غزل: سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں ٭ تابش

محمد تابش صدیقی — دسمبر 17، 2020 1:11 شام
سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں
آ گئی راس ان کو بھی شامِ خزاں
ہم بہاروں سے مایوس کیا ہو گئے
دیس میں بڑھ گئے یونہی دامِ خزاں
غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں
دن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئے
ہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاں
گر کلامِ بہاراں ہے گل کی مہک
تو ہے پتوں کی آہٹ کلامِ خزاں
سوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلے
کچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمد عدنان اکبری نقیبی — دسمبر 17، 2020 2:23 شام
غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں
بہت لاجواب
شاندار غزل
ایس ایس ساگر — دسمبر 17، 2020 3:03 شام
سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں
آ گئی راس ان کو بھی شامِ خزاں
ہم بہاروں سے مایوس کیا ہو گئے
دیس میں بڑھ گئے یونہی دامِ خزاں
غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں
دن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئے
ہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاں
گر کلامِ بہاراں ہے گل کی مہک
تو ہے پتوں کی آہٹ کلامِ خزاں
سوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلے
کچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں
واہ۔ بہت خوب محمد تابش صدیقی بھیا۔
بہت عمدہ غزل ہے۔ خوبصورت اشعار کے ساتھ مزّین۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 17، 2020 8:48 شام
بہت خوب ماشاء اللہ
گویا دسمبر میں اکتوبر کی شاعری کی قضا ادا کی جا رہی ہے :)
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 17، 2020 11:12 شام
واہ! بہت خوب تابش بھائی!
اچھے اشعار ، اچھی زمین ہے ۔ بہت خوب!
محمد تابش صدیقی — دسمبر 18، 2020 3:25 صبح
بہت لاجواب
شاندار غزل
بہت شکریہ عدنان بھائی
محمد تابش صدیقی — دسمبر 18، 2020 3:25 صبح
واہ۔ بہت خوب محمد تابش صدیقی بھیا۔
بہت عمدہ غزل ہے۔ خوبصورت اشعار کے ساتھ مزّین۔
بہت محبت ساگر بھائی۔
محمد تابش صدیقی — دسمبر 18، 2020 3:30 صبح
بہت خوب ماشاء اللہ
گویا دسمبر میں اکتوبر کی شاعری کی قضا ادا کی جا رہی ہے :)
جزاک اللہ خیر راحل بھائی
شاعر ہونے کا الزام بھی تو نبھانا ہے۔ :)
محمد تابش صدیقی — دسمبر 18، 2020 3:32 صبح
واہ! بہت خوب تابش بھائی!
اچھے اشعار ، اچھی زمین ہے ۔ بہت خوب!
آداب ظہیر بھائی۔ پسند فرمانے پر شکرگزار ہوں۔ :)
محمداحمد — دسمبر 18، 2020 5:40 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے تابش بھائی !
بہت سی داد!
ہم بہاروں سے مایوس کیا ہو گئے
دیس میں بڑھ گئے یونہی دامِ خزاں
اسی لئے تو اقبال نے کہا تھا ۔۔۔
غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں
واہ!
دن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئے
ہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاں
خوبصورت! کیا کہنے!
سوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلے
کچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں
بہت خوب!
آج کل گلی سڑی سبزیوں سے کھاد بنائی جا رہی ہے اور اسے نئے پودے اُگانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آپ بھی بہت زیادہ احترام نہ کریں ۔ یہ پتے بھی پیروں میں کچلے جانے کے بعد با آسانی رزقِ خاک بن جائیں گے اور بہاروں کا سامان بنیں گے۔ :)
ازراہِ تفنن! :)
محمد تابش صدیقی — دسمبر 18، 2020 7:09 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے تابش بھائی !
بہت سی داد!
اسی لئے تو اقبال نے کہا تھا ۔۔۔
واہ!
خوبصورت! کیا کہنے!
بہت خوب!
آج کل گلی سڑی سبزیوں سے کھاد بنائی جا رہی ہے اور اسے نئے پودے اُگانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ آپ بھی بہت زیادہ احترام نہ کریں ۔ یہ پتے بھی پیروں میں کچلے جانے کے بعد با آسانی رزقِ خاک بن جائیں گے اور بہاروں کا سامان بنیں گے۔ :)
ازراہِ تفنن! :)
جزاک اللہ خیر احمد بھائی۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ :)
محمد وارث — دسمبر 18، 2020 7:20 صبح
عمدہ غزل ہے صدیقی صاحب، بہت خوب۔
محمد تابش صدیقی — دسمبر 18، 2020 9:41 صبح
عمدہ غزل ہے صدیقی صاحب، بہت خوب۔
بہت شکریہ وارث بھائی۔ پسند فرمانے پر ممنون ہوں۔ :)
عاطف ملک — دسمبر 18، 2020 8:31 شام
غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں
واہ
دن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئے
ہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاں
لاجواب شعر
گر کلامِ بہاراں ہے گل کی مہک
تو ہے پتوں کی آہٹ کلامِ خزاں
کیا خوبصورت خیال ہے
سوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلے
کچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں
مقطع تو سبحان اللہ
اب یہ مت سمجھیے گا کہ مطلع سے خاندانی دشمنی نکالی ہے ہم نے:p
پوری غزل ہی کمال،لاجواب، خوبصورت وغیرہ وغیرہ ہے۔
بہت داد:)
محمد تابش صدیقی — دسمبر 19، 2020 4:43 صبح
واہ
لاجواب شعر
کیا خوبصورت خیال ہے
مقطع تو سبحان اللہ
اب یہ مت سمجھیے گا کہ مطلع سے خاندانی دشمنی نکالی ہے ہم نے:p
پوری غزل ہی کمال،لاجواب، خوبصورت وغیرہ وغیرہ ہے۔
بہت داد:)
جزاک اللہ خیر ڈاکٹر صاحب۔
عرفان علوی — دسمبر 19، 2020 4:45 صبح
سن کے گھبرا گئے تھے جو نامِ خزاں
آ گئی راس ان کو بھی شامِ خزاں
ہم بہاروں سے مایوس کیا ہو گئے
دیس میں بڑھ گئے یونہی دامِ خزاں
غم ضروری ہے قدرِ خوشی کے لیے
ہے یہی غمزدوں کو پیامِ خزاں
دن بہاروں کے آ کر چلے بھی گئے
ہم تو کرتے رہے اہتمامِ خزاں
گر کلامِ بہاراں ہے گل کی مہک
تو ہے پتوں کی آہٹ کلامِ خزاں
سوکھے پتے نہ کچلو یوں پیروں تلے
کچھ تو تابشؔ کرو احترامِ خزاں

