غزل : شعر کہنا اگر سزا ہوجائے : (نذرِ جون ایلیا) : م۔م۔مغل ؔ

مغزل — فروری 18، 2013 2:50 شام
نذرِ جون ایلیا
(غزل)
شعر کہنا اگر سزا ہوجائے
آدمی جونؔ ایلیا ہوجائے
مرتکز ہوچکی ہے بینائی
یعنی آئینہ دائرہ ہوجائے
بے یقینی کی بارشوں سے نہ ڈر
کیا خبر برگِ دل ہرا ہوجائے
فاصلے طعنہ زن رہیں مجھ پر
اور دشنام راستہ ہوجائے
جی میں آتا ہے ایک دن یوں ہی
رنجشوں سے مباحثہ ہوجائے
گھر میں دیوار سر اٹھانے لگی
کیا سکونت بھی واہمہ ہوجائے
رَم نہ فرمائے کار فرمائی
دشت کا دشت سانحہ ہوجائے
واہمہ ہی سہی وصالِ غزال
عین ممکن ہے واقعہ ہوجائے
کیا تگ و تازِ روز و شب محمودؔ
عشق میں دل اگر بڑا ہوجائے
م۔م۔مغل ؔ
منسلکات : ہوم منسٹر ، معاسکر ، محمد احمد ، محمد وارث ، الف عین ، بلال میاں ، سعود بھیا ، شمشادبھائی
فاتح — فروری 18، 2013 2:58 شام
واہ واہ
کس کس شعر کی داد دوں۔۔۔ ہر اک شعر اپنی جگہ کمال ہے۔ گو کہ آپ کی زبانی سن کر اور ہی سرور دیا تھا اس غزل نے لیکن یہاں بھی قند مکرر کا لطف دے گئی۔
زندہ باد
محمداحمد — فروری 18، 2013 3:03 شام
واہ واہ واہ
کیا بات ہے مغل بھیا۔۔۔! کیا خوب غزل کہی ہے جناب نے۔
بہت اعلیٰ۔۔۔!
بے یقینی کی بارشوں سے نہ ڈر
کیا خبر برگِ دل ہرا ہوجائے
جی میں آتا ہے ایک دن یوں ہی
رنجشوں سے مباحثہ ہوجائے
واہمہ ہی سہی وصالِ غزال
عین ممکن ہے واقعہ ہوجائے

ان اشعار پر خاص داد وصول کیجے ۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔۔۔!
ابن سعید — فروری 18، 2013 3:05 شام
زبردست۔۔۔ خوب است! کمال است!! لا جواب است!!! :) :) :)
محمد بلال اعظم — فروری 18، 2013 4:10 شام
شکریہ بھائی منسلک کرنے کا​
جون ایلیا کی نذر کی ہے تو پھر غزل بھی ان کی طرح زبردست تو ہو گی ہی لازمی۔
(غزل)
شعر کہنا اگر سزا ہوجائے
آدمی جونؔ ایلیا ہوجائے
زبردست​
خوبصورت مطلع مغل بھائی​
مرتکز ہوچکی ہے بینائی
یعنی آئینہ دائرہ ہوجائے
کیا بات ہے!​
بے یقینی کی بارشوں سے نہ ڈر
کیا خبر برگِ دل ہرا ہوجائے
بے شک​

