غزل: مختصر ہر خواب کی تعبیر ہے

محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 27، 2020 9:12 صبح
عزیزانِ من، آداب!
ایک پرانی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر، امید ہے احباب اپنی ثمین آراء سے نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر ہر خواب کی تعبیر ہے
’ایک صورت ایک ہی تصویر ہے‘
سو رہو بھوکے، کہ اب اس شہر میں
جرمِ غربت کی یہی تعزیر ہے
جو ملے، تیری طرفداری کرے
تیری باتوں میں عجب تاثیر ہے!
مجھ میں لاکھوں عیب ہیں، لیکن حضور
آپ کی آنکھوں میں بھی شہتیر ہے!
میں غمِ جاناں میں مٹ سکتا نہیں
یہ غمِ دوراں جو دامن گیر ہے
کیا برا ہے گر یہیں بس جائیں آپ
میرا دل بھی آپ کی جاگیر ہے!
جبکہ سارے فیصلے مل کر کئے!
ہر خطا کیونکر مری تقصیر ہے؟
لوٹنے والے کو یوں دھتکارنا!
یہ تو راحلؔ عشق کی تحقیر ہے!
ظہیراحمدظہیر — جنوری 28، 2020 3:29 صبح
واہ! بہت خوب راحلؔ بھائی ! اچھی غزل ہے !
میں غمِ جاناں میں مٹ سکتا نہیں
یہ غمِ دوراں جو دامن گیر ہے
اچھا کہا ہے !
مجھ میں لاکھوں عیب ہیں، لیکن حضور
آپ کی آنکھوں میں بھی شہتیر ہے!
یہاں گڑبڑ کرگئے آپ ۔ :) محاورہ آنکھ میں شہتیر کا ہے ، آنکھوں میں شہتیر کا نہیں ۔اسے یوں کہنے میں کیا حرج ہے: آپ کی بھی آنکھ میں شہتیر ہے
راحل بھائی ، جبکہ سے مصرع شروع کرنا کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ چھوٹی بحر کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ چست بندش اور حشو و زوائد سے خلاصی مانگتی ہے ۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 28، 2020 8:22 صبح
واہ! بہت خوب راحلؔ بھائی ! اچھی غزل ہے !
میں غمِ جاناں میں مٹ سکتا نہیں
یہ غمِ دوراں جو دامن گیر ہے
اچھا کہا ہے !
مجھ میں لاکھوں عیب ہیں، لیکن حضور
آپ کی آنکھوں میں بھی شہتیر ہے!
یہاں گڑبڑ کرگئے آپ ۔ :) محاورہ آنکھ میں شہتیر کا ہے ، آنکھوں میں شہتیر کا نہیں ۔اسے یوں کہنے میں کیا حرج ہے: آپ کی بھی آنکھ میں شہتیر ہے
راحل بھائی ، جبکہ سے مصرع شروع کرنا کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ چھوٹی بحر کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ چست بندش اور حشو و زوائد سے خلاصی مانگتی ہے ۔

مکرمی و محترمی ظہیر بھائی، آداب!
آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لئے بے حد ممنون ہوں۔
ہمیشہ کی طرح آپ کے مراسلے سے سیکھنے کو ملا۔ جزاک اللہ۔
ان شاء اللہ آپ نے جن نکات کی نشاندہی کی ہے ان کی رعایت رکھوں گا۔
دعاگو،
راحل۔
اکمل زیدی — جنوری 28، 2020 10:35 صبح
عمدہ۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 28، 2020 10:37 صبح
بہت شکریہ زیدی صاحب، داد و پزیرائی کے لئے ممنون و متشکر ہوں۔
دعاگو،
راحل۔
احمد وصال — جنوری 29، 2020 3:50 شام
واااااااااااااہ واااااااااااااہ
چھوٹی بحر میں بہت عمدہ غزل
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 29، 2020 4:14 شام
واااااااااااااہ واااااااااااااہ
چھوٹی بحر میں بہت عمدہ غزل
بہت شکریہ وصال صاحب، داد و پذیرائی کے لئے شکرگزار ہوں۔
دعاگو،
راحل۔
Haider Sufi — دسمبر 26، 2020 5:05 شام
مختصر ہر خواب کی تعبیر ہے
’ایک صورت ایک ہی تصویر ہے‘
کیا کہنے واہ
مجھے بھی اک خواب کی تعبیر چاہیے کہاں سے ملے گی
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 27، 2020 8:14 صبح
داد و پذیرائی کے لیے شکرگزار ہوں۔ جزاک اللہ۔
مجھے بھی اک خواب کی تعبیر چاہیے کہاں سے ملے گی
یہ تو خواب کی نوعیت پر منحصر ہے :)
عرفان علوی — دسمبر 29، 2020 4:47 صبح
عزیزانِ من، آداب!
ایک پرانی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر، امید ہے احباب اپنی ثمین آراء سے نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر ہر خواب کی تعبیر ہے
’ایک صورت ایک ہی تصویر ہے‘
سو رہو بھوکے، کہ اب اس شہر میں
جرمِ غربت کی یہی تعزیر ہے
جو ملے، تیری طرفداری کرے
تیری باتوں میں عجب تاثیر ہے!
مجھ میں لاکھوں عیب ہیں، لیکن حضور
آپ کی آنکھوں میں بھی شہتیر ہے!
میں غمِ جاناں میں مٹ سکتا نہیں
یہ غمِ دوراں جو دامن گیر ہے
کیا برا ہے گر یہیں بس جائیں آپ
میرا دل بھی آپ کی جاگیر ہے!
جبکہ سارے فیصلے مل کر کئے!
ہر خطا کیونکر مری تقصیر ہے؟
لوٹنے والے کو یوں دھتکارنا!
یہ تو راحلؔ عشق کی تحقیر ہے!

