محمد تابش صدیقی — مارچ 26، 2019 6:49 شام
عبث ہے دوڑ یہ آسائشِ جہاں کے لیے
کہ یہ جہان بنا ہی ہے امتحاں کے لیے
ہوا کی زد میں نشیمن ہے اب تو ڈر کیسا
چنی تھی شاخِ بلند اپنے آشیاں کے لیے
وہ آبیاری کرے یا کوئی کلی مسلے
بنا ہے باغ ہی سارا یہ باغباں کے لیے
ہے شور تب سے مری بے حسی کا دنیا میں
بچا لیے تھے کچھ آنسو غمِ نہاں کے لیے
نکھار آتا ہے خصلت میں نقد سے تابشؔ
اسی لیے میں دعاگو ہوں ناصحاں کے لیے
٭٭٭
محمد تابش صدیقی
جاسمن — مارچ 27، 2019 12:20 صبح
ہے شور تب سے مری بے حسی کا دنیا میں
بچا لیے تھے کچھ آنسو غمِ نہاں کے لیے
واہ واہ۔ بہت خوب۔ منفرد خیال
ہے سر پہ خاک، پھٹے ہونٹ اور گریباں چاک
"یہ اہتمام ہے کیوں؟ کس لیے؟ کہاں کے لیے؟"
کیا بات ہے!
ہوا کی زد میں نشیمن ہے اب تو ڈر کیسا
چنی تھی شاخِ بلند اپنے آشیاں کے لیے
بہت خوب!
خوبصوووووووورت غزل۔
عمدہ اشعار
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 27، 2019 1:34 صبح
خوبصورت خوب صورت۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔
فلسفی — مارچ 27، 2019 1:39 صبح
بہت خوب تابش بھائی، سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کس شعر کا اقتباس لوں۔ خوب پرواز کروائی ہے تخیل کی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 27، 2019 3:58 صبح
واہ واہ۔ بہت خوب۔ منفرد خیال
کیا بات ہے!
بہت خوب!
خوبصوووووووورت غزل۔
عمدہ اشعار
خوبصورت خوب صورت۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔
بہت خوب تابش بھائی، سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کس شعر کا اقتباس لوں۔ خوب پرواز کروائی ہے تخیل کی۔
جزاکم اللہ خیر۔
حوصلہ افزائی پر شکر گزار ہوں۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 27، 2019 4:20 صبح
ماشاء اللہ ،
ہر شعر لاجواب ، عمدہ
سلامت رہیں بھیا ۔
محمد وارث — مارچ 27، 2019 5:23 صبح
اچھی غزل ہے صدیقی صاحب، لاجواب۔
سردار محمد نعیم — مارچ 27، 2019 6:34 صبح
وااہ وااہ بہت خوب ماشاءاللّٰہ !!!
محمد تابش صدیقی — مارچ 27، 2019 5:06 شام
ماشاء اللہ ،
ہر شعر لاجواب ، عمدہ
سلامت رہیں بھیا ۔
اچھی غزل ہے صدیقی صاحب، لاجواب۔
وااہ وااہ بہت خوب ماشاءاللّٰہ !!!
جزاکم اللہ خیر۔ سراپا سپاس ہوں۔