غزل: مرے نالے کو شکوہ مت سمجھنا!

مہدی نقوی حجاز — فروری 28، 2014 10:13 صبح
غزل
مجھے اوروں کے جیسا مت سمجھنا
مرے نالے کو شکوہ مت سمجھنا
یہ میری بات کی شفافیت ہے
اسے اپنا سمجھنا مت سمجھنا
خدا کا واسطہ دیتا ہوں تجھ کو
مجھے اپنی طرح کا مت سمجھنا
یہ میری دوستانہ عاجزی ہے
خدا کا ڈر ہے، ایسا مت سمجھنا
یہ میرے اندروں کی تلخیاں ہیں
مری باتوں کو میٹھا مت سمجھنا
ابھی دریا نہیں دیکھا ہے تم نے
اس اک چلو کو دریا مت سمجھنا
حجازؔ اک بات سن لو کان دھر کے
کسی شاعر کو اچھا مت سمجھنا
مہدی نقوی حجازؔ
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 28، 2014 10:43 صبح
حجازؔ اک بات سن لو کان دھر کے
کسی شاعر کو اچھا مت سمجھنا
سوائے ۔۔۔۔۔۔۔ کے۔ :)
بہت اچھی غزل ہے۔
مہدی نقوی حجاز — فروری 28، 2014 10:49 صبح
حجازؔ اک بات سن لو کان دھر کے
کسی شاعر کو اچھا مت سمجھنا
سوائے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ کے۔ :)
بہت اچھی غزل ہے۔
کسی پر زور ہے جناب! :)
شکریہ!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%84%DB%92-%DA%A9%D9%88-%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81-%D9%85%D8%AA-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%86%D8%A7.72477/