فاصلے طعنہ زن رہیں مجھ پر
اور دشنام راستہ ہوجائے
جی میں آتا ہے ایک دن یوں ہی
رنجشوں سے مباحثہ ہوجائے
گھر میں دیوار سر اٹھانے لگی
کیا سکونت بھی واہمہ ہوجائے
رَم نہ فرمائے کار فرمائی
دشت کا دشت سانحہ ہوجائے
واہمہ ہی سہی وصالِ غزال
عین ممکن ہے واقعہ ہوجائے
انہیں پڑھ کے تو عجیب سی کیفیت ہے۔​
سبحان اللہ​
کیا خوبصورت اشعار ہیں۔​
کیا تگ و تازِ روز و شب محمودؔ
عشق میں دل اگر بڑا ہوجائے
م۔م۔مغل ؔ
آہا​
بہت خوب​
محمد بلال اعظم — فروری 18، 2013 4:16 شام
رجسٹر میں لکھ لی ہے، کل کالج میں دوستوں کی بھی پڑھاؤں گا۔
نایاب — فروری 18، 2013 4:40 شام
کلاسیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیرنگ خیال — فروری 18، 2013 4:57 شام
لاجواب۔۔۔ بہت عمدہ۔ ہر شعر گویا نگینہ جڑا ہے۔
آبی ٹوکول — فروری 18، 2013 5:04 شام
بھئی بھیے بہت ہی خوب واہ واہ واہ لاجواب
مہ جبین — فروری 18، 2013 5:36 شام
بے یقینی کی بارشوں سے نہ ڈر
کیا خبر برگِ دل ہرا ہوجائے
واہ واہ کیا کمال کلام ہے مغزل
الف عین — فروری 19، 2013 9:58 صبح
واہ محمود، زبردست۔ ہمارا برگ دل بھی ہرا ہو گیا!!
مغزل — فروری 20، 2013 3:02 شام
واہ واہ
کس کس شعر کی داد دوں۔۔۔ ہر اک شعر اپنی جگہ کمال ہے۔ گو کہ آپ کی زبانی سن کر اور ہی سرور دیا تھا اس غزل نے لیکن یہاں بھی قند مکرر کا لطف دے گئی۔
زندہ باد
فاتح بھائی محض آپ کی محبت ہے وگرنہ من آنم کہ من دانم ، دوسری تازہ غزل کے بعد ایک اور تازہ غزل بھی ظہوریاب ہوچکی ہے انشا اللہ بیگم صاحبہ کی اجازت کے بعد یہاں شامل کروں گا۔
آپ ایسے سخنور سے حرفِ تحسین کا میسر آنا بھی نعمت ِ مترکبہ (اور وہ بھی پورے رقبے پر محیط :p ) سے کم نہیں ہے ۔ محبتوں کے لیے سراپا سپاس اور ممنون ہوں فاتح بھائی ۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم
غیرمقلدینِ فاتح الدین ہیں ۔:)
مغزل — فروری 20، 2013 3:09 شام
واہ واہ واہ
کیا بات ہے مغل بھیا۔۔۔ ! کیا خوب غزل کہی ہے جناب نے۔
بہت اعلیٰ۔۔۔ !
ان اشعار پر خاص داد وصول کیجے ۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔۔۔ !
بہت شکریہ احمد میاں سلامت باشید ، خوش رہو آباد رہو کامران رہو۔:angel:
دعا کے لیے سراپا سپاس ہوں گر چہ ’’ اب زورِ قلم سے ‘‘ شعر نہیں ہوتا۔ :)
تمھاری داد تمھاری دعائیں تمھاری محبتوں کی آئینہ دار ہیں سدا سلامت رہو پیارے بھائی ۔۔:)
مغزل — فروری 20، 2013 3:28 شام
زبردست۔۔۔ خوب است! کمال است!! لا جواب است!!! :) :) :)
بنّے بھیا ھوالمعروف ابن سعید بلکہ سعود بھائی :blushing::happy:۔۔
اس لڑی میں آپ کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا ، آپ کی محبتوں کے تو ہم پہلے سے ہی اسیر ہیں اب تو پابہ زنجیر بھی ہوگئے کہ ایک نسخہ ہاتھ آگیا آپ کو متوجہ کرنے کا :p:angel::)
آپ کے الفاظ میں پنہاں آپ کی محبتیں آپ کی سرشاری دل میں جاگزیں ہے بہت بہت بہت دعائیں بہت بہت دعائیں سعود بھائی ۔۔ :)
محمد وارث — فروری 21، 2013 5:13 صبح
کیا کہنے مغل صاحب بہت اچھی غزل ہے، تمام اشعار ہی خوب ہیں، بہت داد قبول کیجیے قبلہ۔
غ۔ن۔غ — فروری 21، 2013 5:06 شام
نذرِ جون ایلیا
(غزل)
شعر کہنا اگر سزا ہوجائے
آدمی جونؔ ایلیا ہوجائے
مرتکز ہوچکی ہے بینائی
یعنی آئینہ دائرہ ہوجائے
بے یقینی کی بارشوں سے نہ ڈر
کیا خبر برگِ دل ہرا ہوجائے
فاصلے طعنہ زن رہیں مجھ پر
اور دشنام راستہ ہوجائے
جی میں آتا ہے ایک دن یوں ہی
رنجشوں سے مباحثہ ہوجائے
گھر میں دیوار سر اٹھانے لگی
کیا سکونت بھی واہمہ ہوجائے
رَم نہ فرمائے کار فرمائی
دشت کا دشت سانحہ ہوجائے
واہمہ ہی سہی وصالِ غزال
عین ممکن ہے واقعہ ہوجائے
کیا تگ و تازِ روز و شب محمودؔ
عشق میں دل اگر بڑا ہوجائے
م۔م۔مغل ؔ

