غزل: لاؤں میں ایسے لفظ کہاں سے ترے لیے

عاطف ملک — ستمبر 6، 2020 9:43 صبح
چند اشعار معزز اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہیں۔شاید کوئی شعر آپ کو پسند آ جائے۔

نکلے نہ ہوں کسی بھی زباں سے ترے لیے
لاؤں میں ایسے لفظ کہاں سے ترے لیے
جذبات جن کو دل میں چھپائے ہوئے تھا میں
نکھرے ہیں میرے حسنِ بیاں سے، ترے لیے
اک بار میرے دل میں ذرا جھانک کر تو دیکھ
چاہت ہے بڑھ کے تیرے گماں سے، ترے لیے
گِرنے پہ تھامنے کے لیے تُو جو ساتھ ہو
تنہا لڑوں گا سارے جہاں سے ترے لیے
عاطفؔ کے پاس جو بھی ہے، سب تجھ پہ ہے نثار
ہے کچھ دریغ دل سے نہ جاں سے، ترے لیے

عاطفؔ ملک
ستمبر ۲۰۲۰


سید عاطف علی — ستمبر 6، 2020 11:06 صبح
واہ۔ عاطف بھائی ۔ خوب ۔
عاطف ملک — ستمبر 6، 2020 7:10 شام
واہ۔ عاطف بھائی ۔ خوب ۔
بہت شکریہ محترمی:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%84%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D9%84%D9%81%D8%B8-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92.113113/