غزل: ظلمتِ شب میں اجالے کا نشاں کوئی نہیں ۔۔۔

محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 23، 2023 8:43 صبح
ظلمتِ شب میں اجالے کا نشاں کوئی نہیں
اب شکست اور حوصلے کے درمیاں کوئی نہیں
آسماں سے مت الجھنا دوست، اس کا انتقام
آگ وہ برسائے گا جس سے اماں کوئی نہیں
عمر بھر کرکے لہو سے آبیاریٔ چمن
آج کل سنتے ہیں اپنا گلستاں کوئی نہیں
کہہ رہی ہیں بھیڑ کی بے سمت آوازیں کہ لوگ
منہ میں بس اک عضو رکھتے ہیں، زباں کوئی نہیں!
سب ہی اندازے لگا کر دیں گے ہمدردی کی بھیک
جس پہ گزری اس سے سنتا داستاں کوئی نہیں!
چاندنی پھیکی سی ہے، کہتے ہیں الٹا کر نقاب
آپ سا معصوم ہائے جانِ جاں کوئی نہیں
ہاں یقیناً سوز میں تھی کچھ کمی باقی کہ جو
عرش تک راحلؔ کبھی پہنچی فغاں کوئی نہیں!
یاسر شاہ — نومبر 23، 2023 9:02 صبح
آسماں سے مت الجھنا دوست، اس کا انتقام
آگ وہ برسائے گا جس سے اماں کوئی نہیں

عمر بھر کرکے لہو سے آبیاریٔ چمن
آج کل سنتے ہیں اپنا گلستاں کوئی نہیں

کہہ رہی ہیں بھیڑ کی بے سمت آوازیں کہ لوگ
منہ میں بس اک عضو رکھتے ہیں، زباں کوئی نہیں!

چاندنی پھیکی سی ہے، کہتے ہیں الٹا کر نقاب
آپ سا معصوم ہائے جانِ جاں کوئی نہیں

ہاں یقیناً سوز میں تھی کچھ کمی باقی کہ جو
عرش تک راحلؔ کبھی پہنچی فغاں کوئی نہیں!
واہ عزیزم احسن ، ماشاء اللہ دلی داد ،جو روکے نہ رکے ،پیش خدمت ہے۔
اللہم زد فزد ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 24، 2023 4:55 صبح
واہ عزیزم احسن ، ماشاء اللہ دلی داد ،جو روکے نہ رکے ،پیش خدمت ہے۔
اللہم زد فزد ۔
جزاک اللہ یاسر بھائی ۔۔۔ داد و پذیرائی کے لیے ممنون و متشکر ہوں۔
شکیل احمد خان23 — نومبر 24، 2023 6:32 شام
راحل بھائی !
اِس غزل کو خراج ِ عقیدت اور داد و تحسین کا ہدیہ پیش کرنے کے لیے مجھے بس یہی سُوجھی کہ اِ سے گرافکس سے سجاکر یہاں پیش کردوں۔غزل کے تمام اشعار اوربالخصوص جن کی نشاندہی یاسر بھائی نے فرمائی ، اِس گراں قدراور مبنی برحقیقت نگارش کی جان ہیں ۔خدا آپ کے فکر کی تنویر سے اہلِ بصر کے قلوب و اذہان منور رکھے ،آمین:
محمد شکیل خورشید — دسمبر 1، 2023 5:49 شام
واہ بہت اعلیٰ احسن بھائی
جاسمن — دسمبر 17، 2023 2:43 شام
بہت خوب!
محمداحمد — دسمبر 17، 2023 4:07 شام
بہت خوب احسن بھائی!
سب اشعار خوب ہیں۔
ایس ایس ساگر — دسمبر 17، 2023 7:11 شام
ماشاءاللہ۔ بہت عمدہ غزل ہے۔
احسن بھائی۔ داد قبول فرمائیے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 18، 2023 6:34 صبح
تمام احباب کا فردا فردا شکریہ ۔۔۔ جزاکم اللہ خیراً
الف نظامی — جنوری 24، 2024 7:20 شام
سب ہی اندازے لگا کر دیں گے ہمدردی کی بھیک
جس پہ گزری اس سے سنتا داستاں کوئی نہیں
بہت خوب!
یہ شعر یاد آگیا
اتنی تسکیں پسِ فریاد کہاں ملتی ہے
کوئی مائل بہ سماعت ہے یہ دل جان گیا
(نصیر الدین نصیر)
الف عین — جنوری 25، 2024 5:33 صبح
ظلمتِ شب میں اجالے کا نشاں کوئی نہیں
اب شکست اور حوصلے کے درمیاں کوئی نہیں
آسماں سے مت الجھنا دوست، اس کا انتقام
آگ وہ برسائے گا جس سے اماں کوئی نہیں
عمر بھر کرکے لہو سے آبیاریٔ چمن
آج کل سنتے ہیں اپنا گلستاں کوئی نہیں
کہہ رہی ہیں بھیڑ کی بے سمت آوازیں کہ لوگ
منہ میں بس اک عضو رکھتے ہیں، زباں کوئی نہیں!
سب ہی اندازے لگا کر دیں گے ہمدردی کی بھیک
جس پہ گزری اس سے سنتا داستاں کوئی نہیں!
چاندنی پھیکی سی ہے، کہتے ہیں الٹا کر نقاب
آپ سا معصوم ہائے جانِ جاں کوئی نہیں
ہاں یقیناً سوز میں تھی کچھ کمی باقی کہ جو
عرش تک راحلؔ کبھی پہنچی فغاں کوئی نہیں!
ماشاء اللہ کیا عمدہ غزل ہے، مبارکباد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B8%D9%84%D9%85%D8%AA%D9%90-%D8%B4%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D9%84%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%B4%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%94%DB%94%DB%94.120123/