غزل : فلک پر چاندنی ہے اور ستارے رقص کرتے ہیں

محمد حفیظ الرحمٰن — ستمبر 30، 2014 11:26 صبح
غزل
از : محمد حفیظ الرحمٰن
فلک پر چاندنی ہے اور ستارے رقص کرتے ہیں
کسی کے حکم پر سارے کے سارے رقص کرتے ہیں
یہ کل شب بر سر پیکار تھے طوفاں کی موجوں سے
وہی جو آج دریا کے کنارے رقص کرتے ہیں
بہت عرصہ ہوا دیکھی تھی میں نے اک حسیں وادی
مری آنکھوں میں اب تک وہ نظارے رقص کرتے ہیں
نہ جانے آج کیسی لہر اس کے دل میں اٹھی ہے
سمندر جھومتا ہے اور کنارے رقص کرتے ہیں
یقیں ہے بزمِ انجم کا کوئی تو ایسا محور ہے
زمین و آسماں جس کے سہارے رقص کرتے ہیں​
ابن رضا — ستمبر 30، 2014 11:37 صبح
بہت خوب۔
زاہدایوب اعوان — ستمبر 30، 2014 11:43 صبح
ماشااللہ ۔۔بہت خوب۔۔
محمد حفیظ الرحمٰن — ستمبر 30، 2014 12:09 شام
بہت شکریہ جناب ابنِ رضا صاحب۔ کافی عرصے بعد اردو محفل میں حاضر ہوا تھا۔ حوصلہ افزائی سے خوشی ہوئی۔
محمد حفیظ الرحمٰن — ستمبر 30، 2014 12:11 شام
بہت بہت شکریہ جناب زاہد ایوب اعوان صاحب۔ بڑی نوازش۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 2، 2014 6:01 شام
بہت خوبصورت غزل ہے حفیظ۔ بہت داد قبول ہو۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 3، 2014 10:46 صبح
حوصلہ افزائی کے لیے بہت شکریہ خلیل بھائی۔ بڑی نوازش۔
الف عین — اکتوبر 4، 2014 2:53 صبح
اچھی غزل ہے لیکن اس سے بہتر غزلیں بھی کہہ چکے ہیں حفیظ۔ اس میں شاید ردیف نبھانے کی مجبوری رہی ہو گی۔
محمداحمد — اکتوبر 4، 2014 1:28 شام
بہت خوب حفیظ صاحب!
بہت اچھی غزل ہے۔
سید عاطف علی — اکتوبر 4، 2014 1:31 شام
کل شب۔ کی ترکیب ۔کچھ ناہموار سی لگی۔
اشعار اچھے ہیں ۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 9، 2014 7:34 صبح
استادِ محترم جناب اعجاز عبید صاحب حوصلہ افزائی کے لئےبہت بہت شکریہ۔ آیندہ مزید اچھا کہنے کی کوشش کروں گا۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 9، 2014 7:38 صبح
جناب محمد احمد صاحب۔ داد کے لیے شکریہ قبول کیجیے۔ بڑی نوازش۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%81%D9%84%DA%A9-%D9%BE%D8%B1-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%B1%D9%82%D8%B5-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.77888/