غزل: عکس تیرا نظر میں باقی ہے

عرفان علوی — نومبر 12، 2022 5:20 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
ایک ہلکی پھلکی غزل پیش خدمت ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
عکس تیرا نظر میں باقی ہے
یعنی سودا بھی سَر میں باقی ہے
گو ستارے سجے ہیں پلکوں پر
ایک وحشت سی گھر میں باقی ہے
رو كے بھی جی نہیں ہوا ہلکا
کوئی کانٹا جگر میں باقی ہے
گھر اجڑ کر بسا تو ہے لیکن
ٹِیس دیوار و دَر میں باقی ہے
شوقِ منزل کو یہ کہاں پروا
کتنا رستہ سفر میں باقی ہے
آسمانوں کو آزما ، طائر
تاب گر بال و پر میں باقی ہے
کشتیاں زد میں آ كے ڈوب گئیں
اور تنکا بھنور میں باقی ہے
آندھیاں آئینگی کچھ اور ابھی
ایک پتہ شجر میں باقی ہے
کون کہتا ہے آج بھی عابدؔ
آدمیّت بشر میں باقی ہے
نیازمند،
عرفان عابدؔ
محمد عبدالرؤوف — نومبر 12، 2022 5:31 صبح
واہ واہ۔۔۔ اچھے اشعار ہیں ماشاءاللہ
ظہیراحمدظہیر — نومبر 12، 2022 5:47 صبح
واہ ! بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عرفان بھائی !
ویسے ٹیس والا مصرع مجھے کچھ غریب سا لگا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میں روایتی زبان برتنے کا عادی ہوں ۔ شعر کا مضمون اچھا ہے۔
سید عاطف علی — نومبر 12، 2022 5:59 صبح
اچھی غزل ہے ۔ سادگی کی کشش ہے بیان میں ۔
یاسر شاہ — نومبر 12، 2022 9:29 صبح
شوقِ منزل کو یہ کہاں پروا
کتنا رستہ سفر میں باقی ہے
واہ علوی صاحب ،بہت خوب۔
عرفان علوی — نومبر 12، 2022 5:11 شام
واہ واہ۔۔۔ اچھے اشعار ہیں ماشاءاللہ
بہت نوازش ، روفی بھائی !
عرفان علوی — نومبر 12، 2022 5:13 شام
واہ ! بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عرفان بھائی !
ویسے ٹیس والا مصرع مجھے کچھ غریب سا لگا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میں روایتی زبان برتنے کا عادی ہوں ۔ شعر کا مضمون اچھا ہے۔
ظہیر بھائی ، اظہار خیال اور داد كے لیے بے حد ممنون ہوں . بہت شکریہ !
عرفان علوی — نومبر 12، 2022 5:14 شام
اچھی غزل ہے ۔ سادگی کی کشش ہے بیان میں ۔
بڑی عنایت ، عاطف صاحب !
عرفان علوی — نومبر 12، 2022 5:15 شام
واہ علوی صاحب ،بہت خوب۔
بہت شکریہ ، یاسر صاحب !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B9%DA%A9%D8%B3-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C-%DB%81%DB%92.119004/