راحل صاحب ، آداب عرض ہے!
لگتا ہے آپ فی الحال ہمیں پرانی غزلوں پرٹرخانے كے موڈ میں ہیں . چلیے، یوں ہی سہی .:) آپ کی غزل خوب ہے . داد حاضر ہے .
نیازمند،
عرفان عؔابد
احسن جاوید — دسمبر 29، 2020 5:49 صبح
کیا برا ہے گر یہیں بس جائیں آپ
میرا دل بھی آپ کی جاگیر ہے!
جبکہ سارے فیصلے مل کر کئے!
ہر خطا کیونکر مری تقصیر ہے؟
لوٹنے والے کو یوں دھتکارنا!
یہ تو راحلؔ عشق کی تحقیر ہے!
عمدہ اشعار۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 31، 2020 11:24 صبح
راحل صاحب ، آداب عرض ہے!
لگتا ہے آپ فی الحال ہمیں پرانی غزلوں پرٹرخانے كے موڈ میں ہیں . چلیے، یوں ہی سہی .:) آپ کی غزل خوب ہے . داد حاضر ہے .
نیازمند،
عرفان عؔابد
ہاہاہاہا ۔۔۔ یہ تو مراسلہ بھی کافی پرانا تھا ۔۔۔ پتہ نہیں حیدر صوفی صاحب کہاں سے ڈھونڈ نکال لائے ۔۔۔
داد و پذیرائی کے لیے سپاس گزار ہوں عرفانؔ بھائی۔ جزاک اللہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 31، 2020 11:25 صبح
بہت شکریہ جناب احسنؔ صاحب، جزاک اللہ۔
امین شارق — دسمبر 31، 2020 12:29 شام
عزیزانِ من، آداب!
ایک پرانی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر، امید ہے احباب اپنی ثمین آراء سے نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر ہر خواب کی تعبیر ہے
’ایک صورت ایک ہی تصویر ہے‘
سو رہو بھوکے، کہ اب اس شہر میں
جرمِ غربت کی یہی تعزیر ہے
جو ملے، تیری طرفداری کرے
تیری باتوں میں عجب تاثیر ہے!
مجھ میں لاکھوں عیب ہیں، لیکن حضور
آپ کی آنکھوں میں بھی شہتیر ہے!
میں غمِ جاناں میں مٹ سکتا نہیں
یہ غمِ دوراں جو دامن گیر ہے
کیا برا ہے گر یہیں بس جائیں آپ
میرا دل بھی آپ کی جاگیر ہے!
جبکہ سارے فیصلے مل کر کئے!
ہر خطا کیونکر مری تقصیر ہے؟
لوٹنے والے کو یوں دھتکارنا!
یہ تو راحلؔ عشق کی تحقیر ہے!
ہر کڑی اس غزل کی کیا خوب ہے
واہ کتنی خوبرو زنجیر ہے
واہ! بہت خوب راحلؔ بھائی ! اچھی غزل ہے !​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1-%DB%81%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D8%A8%DB%8C%D8%B1-%DB%81%DB%92.110200/