٭٭٭
محمد تابش صدیقی

تابش صاحب، آداب عرض ہے!
بھائی، آپ نے تو ’خزاں‘ میں بھی ایسے ایسے پھول کھلائے ہیں کہ دیکھ کر طبیعت عش عش کر اٹھی .:) داد قبول فرمائیے!
نیازمند،
عرفان عؔابد
محمد تابش صدیقی — دسمبر 19، 2020 5:47 صبح
تابش صاحب، آداب عرض ہے!
بھائی، آپ نے تو ’خزاں‘ میں بھی ایسے ایسے پھول کھلائے ہیں کہ دیکھ کر طبیعت عش عش کر اٹھی .:) داد قبول فرمائیے!
نیازمند،
عرفان عؔابد
حوصلہ افزائی پر ممنون ہوں عرفان بھائی۔
الف عین — دسمبر 19، 2020 8:08 صبح
واہ بھئی اچھی بلکہ استادانہ غزل کہی ہے، مبارک ہو
محمد تابش صدیقی — دسمبر 19، 2020 9:16 صبح
واہ بھئی اچھی بلکہ استادانہ غزل کہی ہے، مبارک ہو
جزاک اللہ خیر استادِ محترم
محمد عبدالرؤوف — دسمبر 19، 2020 10:07 صبح
بہت خوب تابش بھائی
آپ نے خزاں کو کیا ہی خوبصورت بنا دیا، ڈھیروں داد قبول کیجیے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B3%D9%86-%DA%A9%DB%92-%DA%AF%DA%BE%D8%A8%D8%B1%D8%A7-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D8%AC%D9%88-%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%90-%D8%AE%D8%B2%D8%A7%DA%BA-%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.114346/