3، 2016 5:18 شام
اچھی غزل ہے۔
علی امان — اکتوبر 3، 2016 5:23 شام
آپ جیسے حضرات کی توجہات کو میں اپنے لئے خوش نصیبی سمجھتاہوں۔ بہت شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%DB%81%DB%92%DB%94.92264/