غزل: مجھ کو ہونے لگی پریشانی

مہدی نقوی حجاز — مارچ 31، 2014 1:24 شام
غزل
مجھ کو ہونے لگی پریشانی
دیکھ کر آپ کی پریشانی
مجھ سے کچھ دور پر رکی ہیں آپ
کوئی وحشت؟ کوئی پریشانی؟
آپ بھی چپ ہیں میں بھی ہوں خاموش
اس سے ہوگی پڑی پریشانی
آپ بھی آئیں گے، ارے چھوڑیں
ہے یہاں پہلے ہی پریشانی
پھر مجھے دیکھتی ہے مڑ مڑ کر
ہاتھ ملتی ہوئی پریشانی
عیش و راحت پہ طنز کرتا ہوں
میں کبھی اور کبھی پریشانی
گفتگو پھر حجازؔ کی مبہم
اور وہی تم وہی پریشانی
مہدی نقوی حجازؔ
نایاب — مارچ 31، 2014 1:43 شام
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
کیا خوب پریشانی بھری غزل ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد اس بھرپور اور مختصر غزل کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن رضا — مارچ 31، 2014 2:17 شام
خوب ہے آپ کی پریشانی
خود پریشاں ہوئی پریشانی
خوب است۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 31، 2014 2:22 شام
بہت ہی زبردست۔۔۔۔
ڈھیر ساری داد۔۔۔
عبدالحسیب — مارچ 31، 2014 5:20 شام
اور وہی تم وہی پریشانی :) :)
عمدہ تخلیق جناب :)
نوید رزاق بٹ — مارچ 31، 2014 9:12 شام
پھر مجھے دیکھتی ہے مڑ مڑ کر
ہاتھ ملتی ہوئی پریشانی
واہ، خوب انداز ہے :)
الف عین — اپریل 1، 2014 4:07 صبح
خوب۔
لیکن اس شعر پر دوبارہ غور کریں
عیش و راحت پہ طنز کرتا ہوں
میں کبھی اور کبھی پریشانی
ایک تو کبھی میں او کبھی‘ ہونا چاہئے۔ دوسرے اس صورت میں جو میں سمجھا ہوں، ’کرتا ہوں‘ کا صیغہ سوال اٹھاتا ہے
مہدی نقوی حجاز — اپریل 4، 2014 3:53 صبح
خوب۔
لیکن اس شعر پر دوبارہ غور کریں
عیش و راحت پہ طنز کرتا ہوں
میں کبھی اور کبھی پریشانی
ایک تو کبھی میں او کبھی‘ ہونا چاہئے۔ دوسرے اس صورت میں جو میں سمجھا ہوں، ’کرتا ہوں‘ کا صیغہ سوال اٹھاتا ہے
جی حضور اس مصرعے کو یوں بدل لیا گیا ہے:
عیش و راحت پہ طنز کرتے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92-%D9%84%DA%AF%DB%8C-%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%8C.73135/