ہممم وا ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ:rose: :rose: :rose: :rose: :rose: :rose: :rose: :rose: :redheart: :redheart:
میں کیا کہوں یہاں کہ میری داد تو تمھیں اسی وقت مل جاتی ہے جب تم مجھے اپنی تخلیقات اپنی آواز میں سناتے ہو میں تم سے سنتی ہوں تمھاری
آواز میں اور یوں میرے لیے تمھارا ایک ایک لفظ اور بھی قیمتی ہو جاتا ہے ،اور بھی حسین ہوجاتا ہے
اور بھی پر تاثیر ہوجاتا ہے اور میری خوشی کا احاطہ یہ الفاظ تھوڑی کر سکتے ہیں محمود مغزل ۔ ۔ ۔۔ :redheart: :happy:
ہاں یہ پھول تمھاری اس بہت ہی لاجواب غزل کے نام ۔ ۔۔ ۔ (ہاہاہاہاہا تمھاری غزل تو میں بھی ہوں یعنی ڈبلفائدہ اور وہ بھی سارا ہی میرا :happy::blushing:)
100220.gif

red-roses-bouquet.jpg
فاتح — فروری 21، 2013 5:06 شام
فاتح بھائی محض آپ کی محبت ہے وگرنہ من آنم کہ من دانم ، دوسری تازہ غزل کے بعد ایک اور تازہ غزل بھی ظہوریاب ہوچکی ہے انشا اللہ بیگم صاحبہ کی اجازت کے بعد یہاں شامل کروں گا۔
آپ ایسے سخنور سے حرفِ تحسین کا میسر آنا بھی نعمت ِ مترکبہ (اور وہ بھی پورے رقبے پر محیط :p ) سے کم نہیں ہے ۔ محبتوں کے لیے سراپا سپاس اور ممنون ہوں فاتح بھائی ۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم
غیرمقلدینِ فاتح الدین ہیں ۔:)
ہماری تقلید کیجیے گا بھی مت ورنہ ہماری طرح پچھتائیں گے۔۔۔ ہم نے آپ کو اپنی تقلید سے روکنے کے لیے ہی وہ مراسلہ لکھا تھا جسے آپ نے مدون کروا دیا۔۔۔ اس میں سراسر ہمارا اپنا تجربہ تھا۔
صائمہ شاہ — فروری 21، 2013 10:24 شام
واہ مغزل بھائی ہر شعر لا جواب ہے
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 2، 2013 1:55 صبح
نذرِ جون ایلیا
(غزل)
شعر کہنا اگر سزا ہوجائے
آدمی جونؔ ایلیا ہوجائے
مرتکز ہوچکی ہے بینائی
یعنی آئینہ دائرہ ہوجائے
بے یقینی کی بارشوں سے نہ ڈر
کیا خبر برگِ دل ہرا ہوجائے
فاصلے طعنہ زن رہیں مجھ پر
اور دشنام راستہ ہوجائے
جی میں آتا ہے ایک دن یوں ہی
رنجشوں سے مباحثہ ہوجائے
گھر میں دیوار سر اٹھانے لگی
کیا سکونت بھی واہمہ ہوجائے
رَم نہ فرمائے کار فرمائی
دشت کا دشت سانحہ ہوجائے
واہمہ ہی سہی وصالِ غزال
عین ممکن ہے واقعہ ہوجائے
کیا تگ و تازِ روز و شب محمودؔ
عشق میں دل اگر بڑا ہوجائے
م۔م۔مغل ؔ
واہ وا۔ بہت عمدہ غزل ہے محمود بھائی۔ بہت داد قبول فرمائیے
™جون ایلیا™ — جون 21، 2016 11:45 صبح
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد... نادرِ روزگار تھے ہم تو ― جون ایلیا
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%81%D9%86%D8%A7-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D8%B3%D8%B2%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%86%D8%B0%D8%B1%D9%90-%D8%AC%D9%88%D9%86-%D8%A7%DB%8C%D9%84%DB%8C%D8%A7-%D9%85%DB%94%D9%85%DB%94%D9%85%D8%BA%D9%84-%D8%94.60082/