غزل: مرے نیمۂ گم شدہ لوٹ آؤ

مہدی نقوی حجاز — فروری 28، 2014 5:27 شام
غزل
میں تم بن ادھورا ہوا لوٹ آؤ
مرے نیمۂ گم شدہ لوٹ آؤ
بہارے ایسے جاتی ہے جیسے گئی تم
سو لوٹ آؤ پت جھڑ نما لوٹ آؤ
سنو اتنی تأخیر مت کرنا دیکھو
کہ آجائے مجھ کو قضا لوٹ آؤ
ابھی تک معطل ہے تدفین میری
کم از کم پڑھو فاتحہ لوٹ آؤ
تمہارے بگڑ کر چلے جانے سے بھی
نہیں مجھ کو کوئی گلہ لوٹ آؤ
نہیں لوٹتی جاں، مگر جانِ جاں تم
خدا را، بنامِ خدا لوٹ آؤ
میں اب تک وہیں کا وہیں جاوداں ہوں
پوَن لوٹ آؤ، ہوا لوٹ آؤ
سنو جانِ جاں میں نے اپنے بدن میں
اکیلے بہت رہ لیا، لوٹ آؤ
گذارش کہو یا کہو نوحہ خوانی
کہ سمجھو اسے التجا، لوٹ آؤ
تمہارے لیے آخری خط بھی میرا
دھرے کا دھرا رہ گیا لوٹ آؤ
سرِ مو سنا ہے؟! نہیں بدلا ہوگا
حجازؔ اتنا بھی، دیکھنا، لوٹ آؤ
مہدی نقوی حجازؔ
عظیم — مارچ 1، 2014 12:04 صبح
بہار ایسے جاتی ہے جیسے گئے تم
سو لوٹ آو پت جهڑ نما لوٹ آو
بہت خوب .. بہت سی داد قبول کیجئے
دعائیں
فاتح — مارچ 1، 2014 12:45 صبح
واہ واہ واہ کیا خوب غزل ہے۔۔۔ یہ دو اشعار تو لاجواب ہیں:
نہیں لوٹتی جاں، مگر جانِ جاں تم
خدا را، بنامِ خدا لوٹ آؤ
سنو جانِ جاں میں نے اپنے بدن میں
اکیلے بہت رہ لیا، لوٹ آؤ
مہدی نقوی حجاز — مارچ 1، 2014 2:34 صبح
بہار ایسے جاتی ہے جیسے گئے تم
سو لوٹ آو پت جهڑ نما لوٹ آو
بہت خوب .. بہت سی داد قبول کیجئے
دعائیں
بہت شکریہ جناب، آداب۔
مہدی نقوی حجاز — مارچ 1، 2014 2:34 صبح
واہ واہ واہ کیا خوب غزل ہے۔۔۔ یہ دو اشعار تو لاجواب ہیں:
نہیں لوٹتی جاں، مگر جانِ جاں تم
خدا را، بنامِ خدا لوٹ آؤ
سنو جانِ جاں میں نے اپنے بدن میں
اکیلے بہت رہ لیا، لوٹ آؤ
بہت آداب فاتح بھائی۔ آپ کی داد سند ہے۔ :)
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 1، 2014 4:19 صبح
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔۔۔۔
ماشاءاللہ لاقوۃ الا باللہ۔۔۔
مہدی بھائی! ”پت جھڑ نما“ ترکیب پر غور کرلیجیے گا۔
ابن رضا — مارچ 1، 2014 5:16 صبح
عمده است. شاد باشید
سید زبیر — مارچ 1، 2014 5:19 صبح
لا جواب کلام
نہیں لوٹتی جاں، مگر جانِ جاں تم
خدا را، بنامِ خدا لوٹ آؤ
سدا خوش رہیں
سید شہزاد ناصر — مارچ 1، 2014 5:28 صبح
بہت خوب
لوٹ آؤ کی تکرار خوب رہی
سادگی نے اشعار کا حسن نکھار دیا
یہ شعر تو بہت پسند آیا
سنو جانِ جاں میں نے اپنے بدن میں
اکیلے بہت رہ لیا، لوٹ آؤ
کیا ندرتِ خیال ہے اس شعر میں
اللہ کرے زور قلم زیادہ
مہدی نقوی حجاز — مارچ 1، 2014 6:52 صبح
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔۔۔ ۔
ماشاءاللہ لاقوۃ الا باللہ۔۔۔
مہدی بھائی! ”پت جھڑ نما“ ترکیب پر غور کرلیجیے گا۔
بہت شکریہ۔ یہ ترکیب مشکوک تھی ہی، سوچ رہا ہوں اس پر!
مہدی نقوی حجاز — مارچ 1، 2014 6:53 صبح
عمده است. شاد باشید
سلامت باشید۔ تشکر!
مہدی نقوی حجاز — مارچ 1، 2014 6:54 صبح
لا جواب کلام
نہیں لوٹتی جاں، مگر جانِ جاں تم
خدا را، بنامِ خدا لوٹ آؤ
سدا خوش رہیں
بہت شکریہ حضور۔ بہت آداب
مہدی نقوی حجاز — مارچ 1، 2014 6:56 صبح
بہت خوب
لوٹ آؤ کی تکرار خوب رہی
سادگی نے اشعار کا حسن نکھار دیا
یہ شعر تو بہت پسند آیا
سنو جانِ جاں میں نے اپنے بدن میں
اکیلے بہت رہ لیا، لوٹ آؤ
کیا ندرتِ خیال ہے اس شعر میں
اللہ کرے زور قلم زیادہ
جناب بہت آداب، بہت شکریہ۔ آپ کی محبت ہے۔
سید عاطف علی — مارچ 1، 2014 7:59 صبح
سنو جانِ جاں میں نے اپنے بدن میں
اکیلے بہت رہ لیا، لوٹ آؤ۔۔۔۔۔۔
مہدی بھائی ۔اگر چہ تنقید کا زمرہ نہیں مگر ایک اشارہ مناسب لگ رہا ہے۔۔۔۔
"رہ لیا" ۔۔کے ساتھ۔ "نے "۔ کا استعمال کچھ لہجے کو اہل زبان کے شستہ اسلوب کے منافی بنا رہاہے۔(یا صرف مجھے ہی لگ رہا ہے۔:))

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D9%86%DB%8C%D9%85%DB%81%D9%94-%DA%AF%D9%85-%D8%B4%D8%AF%DB%81-%D9%84%D9%88%D9%B9-%D8%A2%D8%A4.72485/